Banner

عالمی سیاست اور یورپ و ٹرمپ ازم

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظرنامہ
عالمی سیاست اور یورپ و ٹرمپ ازم

قارئین صحافت ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دورِ اقتدار اور ان کے بیانات محض ایک سیاسی مرحلہ نہیں بلکہ عالمی تاریخ کا وہ موڑ ہیں جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے لبرل عالمی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ ٹرمپ کی “سب سے پہلے امریکہ” کی پالیسی نے جہاں امریکی قوم پرستی کو نئی جلا بخشی، وہی بحرِ اوقیانوس کے پار موجود اس کے دیرینہ اتحادیوں یعنی یورپی ممالک کے لیے بے یقینی کی ایک ایسی لہر پیدا کی جو اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ ٹرمپ کے یورپ مخالف بیانات، 36 فیصد یورپی شہریوں نے امریکا کو چین سے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔ یہ محض ایک شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ اس گہرے عدم اعتماد کا اظہار ہے جو واشنگٹن اور برسلز کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔ جب ہم اس تناظر میں تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ نیٹو جیسے ادارے، جو کبھی مغربی اتحاد کی علامت تھے، ٹرمپ کے دور میں “غیر متعلقہ” یا “بوجھ” قرار دیے جانے لگے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یورپ مخالف بیانات کے باعث 36 فیصد یورپی شہریوں نے امریکا کو چین سے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔ یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم ہے کہ یورپ روایتی طور پر چین کی بڑھتی ہوئی معاشی اور فوجی طاقت کو ایک چیلنج سمجھتا رہا ہے، لیکن جب وہی خطرہ امریکہ کی طرف سے محسوس ہونے لگے، تو یہ عالمی سیاست کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔تاریخی طور پر یورپ نے ہمیشہ امریکہ کو ایک “سیکورٹی فراہم کار” کے طور پر دیکھا ہے۔ مارشل پلان سے لے کر سرد جنگ کے خاتمے تک، امریکہ اور یورپ ایک ہی صف میں کھڑے رہے۔ تاہم، ٹرمپ نے اس تاریخی تسلسل کو توڑتے ہوئے تجارتی محصولات اور دفاعی اخراجات پر سخت گیر موقف اپنایا۔جرمنی سمیت 6 یورپی ممالک میں کیے گئے سروے میں مجموعی طور پر 36 فیصد نے امریکا تو 29 فیصد نے چین کو خطرہ قرار دیا۔ جرمنی، جو یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے، ٹرمپ کی تنقید کا خاص نشانہ رہا، خاص طور پر دفاعی بجٹ اور روس کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبوں کے حوالے سے۔ ٹرمپ کی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سفارت کاری کے روایتی آداب کو پسِ پشت ڈال کر “ٹرانزیکشنل سیاست” کو فروغ دیا۔ ان کے نزدیک اتحاد اقدار پر نہیں بلکہ منافع اور نقصان پر مبنی ہونے چاہئیں۔ اسی وجہ سے یورپی عوام میں یہ احساس پیدا ہوا کہ امریکہ اب ایک قابلِ بھروسہ شراکت دار نہیں رہا۔یورپی پلس سروے کے مطابق اسپین میں 51 فیصد، اٹلی میں 46 فیصد، بیلجیئم میں 42 فیصد جبکہ جرمنی میں 30 فیصد امریکا کو خطرہ قرار دیتے نظر آئے۔ اسپین اور اٹلی جیسے ممالک میں، جہاں عوامی رائے عامہ اکثر عالمی طاقتوں کے خلاف حساس رہی ہے، امریکہ کو چین سے بڑا خطرہ سمجھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ٹرمپ کی لفاظی نے یورپی معاشروں کے دلوں میں امریکہ کے بارے میں گہری تلخی پیدا کر دی ہے۔