Banner

انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں شجرکاری مہم کا شاندار پر وقار تقریب ایڈیشنل سیکریٹری جنگلات منیر احمد موسیانی کی خصوصی شرکت

Share

Share This Post

or copy the link

انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں شجرکاری مہم کا شاندار پر وقار تقریب ایڈیشنل سیکریٹری جنگلات منیر احمد موسیانی کی خصوصی شرکت
رپوٹ، صدیق موسیانی
انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (IPH) کوئٹہ میں گزشتہ روز ایک شاندار اور باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد “بلوچستان اسپرنگ پلانٹیشن ڈرائیو 2026” کے تحت شجرکاری مہم کا آغاز اور ماحولیاتی و ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دینا تھا۔تقریب کے مہمانِ خاص جناب منیر موسیانی (ایڈیشنل سیکرٹری، محکمہ جنگلات) تھے۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی تقریب کے دوران شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جس کے تحت آئی پی ایچ کے احاطے میں مختلف اقسام کے پودے اور درخت لگائے گئے۔ شرکاء نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ شجرکاری کے اس عمل کو مسلسل اور وسیع پیمانے پر جاری رکھا جائے گا تاکہ ماحول کو بہتر، سرسبز اور صحت مند بنایا جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ درخت اور سرسبز ماحول نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ انسانی ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری ذہنی دباؤ، اضطراب اور تناؤ میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوتی ہے، لہٰذا ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔شرکاء نے اس مہم کو سراہتے ہوئے جناب منیر موسیانی سے درخواست کی کہ اس شجرکاری پروگرام کو مختلف سرکاری و نجی اداروں تک بھی وسعت دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ادارے اس کارِ خیر میں حصہ لے سکیں۔
تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کوئٹہ، ڈاکٹر طاہرہ بلوچ نے ادارے کے اغراض و مقاصد، خدمات اور اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے آئی پی ایچ کے مختلف شعبہ جات کا مہمانوں کو دورہ بھی کروایا اور ادارے کے کردار کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ اس موقعے پر ڈپٹی سیکرٹری فارسٹ ڈیپارٹمنٹ جناب منیر احمد موسیانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا میں ڈاکٹر طاہرہ بلوچ اور ان کی پوری ٹیم کو اس خوبصورت اور بامقصد تقریب کے انعقاد پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج ہم جس “بلوچستان اسپرنگ پلانٹیشن ڈرائیو 2026 کا آغاز یہاں سے کر رہے ہیں، یہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جو ہمارے ماحول، ہماری صحت اور ہمارے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔آج دنیا جس تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہو رہی ہے، وہ ہم سب کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی، آلودگی اور جنگلات کی کٹائی وہ مسائل ہیں جنہوں نے ہمارے خطے کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے میں شجرکاری ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔میں محکمہ جنگلات کی جانب سے یہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ ہم اس طرح کی تمام کاوشوں کو مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ ہمارا ہدف صرف درخت لگانا نہیں بلکہ انہیں محفوظ بنانا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز بلوچستان چھوڑنا ہے۔
یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ درخت صرف ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی صحت، خصوصاً ذہنی صحت کے لیے بھی بے حد ضروری ہیں۔ ایک صاف، سرسبز اور پرسکون ماحول انسان کے ذہن پر مثبت اثر ڈالتا ہے اور اس کے اندر امید، سکون اور توانائی پیدا کرتا ہے۔میں یہاں موجود تمام اداروں، خاص طور پر تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور فلاحی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مہم کو اپنے اپنے اداروں تک وسعت دیں۔ اگر ہم اجتماعی طور پر اس عمل کا حصہ بن جائیں تو اس کے نتائج بہت جلد ہمارے سامنے ہوں گے۔
آج آئی پی ایچ کوئٹہ نے جس طرح اس مہم کا آغاز کیا ہے، یہ قابلِ تحسین ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی اسی طرح صحت، ماحول اور آگاہی کے شعبے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔آخر میں ایک بار پھر میں ڈاکٹر طاہرہ بلوچ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس عزم کا اظہار کرتا ہوں کہ محکمہ جنگلات اس طرح کی تمام مثبت سرگرمیوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
*ڈاکٹر طاہرہ بلوچ (ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ*نے خطاب میں کہا کہ آج کا یہ دن ہمارے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ ہم نہ صرف ایک شجرکاری مہم کا آغاز کر رہے ہیں بلکہ ایک ایسے اجتماعی شعور کو فروغ دے رہے ہیں جو ماحول، صحت اور انسانی ذہن کے درمیان گہرے تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
