Banner

شانِ صحافت حقِ مزدور 3 مئی کو کورنگی پریس کلب کی تقریب میں شرکت کریں

Share

Share This Post

or copy the link

شانِ صحافت حقِ مزدور 3 مئی کو کورنگی پریس کلب کی تقریب میں شرکت کریں

تحریر: محمد عبيدالله میرانی

کراچی کا صنعتی مرکز کورنگی جہاں لاکھوں محنت کشوں کے پسینے سے ملکی معیشت کا پہیہ رواں دواں ہے وہاں کورنگی پریس کلب کی صورت میں ایک ایسی توانا اور جرات مند آواز گونج رہی ہے جس نے صحافت کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک بنا دیا ہے آنے والی 3 مئی کو یومِ عالمی صحافت اور یومِ مزدور کی مشترکہ تقریب دراصل اسی فکری تسلسل کا اظہار ہے جس کی بنیاد غیر متزلزل استقامت اور جراتِ رندانہ پر رکھی گئی ہے اس ادارے کی تاریخ کا ورق الٹیں تو وہ ہولناک منظر سامنے آتا ہے جب کورنگی کا ضلع بننا ابھی ابتدائی مراحل میں تھا اور یہ خطہ بوری بند لاشوں ٹارگٹ کلنگ اور لہو رنگ فسادات کی لپیٹ میں تھا وہ ایک ایسا جاں گسل دور تھا جب یہاں گنتی کے چند صحافی موجود تھے جن میں سے کچھ راہیِ ملکِ عدم ہوئے کچھ نے ہجرت کی مصلحت اپنائی تو کچھ مصلحتِ وقت کے تحت خاموشی کی چادر اوڑھ کر گوشہ نشین ہو گئے ایسے مخدوش حالات میں جب زبان کھولنے کا مطلب موت کو دعوت دینا تھا بانی و چیئرمین اوشاق علی میرانی نے قلم کی حرمت کا علم بلند کیا انہوں نے کورنگی پریس کلب کی بنیاد رکھ کر نہ صرف ضلع میں صحافت کو نئی جہت عطا کی بلکہ مزاحمت کی وہ شمع فروزاں کی جس نے جبر کی تاریک رات میں روشنی کا کام کیا حرفِ حق کی یہ مسافت پھولوں کی سیج ثابت نہ ہوئی گزشتہ گیارہ سالہ تاریخ گواہ ہے کہ کورنگی پریس کلب کو کسی بھی دورِ حکومت میں ایک روپے کا سرکاری فنڈ فراہم نہیں کیا گیا اس کے باوجود یہ ادارہ کسی سرکاری گرانٹ یا بیرونی بیساکھیوں کا محتاج بنے بغیر اپنی مدد آپ کے تحت 14 اگست کی قومی تقریبات سندھی ثقافت کے رنگ مزدور کے حقوق کے لیے عالمی مزدور ڈے کی تقریبات سمیت صحافتی پروگرام اور دیگر سماجی پروگرام منعقد کر کے اپنی خود مختاری کا لوہا منوا رہا ہے یہ فنڈز کی کمی نہیں بلکہ ارادوں کی پختگی ہے جس نے اس کلب کو آج بھی قائم و دائم رکھا ہوا ہے ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ عناصر جو کبھی اسی کلب کی آغوش میں پلے اسی پلیٹ فارم سے اپنی شناخت بنائی اور کل تک جو اس کلب کے گن گاتے نہیں تھکتے تھے آج وہی ذاتی عناد اور مفادات کی خاطر اس ادارے کی بیخ کنی پر تلے ہوئے ہیں افسوس ناک امر یہ ہے کہ کچھ نام نہاد صحافی اب اس معتبر ادارے کے مقابلے میں متوازی دفاتر قائم کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں، تاکہ ضلع کی صحافتی طاقت کو تقسیم کیا جا سکے حد تو یہ ہے کہ چند مالدار اور مفاد پرست عناصر غریب صحافیوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر انہیں خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں اپنے ہی محسن ادارے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں لیکن یہ یاد رکھا جائے کہ ضمیر خریدنے والے اور مصنوعی دفاتر بنانے والے کبھی عوامی عدالت میں سرخرو نہیں ہو سکتے کورنگی پریس کلب نے وہ سیاہ دن بھی جھیلے ہیں جب حق گوئی کے پاداش میں اس پر دشنام طرازی کی گئی، بزدلانہ حملے ہوئے اور فائرنگ کے ذریعے قلم کے سپاہیوں کو ہراساں کرنے کی کوششیں ہوئیں یہاں تک کہ صحافیوں کی غیر موجودگی میں دفتر کی حرمت پامال کی گئی اور کلب کے معتبر نام کو لوٹ مار کے لیے استعمال کیا گیا مگر آفریں ہے چیئرمین اوشاق علی میرانی اور ان کے پُرعزم ساتھیوں پر جن کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی اور انہوں نے ثابت کر دیا کہ بکاؤ مال اور کرائے کے دفاتر کبھی نظریات کا مقابلہ نہیں کر سکتے 3 مئی کی یہ پُروقار تقریب جس میں تمام سیاسی سماجی کاروباری اور مذہبی مکاتبِ فکر کی نمائندگی ہوگی اس امر کی شاہد ہے کہ کورنگی پریس کلب پورے ضلع کا دھڑکتا ہوا دل ہے یہ پروگرام ان ہاتھوں کو سلامِ عقیدت ہے جو اوزار اٹھاتے ہیں اور ان انگلیوں کو خراجِ تحسین ہے جو سنگین حالات اور بکاؤ عناصر کے پروپیگنڈے کے باوجود حق کی خاطر قلم چلاتی ہیں آپ تمام کالم کا مطالعہ کرنے والوں کی شرکت کی گزارش کی جاتی ہے یاد رہے اس تقریب میں نمایا خدمات سرانجام دینی والی شخصیات کو مورڑو میربحر ایوارڈ سے بھی نوازہ جائے گا آپ کی شرکت ہمارے لیے باعث فخر ہوگی کورنگی پریس کلب زندھ آباد صحافت پائندہ آباد

شانِ صحافت حقِ مزدور 3 مئی کو کورنگی پریس کلب کی تقریب میں شرکت کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us