Banner

علم و دانش کا سفیر ڈاکٹر ندیم بھٹی

Share

Share This Post

or copy the link

علم و دانش کا سفیر
ڈاکٹر ندیم بھٹی

منشاقاضی
حسبِ منشا

علم محض کتابوں میں درج الفاظ کا نام نہیں بلکہ وہ زندہ شعور ہے جو انسان کے کردار کو جِلا بخشتا ہے اور قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ اسی زندہ شعور کے امین اور زمان و مکان کی حدوں کو پار کرنے والے ایک ایسے تعلیم دوست، مفکر اور بین الاقوامی دانشور کا نام ڈاکٹر ندیم بھٹی ہے۔ وہ ایک پاکستانی و کینیڈین ماہرِ تعلیم، مقرر، مفکر اور عملی انسان ہیں، جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف خطّوں میں علم کی شمعیں روشن کیں اور ایک ایسی فکری و تعلیمی روایت قائم کی جو سرحدوں سے آزاد ہے۔
ڈاکٹر ندیم بھٹی اس وقت لاہور لیڈز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔ ان کا سفرِ حیات کسی افسانے سے کم نہیں۔ ایشیا، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا کی علمی و فکری فضاؤں میں سانس لیتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی سطح پر نصاب کی تشکیل، تدریسی اسلوب، اور کثیرالثقافتی تعلیمی ماڈلز کو ایک نئی جہت بخشی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں International Association of University Presidents (IAUP) کا فعال رکن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
آسٹریلیا کی سرزمین پر انہوں نے فلنڈرز یونیورسٹی کے اکیڈمک سینیٹ میں بطور رکن اپنی علمی بصیرت سے ادارے کی سمت متعین کی۔ یونیورسٹی آف نیو انگلینڈ میں انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کے صدر منتخب ہو کر انہوں نے اس بات کو ثابت کیا کہ قیادت کا جوہر صرف قومیت کا مرہونِ منت نہیں بلکہ وژن، خدمت اور صلاحیت کا نتیجہ ہے۔
کینیڈا میں انہوں نے ٹورنٹو کی ایک بڑی تربیتی درسگاہ میں بطور فیکلٹی ہیڈ خدمات انجام دیں۔ وہاں وہ ایسے قوانین کے نفاذ کے ذمے دار رہے جو اعلیٰ تعلیم، ہنر مندوں کی تربیت، معیارِ تعلیم اور حکمتِ عملی سے متعلق تھے۔ یہ خدمات صرف تدریس تک محدود نہ تھیں بلکہ قوموں کے مستقبل کی تعمیر میں ایک بنیاد کا درجہ رکھتی ہیں۔
سعودی عرب میں بطور سینئر کنسلٹنٹ وزارتِ خزانہ، تجارت و صنعت کے ساتھ ان کی وابستگی Vision 2030 کے تناظر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہاں انہوں نے نہ صرف افرادی قوت کی تربیت کے نئے منصوبے شروع کروائے بلکہ سعودی عرب اور فرانس کے مابین تعلقات استوار کرنے والی کمیٹی کے رکن بھی رہے۔
پاکستان کی فضا بھی ان کی علمی خدمات کی خوشبو سے محروم نہ رہی۔ جامعہ پنجاب میں بطور ہیڈ آف فیکلٹی تدریس ان کا پہلا تجربہ تھا۔ اسی جامعہ کے اکیڈمک سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے ملک کے تعلیمی نظام کے لیے گراں قدر کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر ندیم بھٹی نے آسٹریلیا سے پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اُن کے تحقیقی و تدریسی موضوعات وسیع ہیں جن میں بزنس، ہیومن ریسورس، مارکیٹنگ، مینجمنٹ اور تنظیمی رویے نمایاں ہیں۔ امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے حاصل کردہ Higher Education Teaching Certificate نے ان کی تعلیمی بصیرت کو مزید وسعت بخشی۔ کینیڈا میں وہ Certified Training and Development Professional کے رکن ہیں اور بینکوں، صنعتوں، ایئرلائنز، آئی ٹی کمپنیوں، ٹیلی کمیونیکیشن، ہیلتھ کیئر اور تعلیمی اداروں کے لیئے ایک ممتاز ایگزیکٹو ٹرینر کے طور پر اپنی صلاحیتیں منوا چکے ہیں۔
ڈاکٹر ندیم بھٹی کی شخصیت علم و عرفان کی اُس روشنی کا استعارہ ہے جو طلبہ، اساتذہ اور اداروں کو نئی سمت عطا کرتی ہے۔ اُن کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی وقار، فکری آزادی اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔ اُن کے علمی و فکری سفر میں ایک ایسا پیغام مضمر ہے جو پاکستان کی نوجوان نسل کو اپنے امکانات پہچاننے اور عالمی برادری میں سربلند ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر ندیم بھٹی ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریہ ہیں—ایک ایسا نظریہ جو علم کو کائناتی طاقت سمجھتا ہے اور تعلیم کو تہذیبوں کے مابین ایک پُل کی صورت میں دیکھتا ہے۔ سی ٹی این فورم کے پلیٹ فارم پر آپ عبقری شخصیات سے خطاب کر چکے ہیں ۔

علم و دانش کا سفیر ڈاکٹر ندیم بھٹی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us