Banner
Daily Sahafat Quetta
September 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ساؤتھ ایشین فیسٹول بخیر و خوبی جاری و ساریپشین : پشین چیمبر اف کامرس ایند اندسٹری بلوچستان کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیازیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمیساؤتھ ایشین فیسٹول بخیر و خوبی جاری و ساریپشین : پشین چیمبر اف کامرس ایند اندسٹری بلوچستان کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیازیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمی

قانونِ طاقت یا طاقت کا قانون

محمدنسیم رنزوریار

قانونِ طاقت یا طاقت کا قانون

قارئین کرام ۔ قانونِ طاقت اور طاقت کا قانون بظاہر ایک جیسے الفاظ لگتے ہیں لیکن ان کے درمیان انسانی تہذیب کی بقاء اور بربادی کی پوری تاریخ پوشیدہ ہے۔قانونِ طاقت (Rule of Law) سے مراد ایک ایسا نظام ہے جہاں ضابطہ، عدل اور برابری سب سے مقدم ہو اور معاشرے کا ہر فرد، چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، قانون کے تابع ہو جبکہ اس کے برعکس طاقت کا قانون (Law of Might) اس جنگلی طرزِ عمل کا نام ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کارفرما ہوتا ہے اور کمزور کی زندگی و بقاء صرف طاقتور کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔تاریخی تسلسل میں دیکھیں تو انسانیت کا ابتدائی دور طاقت کے قانون سے عبارت تھا جہاں قبائلی سردار اور جنگجو اپنی جسمانی قوت اور عسکری برتری کی بنیاد پر فیصلے کرتے تھے اور اس دور میں انسانی حقوق کا کوئی تصور موجود نہ تھا لیکن جوں جوں شعور نے ترقی کی، انسان نے محسوس کیا کہ طاقت کا قانون معاشرے میں عدم استحکام اور مسلسل خوف پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں قدیم بابل کے حمورابی ضابطوں سے لے کر میگنا کارٹا اور پھر جدید دور کے عالمی چارٹر تک قانونِ طاقت کی بنیاد رکھی گئی۔قانونِ طاقت کے فوائد بے شمار ہیں کیونکہ یہ معاشرے میں امن، تحفظ اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے، یہ کمزور کو طاقتور کے استحصال سے بچاتا ہے اور معاشی ترقی کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جہاں سرمایہ اور جان و مال محفوظ رہتے ہیں لیکن اس کے برعکس جب طاقت کا قانون غالب آتا ہے تو اس کے نقصانات تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سلطنتوں نے اخلاقی ضابطوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف عسکری طاقت کو اپنا خدا بنایا، ان کا انجام عبرت ناک ہوا؛ چاہے وہ چنگیز خان کی بربریت ہو یا ہٹلر کی نسل پرستانہ جارحیت، طاقت کے نشے میں چور ان قوتوں نے کروڑوں انسانوں کو لقمہ اجل بنا دیا مگر آخر کار خود بھی تاریخ کے کوڑے دان میں جا گریں۔عالمی واقعات پر اگر آج ہم نظر دوڑائیں تو اقوامِ متحدہ کے قیام کا مقصد قانونِ طاقت کو عالمی سطح پر رائج کرنا تھا تاکہ جنگوں کا راستہ روکا جا سکے لیکن عملی طور پر آج بھی طاقت کا قانون ویٹو پاور اور جدید اسلحے کی صورت میں بڑے ممالک کے ہاتھوں میں ایک مہلک ہتھیار کے طور پر موجود ہے جو بین الاقوامی قوانین کو اپنے مفادات کے لیے موم کی ناک بنا لیتے ہیں۔غزہ، کشمیر اور دنیا کے دیگر خطوں میں جاری ظلم و ستم دراصل طاقت کے قانون کی بدترین مثالیں ہیں جہاں عالمی ضابطے طاقتور کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور انسانیت ایک بار پھر اس تاریک دور کی طرف لوٹتی محسوس ہوتی ہے جہاں انصاف کا معیار صرف فوجی برتری ہے۔قانونِ طاقت کی بقاء صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اسے بغیر کسی تفریق کے نافذ کیا جائے کیونکہ جب قانون صرف کمزور کے لیے ہو اور طاقتور اس سے مبرا، تو وہ خود طاقت کا قانون بن جاتا ہے جو کسی بھی تہذیب کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے کافی ہے۔تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ پائیدار امن اور ترقی صرف اسی معاشرے یا دنیا کا مقدر بنتی ہے جہاں حق کو طاقت حاصل ہو، نہ کہ جہاں طاقت کو حق سمجھ لیا جائے۔آج کی دنیا کو اگر تیسری عالمی جنگ اور مکمل تباہی سے بچنا ہے تو اسے جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہو کر ایک ایسے عالمی قانونِ طاقت کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو انسان کو رنگ، نسل اور مذہب کے بجائے صرف انسان ہونے کی بنیاد پر تحفظ فراہم کرے ورنہ طاقت کا قانون تاریخ کی طرح ایک بار پھر انسانی بستیوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دے گا اور آنے والی نسلیں ہمیں صرف ایک سفاک اور بے حس عہد کے طور پر یاد رکھیں گی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *