Banner

قیادت، حکمت و خدمت کی علمبردار

Share

Share This Post

or copy the link

قیادت، حکمت و خدمت کی علمبردار
صباحت رفیق

منشاقاضی
حسبِ منشا

دنیا کی تیز رفتاری، سائنس و ٹیکنالوجی کے بے پناہ ارتقاء اور سماجی تغیرات کے ہجوم میں چند شخصیات ایسی ابھرتی ہیں جو محض زمانے کے تقاضوں کی پیروی نہیں کرتیں بلکہ ان کے لیئے نئی راہیں بھی تراشتی ہیں۔ پاکستان کی نامور بیٹی، مس صباحت رفیق بنت پاکستان انہی تابندہ شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر باب ایک نئے عزم، ایک نئے خواب اور ایک نئی جدوجہد کی آئینہ دار کہانی ہے۔ وہ ایک معزز رہنما، ماہر تعلیم، بانی ادارہ، اور کاروباری شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ فکری و فلسفیانہ جہتوں سے بھی مزین ہیں۔ ان کی شخصیت علم و عمل، روایت و جدیدیت، اور قیادت و خدمت کا حسین امتزاج ہے۔
صباحت رفیق اس وقت Lampro Mellon کی صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جو ایک جدید ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ فرم ہے۔ یہ ادارہ صرف کاروباری کامیابیوں تک محدود نہیں بلکہ مختلف شعبہ جات میں جدت اور نئی راہیں کھولنے کے لیے معروف ہے۔ صباحت نے اپنی بصیرت سے اس ادارے کو نہ صرف ترقی کی راہوں پر گامزن کیا بلکہ اسے ایک ایسی مثال بنا دیا جہاں کاروبار کے ساتھ سماجی خدمت کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے Luna Heritage کے نام سے ایک منفرد ادارہ قائم کیا جس کا مقصد ثقافتی شناخت کی حفاظت اور کمیونٹی کی ہمہ جہت ترقی ہے۔ آج کے دور میں جب کہ دنیا کے بہت سے خطوں میں ثقافتی ورثہ زوال پذیر ہے، صباحت رفیق کا یہ اقدام آنے والی نسلوں کے لیے ایک تحفہ اور ورثہ ہے۔ ان کے نزدیک جدیدیت اور روایت میں تضاد نہیں، بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے تکملے ہیں۔ یہی فلسفہ ان کے کام کی بنیاد ہے۔
صباحت رفیق کی خدمات صرف اداروں تک محدود نہیں بلکہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی، خواتین کے حقوق، اور تعلیم کے اصلاحی نظام میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ بطور صدر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر، City of Denton Youth Foundation میں ان کی خدمات انتہائی قابلِ ذکر ہیں۔ یہاں انہوں نے نوجوانوں کے لیے ایسے پروگرام ترتیب دیے جو انہیں قیادت، کمیونٹی شعور اور عالمی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش دراصل مستقبل کے معماروں کو ایک ایسی فکری اور عملی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر وہ آنے والے زمانے کی عمارت استوار کر سکیں۔
ان کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو خواتین کی ترقی اور بااختیاری ہے۔ صباحت رفیق نے اپنی تقاریر اور پروگرامز کے ذریعے اس بات کو اجاگر کیا کہ خواتین معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور ان کی قیادت و صلاحیتیں کسی طور نظرانداز نہیں کی جا سکتیں۔ وہ ایک ایسی آواز ہیں جو نہ صرف عورت کی آزادی اور مساوات کا اعلان کرتی ہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اس کی بنیاد بھی رکھتی ہیں۔ صباحت رفیق کی پیشہ ورانہ زندگی ایک غیر معمولی سفر ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز USAID اور Arthur D. Little میں کنسلٹنٹ اور کوآرڈینیٹر کے طور پر کیا۔ بعد ازاں اسلامی بینکاری اور شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی نظام میں اپنی مہارت کے ذریعے انہوں نے ایک نیا میدان جیتا۔ امریکہ آنے کے بعد انہوں نے اوریگون میں ایک کامیاب ٹیکسٹائل ٹریڈنگ ہاؤس قائم کیا، جس نے ان کی کاروباری بصیرت کو مزید نکھارا۔ بعد ازاں وہ مالیاتی صنعت میں واپس آئیں اور مشرقِ وسطیٰ کے مالیاتی اداروں اور پاکستانی اسلامی بینکوں کو کنسلٹنسی فراہم کی۔ ان کا یہ کام محض ایک مالیاتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی پل کی حیثیت رکھتا ہے جو امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مالیاتی اداروں کے درمیان تعلقات کو مستحکم بناتا ہے۔
صباحت رفیق کی فکری وابستگی کا ایک اہم پہلو ذہنی صحت کے بارے میں ان کی بیداری مہم ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ایک صحت مند معاشرہ محض جسمانی تندرستی پر نہیں بلکہ ذہنی و نفسیاتی سکون پر بھی منحصر ہے۔ اس میدان میں ان کی تقاریر اور پروگرامز کئی نوجوانوں اور خواتین کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کی شخصیت میں سب سے نمایاں وصف ان کی دوہری قوت ہے—ایک طرف وہ بزنس کی دنیا کی ماہر ہیں اور دوسری طرف سماجی خدمت اور کمیونٹی کی فلاح ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہی امتزاج انہیں ایک غیر معمولی رہنما بناتا ہے۔ صباحت رفیق کا ہر قدم ایک نئے خواب کی تکمیل ہے، ان کی ہر کوشش ایک نئی منزل کی نشاندہی کرتی ہے۔ وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکر ہیں؛ ایک ایسا تصور جس میں علم و عمل، قیادت و خدمت، اور روایت و جدت ہم آہنگ ہو کر ایک نیا مستقبل تراشتے ہیں۔ ان کی زندگی کا سفر اس بات کا اعلان ہے کہ اگر ارادہ بلند اور نیت پاک ہو تو دنیا کی کوئی طاقت انسان کو روک نہیں سکتی۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ صباحت رفیق نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ایسی مثال ہیں جنہوں نے اپنے وژن، بصیرت، اور عزم کے ذریعے دکھایا کہ قیادت محض منصب یا اقتدار کا نام نہیں بلکہ خدمت، قربانی اور مستقبل کی تعمیر کا دوسرا نام ہے۔ وہ ایک عہد کی نمائندہ شخصیت ہیں—ایک ایسا عہد جو عورت کی قیادت، علم کی روشنی، اور معاشرے کی فلاح کے خواب سے عبارت ہے۔ سید قاسم علی شاہ کی دروس نگاہ کا اعجازِ حسنِ انتخاب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کے یوٹیوب چینل پر صباحت کی فصاحت و بلاغت دلوں میں گداز پیدا کرتی ہے ۔ آپ ی یہ فن پارہ دیکھ رہے ہیں جسے گمنام فنکار ہارون الرشید نے تخلیق کیا ، محض ایک نام کی تکرار نہیں یہ بلکہ عقیدت، شناخت اور لامحدودیت کی ایک علامتی تجسیم ھے ۔ کوفی طرز میں رفیق کو ہزار بار لکھنا ایسے ھے جیسے ہر حرف ایک سانس بن کر کینوس پر اتر رہا ہو ، اس تکرار میں انفرادیت مٹ کر وحدت میں ڈھل جاتی ہے اور صباحت رفیق کا نام فن کا ایسا شہ پارہ بن جاتا ہے جو فنکار کی گمنامی میں بھی اپنی پہچان خود تراشتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ مرد کی کامیابی کے عقب میں کسی سلیقہ شعار عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ یہاں معاملہ الٹ ہے ۔ ایک کامیاب عورت کے پیچھے ایک مرد کا ہاتھ ہے اور وہ مردِ خلیق صباحت کا رفیق سفر بین الاقوامی شہرت یافتہ آئی ٹی سائنسدان فضیلت مآب نوید شیروانی ہیں اور یہی وجہ ہے محترمہ صباحت رفیق بجا کہتی ہیں ۔
میرا کمال میرا ہنر پوچھتے ہیں لوگ
اک باکمال شخص میری دسترس میں ہے

قیادت، حکمت و خدمت کی علمبردار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us