Banner
Daily Sahafat Quetta
September 17, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
لاک ڈاؤن کسی صورت قبول نہیں، تاجروں پر پابندیاں ناقابلِ برداشت ہیں، کاشف حیدریفیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر مشاورتپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہکراچی میں بینک بھی لوٹے جاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں، گورنر بلوچستاننوحصار پولیس کی کارروائی، موٹر سائیکل چوری میں ملوث 3 ملزمان گرفتارآواران میں 3 دہشتگرد ہلاک، سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل تحسین ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صحافی پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درجآبنائے ہرمز کے قریب امریکی عملے والے جہاز پر ایرانی حملہ، متعدد افراد زخمیفیلڈ مارشل کے حوالے سے بیان پر دلی افسوس ہے، نثار کھہڑوبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 3 دہشتگرد ہلاک، بھاری اسلحہ برآمدلاک ڈاؤن کسی صورت قبول نہیں، تاجروں پر پابندیاں ناقابلِ برداشت ہیں، کاشف حیدریفیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر مشاورتپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہکراچی میں بینک بھی لوٹے جاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں، گورنر بلوچستاننوحصار پولیس کی کارروائی، موٹر سائیکل چوری میں ملوث 3 ملزمان گرفتارآواران میں 3 دہشتگرد ہلاک، سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل تحسین ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صحافی پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درجآبنائے ہرمز کے قریب امریکی عملے والے جہاز پر ایرانی حملہ، متعدد افراد زخمیفیلڈ مارشل کے حوالے سے بیان پر دلی افسوس ہے، نثار کھہڑوبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 3 دہشتگرد ہلاک، بھاری اسلحہ برآمد