ٹرمپ کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان کے اس بیانیے کو دیکھنا ضروری ہے جس میں وہ کثیر الجہتی کو امریکی مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ پیرس موسمیاتی معاہدے سے علیحدگی ہو یا ایران نیوکلیئر ڈیل کا خاتمہ، ٹرمپ نے ہر اس قدم کی حمایت کی جس نے یورپ کو تنہاء کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ نے اپنی “تزویراتی خودمختاری” کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔سروے میں پتا چلا کہ فرانس میں 37 فیصد نے امریکا تو 43 فیصد نے چین کو خطرہ کہا، اس کے علاوہ سروے میں 13 فیصد پولش شہریوں نے امریکا جبکہ 37 فیصد نے چین کو خطرہ قرار دیا۔ فرانس، جو ہمیشہ سے ایک آزاد یورپی فوجی قوت کا حامی رہا ہے، وہاں چین کو اب بھی بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے، لیکن امریکہ کے لیے بڑھتی ہوئی ناپسندیدگی بھی واضح ہے۔ اس کے برعکس پولینڈ جیسے ممالک، جو جغرافیائی طور پر روس کے قریب ہیں، اب بھی امریکہ کو ایک ناگزیر ضرورت سمجھتے ہیں، چاہے وہاں کی قیادت کوئی بھی ہو۔ مگر مجموعی طور پر ٹرمپ ازم نے ایک ایسا زخم لگایا ہے جو بائیڈن انتظامیہ یا مستقبل کی کسی بھی امریکی حکومت کے لیے بھرنا مشکل ہوگا۔ ٹرمپ کی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ امریکہ کسی بھی وقت اپنے عالمی وعدوں سے منحرف ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس نے چین کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ خود کو ایک زیادہ مستحکم اور پیش گوئی کے قابل عالمی طاقت کے طور پر پیش کر سکے۔ آخر کار، ٹرمپ کے بیانات نے یورپ کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ اب واشنگٹن کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی دفاعی اور معاشی پالیسیاں خود ترتیب دینے پر مجبور ہے، جو کہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ٹرمپ کی سیاسی حقیقت محض ان کی شخصیت تک محدود نہیں بلکہ یہ اس “آئسولیشنزم” (تنہائی پسندی) کی واپسی ہے جو بیسویں صدی کے آغاز میں امریکی سیاست کا حصہ تھی۔ ٹرمپ نے اس قدیم سوچ کو جدید دور کے مسائل سے جوڑ کر ایک ایسا سیاسی ہتھیار بنایا جس نے یورپ کو دفاعی طور پر مفلوج محسوس کرایا۔ یورپی شہریوں کا امریکہ کو چین سے بڑا خطرہ قرار دینا دراصل اس خوف کا اظہار ہے کہ اگر دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت غیر متوقع اور جارحانہ رویہ اختیار کر لے، تو یہ عالمی امن کے لیے کسی بھی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے ثابت کیا کہ ایک سپر پاور کے بیانات عالمی رائے عامہ کو کس طرح یکسر تبدیل کر سکتے ہیں۔امریکی سیاست اور ٹرمپ کے اسلوبِ حکمرانی نے عالمی سطح پر جو خلا پیدا کیا، اس نے یورپی یونین کے اندر موجود دراڑوں کو بھی واضح کیا۔ جہاں ایک طرف جرمنی اور فرانس متحد یورپ کی بات کرتے ہیں، وہیں ٹرمپ کے بیانات نے ان ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا امریکہ اب بھی ان کا محافظ ہے؟ یہ تاریخی المیہ ہے کہ وہ یورپ جو دہائیوں تک امریکی چھتری تلے محفوظ رہا، آج اسی چھتری کے ہٹنے یا اس کے گرنے کے خوف میں مبتلا ہے۔ ٹرمپ کی حقیقت ایک ایسے آئینے کی مانند ہے جس میں یورپ نے اپنی کمزوری اور امریکہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات کو دیکھ لیا ہے، اور یہی وہ تاریخی سبق ہے جو مستقبل کی عالمی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔

عالمی سیاست اور یورپ و ٹرمپ ازم

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us