Banner

دورِ حاضر میں انسانیت کے زخم اور نسل کشی کے المیے

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظرنامہ

دورِ حاضر میں انسانیت کے زخم اور نسل کشی کے المیے

قارئین صحافت ۔ آج کی دنیا جہاں سائنسی ترقی اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوؤں سے گونج رہی ہے وہیں زمین کے کئی خطے انسانی خون سے رنگین ہیں اور طاقتور ممالک کے مفادات نے انسانیت کو سسکنے پر مجبور کر دیا ہے۔اس وقت عالمی منظر نامے پر سب سے ہولناک صورتحال فلسطین بالخصوص غزہ میں نظر آتی ہے جہاں اسرائیلی جارحیت نے انسانی حقوق کے تمام عالمی قوانین کو پیروں تلے روند دیا ہے اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسے نسل کشی قرار دینے کی کارروائی جاری ہے۔غزہ میں معصوم بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کا قتلِ عام، ہسپتالوں کی تباہی اور خوراک و ادویات کی بندش نے ایک ایسی انسانی تباہی کو جنم دیا ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ملتی ہے جہاں ایک پوری قوم کو ان کی سرزمین سے مٹانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔اسی طرح جنوبی ایشیاء میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دہائیوں سے حل طلب ہے جہاں بھارتی تسلط کے تحت کشمیری عوام اپنی خودارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہاں کی آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں، ماورائے عدالت قتل اور طویل لاک ڈاؤن انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں شمار ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔مشرقی ایشیاء کی بات کی جائے تو میانمار (برما) کے روہنگیا مسلمان دنیا کی مظلوم ترین اقلیت بن چکے ہیں جنہیں منظم فوجی آپریشنز کے ذریعے ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، ان کی بستیوں کو جلایا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں انہیں ہجرت پر مجبور کیا گیا جسے اقوامِ متحدہ نے نسل کشی کی واضح مثال قرار دیا ہے اور آج بھی لاکھوں روہنگیا بنگلہ دیش کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔چین کے سنکیانگ صوبے میں ایغور مسلمانوں کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے جہاں مختلف رپورٹس کے مطابق ان کی مذہبی و ثقافتی شناخت کو مٹانے کے لیے کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور جبری مشقت سمیت نسل کشی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں جو عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔افریقہ کا براعظم بھی شورشوں اور انسانیت سوز مظالم سے پاک نہیں ہے جہاں سوڈان میں جاری خانہ جنگی نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے اور دارفر کے علاقے میں نسلی بنیادوں پر قتل و غارت گری کا سلسلہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے جس میں مختلف قبائل کو نشانہ بنا کر انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ایتھوپیا کے ٹگرے ریجن میں بھی طویل عرصے تک انسانی حقوق کی پامالیاں سامنے آتی رہی ہیں جہاں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا اور بڑے پیمانے پر قتلِ عام کی اطلاعات موصول ہوئیں جو عالمی برادری کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔جمہوریہ کانگو میں معدنیات کی لوٹ مار اور مسلح گروہوں کی جنگ نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا ہے جہاں جنسی تشدد اور بچوں کو جبری طور پر فوج میں شامل کرنا معمول بن چکا ہے اور انسانیت روز مرتی ہے۔یوکرین اور روس کی جنگ نے نہ صرف یورپ بلکہ عالمی معیشت اور انسانی تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے جہاں شہروں کی تباہی اور لاکھوں افراد کی نقل مکانی نے ایک نیا پناہ گزین بحران پیدا کر دیا ہے اور جنگی جرائم کے الزامات دونوں جانب سے سامنے آ رہے ہیں۔یمن میں سالہا سال سے جاری جنگ نے دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا کیا جہاں کروڑوں لوگ قحط اور بیماریوں کا شکار ہوئے اور عالمی طاقتوں کے اسلحے نے یمنی عوام کے مستقبل کو راکھ بنا دیا جس پر عالمی اداروں کی خاموشی مجرمانہ ہے۔افغانستان میں دہائیوں کی جنگ کے بعد اب بھی معاشی پابندیوں اور انسانی حقوق بالخصوص خواتین کی تعلیم و آزادی پر قدغنوں نے انسانی بحران کو برقرار رکھا ہے جہاں عام آدمی دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔آسام (بھارت) میں شہریت کے متنازع قوانین کے ذریعے اقلیتوں کو بے دخل کرنے کے خدشات اور مذہبی انتہاء پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی ایک مخصوص طبقے کے خلاف منظم نفرت کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں جو مستقبل میں نسل کشی کی علامات ہو سکتی ہیں۔ان تمام حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے ادارے صرف طاقتور ممالک کے مفادات کی نگہبانی کر رہے ہیں جبکہ کمزور قوموں اور اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کے بجائے صرف مذمتی بیانات پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔دنیا کا کوئی بھی ملک ہو جہاں نسلی، لسانی یا مذہبی بنیاد پر انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے وہ عالمی ضمیر پر ایک بوجھ ہے اور جب تک انصاف کے دوہرے معیار ختم نہیں ہوں گے تب تک انسانیت کے خلاف ان جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری جغرافیائی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی جان کی حرمت کو مقدم سمجھے اور جہاں کہیں بھی نسل کشی یا انسانیت کے خلاف جرائم ہو رہے ہوں وہاں آہنی ہاتھوں سے مداخلت کر کے مظلوموں کو ان کا حق دلایا جائے ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کیونکہ خاموشی بھی ظالم کی حمایت کے مترادف ہوتی ہے۔

دورِ حاضر میں انسانیت کے زخم اور نسل کشی کے المیے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us