میں سب سے پہلے “بلوچستان اسپرنگ پلانٹیشن ڈرائیو 2026 کے تمام منتظمین، بالخصوص محکمہ جنگلات اور تمام شریک اداروں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اس بامقصد مہم کو عملی شکل دی۔درخت صرف زمین کی خوبصورتی نہیں بلکہ انسانی زندگی کی بقا کی علامت ہیں۔ ہم جس ماحولیاتی تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں، اس میں شجرکاری اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی، درجہ حرارت میں اضافہ اور قدرتی وسائل کی کمی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اگر آج ہم نے قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔آئی پی ایچ کوئٹہ میں ہمارا وژن صرف بیماریوں کا علاج نہیں بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل ہے۔ اور ایک صحت مند معاشرہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب ماحول صاف، سرسبز اور متوازن ہو۔
میں خاص طور پر اس بات پر زور دینا چاہتی ہوں کہ شجرکاری اور ذہنی صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ سبز ماحول انسان کے ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب ہم قدرت کے قریب ہوتے ہیں تو ہمارا ذہن زیادہ پرسکون اور متوازن رہتا ہے۔اسی لیے ہم نے اس مہم کو صرف ایک ماحولیاتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک “ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ انیشیٹو” کے طور پر شروع کیا ہے، تاکہ ہم جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے مسائل کو بھی بہتر انداز میں سمجھ اور حل کر سکیں۔میں تمام اداروں سے یہ اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس مہم کو صرف ایک دن کی سرگرمی نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنے ادارہ جاتی کلچر کا حصہ بنائیں۔ ہر دفتر، ہر اسکول، ہر کالج اور ہر گھر اگر ایک پودا بھی لگائے تو ہم اپنے شہر اور اپنے صوبے کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔آج یہاں موجود تمام معزز مہمانوں کی شرکت ہمارے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ خاص طور پر جناب منیر موسیانی اور دیگر شرکاء کا شکریہ جنہوں نے اس مہم کو سپورٹ کیا اور اس کو مزید وسعت دینے کی یقین دہانی کرائی۔ڈاکٹر طاہرہ ںلوچ نے مزید کہا ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم نہ صرف درخت لگائیں گے بلکہ ان کی حفاظت بھی کریں گے، اور ایک ایسا بلوچستان تشکیل دیں گے جو سرسبز بھی ہو، صحت مند بھی ہو اور خوشحال بھی۔تقریب کے دوران ماہر صحت موسٹ سینیئر ڈاکٹر لبنہ شاہین نے موسمیاتی تبدیلی اور ذہنی صحت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جو انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کر رہا ہے جبکہ ذہنی صحت پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان کا کہنا تھا کہ بیرونی ماحولیاتی عوامل انسانی دماغ پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں جس کے باعث ذہنی دباؤ اینگزائٹی اور ڈپریشن جیسے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر لبنہ شاہین نے گرین پلس کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تحقیق کے مطابق اگر کوئی فرد روزانہ تقریباً بیس منٹ سبزہ زار یا قدرتی ماحول میں گزارے تو اس کے جسم میں موجود کورٹیسول کی سطح کم ہو جاتی ہے جو ذہنی سکون اور مثبت سوچ کے لیے انتہائی اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کوگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (CBT) میں بھی ماہرین مریضوں کو زیادہ وقت قدرتی ماحول میں گزارنے کا مشورہ دیتے ہیں جو ذہنی صحت کی بہتری میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اس پروقار تقریب کی سب اہم بات ننھی گڑیا مہرما مینگل کا جاندار خطاب تھا میرا نام مہرما مینگل ہے
ہم سب کو درختوں سے محبت کرنی چاہیے… کیونکہ درخت ہمیں سانس دیتے ہیں، ہمیں سایہ دیتے ہیں، اور ہماری زمین کو خوبصورت بناتے ہیں۔ اگر درخت نہ ہوں تو نہ ہوا صاف رہے گی، نہ بارش وقت پر ہوگی، اور نہ ہی ہم خوش رہ سکیں گے۔
ایک پودا لگانا بھی بہت بڑا کام ہے۔ اگر ہم سب آج ایک ایک پودا لگا لیں، تو کل ہماری زمین جنت جیسی بن سکتی ہے۔ ہمیں صرف پودا لگانا نہیں بلکہ اس کی حفاظت بھی کرنی ہے، اسے پانی دینا ہے، اس کا خیال رکھنا ہے… جیسے ہم اپنے دوست کا رکھتے ہیں۔میں سب سے کہتی ہوں کہ آئیں! ہم سب مل کر اپنے اسکولوں، گھروں اور گلیوں میں پودے لگائیں۔ ہم ہی اس زمین کا مستقبل ہیں، اور ہمیں ہی اسے سبز اور خوبصورت بنانا ہے۔
مہرمامینگل کی معصوم مگر پُراعتماد گفتگو نے تقریب میں موجود ہر فرد کو متاثر کیا۔ اس کے سادہ مگر دل سے نکلے ہوئے الفاظ ایسے تھے کہ مہمانِ خصوصی منیر احمد موسیانی بھی بے اختیار مسکرا اٹھے اور دل کھول کر داد دی۔ تقریب کے شرکاء میں میر آصف CEO
میڈم شاہدہ پرنسپل، کیسکو ماڈل سکول شیخ ماندہ ڈاکٹر مرتضیٰ شاہ
لبنیٰ شاہین پی ایچ ڈی مینٹل ہیلتھ
کرن صدف وائس پرنسپل، کیسکو ماڈل سکول ساجدہ مینگل پرنسپل، پبلک ہیلتھ سکول کوئٹہ)
جمیل کرد الخدمت فاؤنڈیشن
زمرد زہری پروگرام آفیسر
شوکت زیری کلائمیٹ اینڈ مینٹل ہیلتھ ایکٹیوسٹ
ننھی گڑیا مہرماہ مینگل ویلڈنس اسکول سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کثیر تعداد میں موجود تھیں
آخر میں ڈاکٹر طاہرہ بلوچ نے معزز مہمانوں، شرکاء، ادارے کے اسٹاف اور میڈیا نمائندگان کا تقریب میں شرکت اور بھرپور کوریج پر شکریہ ادا کیا۔ یہ تقریب نہ صرف ماحولیاتی آگاہی کے فروغ کا ذریعہ بنی بلکہ ادارہ جاتی تعاون اور ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔

انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں شجرکاری مہم کا شاندار پر وقار تقریب ایڈیشنل سیکریٹری جنگلات منیر احمد موسیانی کی خصوصی شرکت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us