ذرا نم ھو تو بڑی زرخیز ھے یہ مٹی


شکیل گوندل۔
الحمد للہ ھم مسلمان قوم ھیں اور ماشاءاللہ اس پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ھیں۔
اللہ رب العزت اپنے تمام بندوں سے ایک ماں سے کئی گنا زیادہ پیار فرماتے ھیں جبکہ ھمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تمام بندوں سے ھی نہیں بلکہ تمام نبیوں اور پیغمبروں سے زیادہ پیار فرمانے کے ساتھ انکی دعاوں کے طفیل انھیں روز محشر کو گناھگاروں کی شفاعت کی خصوصی عطا سے بھی نواز دیا ھے۔اس کی ایک دلیل یہ بھی ھے کہ اپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو محبوب خدا کے عظیم لقب سے اللہ تعالیٰ نے نوازا ھے۔معراج کی رات اپ کو جو خصوصی عطا اور عرفان عطا فرمایا گیا اس تک کوئی اور نبی نہیں پہنچ سکا۔سورت النجم کی آ یت نمبر 9 میں اللہ کریم اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے درمیان قربت کو “قاب قوسین” یعنی دو کمانوں کے برابر فاصلہ سے ذکر فرمایا گیا۔
الحمدللہ ھم رب العزت کے انھیں پیارے نبی کی امت ھیں۔
قیامت برپا ھوتے وقت اللہ جل جلا لہ کا غضب انتہا پر ھو جائے گا حتی کہ تمام کائنات تباہ و برباد ھو جائے گی اور تمام انسان و جاندار موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔حساب کتاب کے بعد سب کو جزا اور سزا ھو جائے تو پھر آ ہستہ رحمت الہی غضب پر حاوی ھوتی جائے گی تو پھر بہانے بہانے سے بخشش عطا ھوتی جائے گی یہاں تک کہ تمام امت محمدی جنت میں داخل فرما دی جائے گی۔( میری امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے ان کے جنھوں نے انکار کیا۔بخاری شریف۔)
الحمدللہ پاکستان ایک اسلامی ملک ھے اس میں اکثریت توحید اور رسالت پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں کی ھے۔
من حیث القوم ھم جب ڈٹ جاتے ھیں تو ھمارے اندر مر مٹنے کا شوق موجزن ھو جاتا تو ھم ھندو اور انگریز تو کیا ھم دنیا کی کسی قوم کے زیر نگین نہیں رھتے۔ھماری تاریخ کشتیاں جلانے سمندر میں گھوڑے دوڑانے اور جسموں سے بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ جانے کی مثالوں سے مزین ھے۔
ھر انسان میں بشری کمزوریاں موجود ھیں۔
من حیث القوم ھمارے اندر بھی بہت کمزوریاں اور قباحتیں ھیں جنھوں نے ھمارے قومی تشخص کو بے حد متاثر کیا ھے۔اس کے باوجود جب بھی کڑا وقت آیا تو قوم نے بیان المرصوص کی مثال دنیائے عالم کے سامنے پیش کر دی۔
میں 2005 میں جب مکہ مکرمہ گیا تو وھاں اٹھارہ سال سے بسلسلہ روزگار مقیم پاکستانی بشیر نے بتایا کہ پاکستانیوں کی قباحتوں اور خرابیوں کے باوجود عربی حرم شریف میں کام کے لئے پاکستانیوں کو ھی ترجیح دیتے ھیں اس نے بتایا کہ ایک دفعہ بیت اللہ شریف میں اندر کی طرف نئی دیواریں اور فرش کی تعمیر کے لئے پاکستانیوں کی اکثریت کو چنا گیا جس میں بشیر کی خوش قسمتی کہ اس کی ڈیوٹی اندر سے اتارے گئے پتھر کے بڑے بلاکوں کو آب زم زم سے دھو کر دوبارہ لگانے کے لئے چاک سے نمبر لگانے کی تھی۔پہلے تو مجھے اس کی بات کا یقین نہیں آ یا مگر ایک دن میں باب الفتح کے سامنے لائبریری میں گیا تو وھاں خانہ کعبہ کے اندر کام کی تصاویر دیکھ کر مجھے بشیر کی بات درست لگی۔اس نے بتایا یہ کام نہایت خاموشی سے کیا گیا اور کام کرنے والوں کا انتخاب بھی بہت دھیان سے کیا گیا کیونکہ تشہیر سے کعبہ کی حرمت متاثر ھونے کا اندیشہ تھا۔
ھم جانتے ھیں کہ عربی ھمارے سیاہ کارناموں کی وجہ سے ھمیں پسند نہیں کرتے۔کسی زمانے وہ اظہار نفرت سے پاکستانیوں کو” رفیق” کہا کرتے تھے مگر یہ تصویر کا ایک رخ ھے جبکہ دوسرا رخ یہ ھے کہ اسلامی طاقت ھونے کی وجہ سے عربی ھماری عزت بھی بے حد کرتے ھیں۔2005 میں جب ھم قریبا دس ادمی مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ ا رھے تو کوسٹر کے ڈرائیور نے عربی میں پوچھا کہ تم کون ھو؟ میں نے” کل من الباکستان” یہ سنتے ھی عربی کھل اٹھا اور کہنے لگا” انت کل باکستانی انت مضبوط۔باکستان ایتمی طاقت۔کل مضبوط۔” ھمیں پتا چلا کہ عربی پاکستان کے مضبوط عسکری و ایٹمی طاقت ھونے پر فخر کرتے ھیں اور پاکستانیوں کا یہ رخ بہت پسند کرتے ھیں۔
اسی طرح جب 20 نومبر 1979 کو 500 بد بخت شر پسندوں نے بیت اللہ پر قبضہ کرلیا تو یہ پاکستانی کمانڈو ھی تھے جنھوں نے بغیر خون بہائے تمام بد بخت شرپسندوں کو گرفتار کر لیا۔اس عظیم کار نامے کو سعودی عرب سمیت تمام اسلام ممالک نے داد و تحسین کی نظروں سے دیکھا۔
حال ھی میں دیکھ لیں کہ حقیقت میں پاکستان کا نہایت بد ترین دشمن اور بظاھر ناقابل اعتبار دوست امریکہ بھی پاکستانی قوم کو اسکی قباحتوں کے باوجود اسے ثالثی کا اھم کردار ادا کرنے پر بخوشی رضامندی ظاھر کر کے مذاکرات میں نمائندگی کے لئے نائب صدر کو بھیجا۔یہ الگ بات ھے کہ امریکہ کی ھٹ دھرمی اور عیاری نے کسی پر امن حل کی طرف پیش رفت نہ ھونے دی مگر پاکستان کے کردار کو سراھا۔جس پر ھندوستان میں ذلت اور شرمندگی کا برملا اظہار اس کی ازلی تلملاھٹ کو عیاں کر رھا ھے۔
نباض ملت شاعر مشرق جناب علامہ اقبال رحمتہ اللہ نے قوم کی ایسی ھی خوبیوں کو بھانپ کر فرما گئے تھے:-
“نہیں ھے نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے۔
ذرا نم ھو تو بڑی زرخیز ھے یہ مٹی ساقی۔”

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *