Banner

مٹکا، مصلحت اور مشرقِ وسطیٰ کی کہانی عالمی سیاست اور کسان کی دانائی۔

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

مٹکا، مصلحت اور مشرقِ وسطیٰ کی کہانی عالمی سیاست اور کسان کی دانائی۔

محترم قارئین ۔ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے جاری تنازعہ، پابندیوں کی سیاست اور خلیجی خطے میں چھڑی اعصاب کی جنگ ایک ایسے نفسیاتی کھیل کی مانند ہے جس کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے منطق سے زیادہ تمثیل کی ضرورت ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال پر ایک دیہاتی کسان کا افسانوی قصہ نہایت صادق آتا ہے جو بظاہر سادگی مگر باطن میں گہری حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دیہاتی کسان جس کے دو بیل، ایک کالا اور ایک سفید تھا، وہ اپنے کھیت میں ہل جوت کر بیج بونے کی تیاری کر رہا تھا۔ محنت مشقت کے اس عمل کے دوران اچانک بیل چلتے چلتے رک گئے، کسان نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہل زیرِ زمین کسی سخت شئی سے ٹکرا گیا ہے۔ تجسس کے عالم میں جب کسان نے اس جگہ کی کھدائی کی تو قدرت نے اس پر اپنا فیض جاری کیا اور اس کے ہاتھ ہیرے جواہرات سے بھرا ایک قدیم مٹکا لگا۔ لیکن اس خوشی کے ساتھ ہی کسان کے دل میں ایک انجانا ڈر بھی پیدا ہو گیا، کیونکہ اس وقت کے مروجہ قانون کے تحت زمین سے نکلنے والے تمام قدیم نوادرات اور خزانے حکومتِ وقت کی ملکیت تسلیم کیے جاتے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے انسانی نفسیات، مصلحت اور بقاء کی جنگ کا آغاز ہوتا ہے، جو موجودہ دور کے عالمی سیاسی منظرنامے میں بھی صاف نظر آتا ہے۔اسی دوران کسان نے دیکھا کہ سڑک پر دو سپاہی گشت کر رہے ہیں، گھبراہٹ اور تذبذب کے عالم میں اس نے انہیں آواز دے دی تاکہ وہ آکر اس صورتحال کا فیصلہ کریں، مگر جیسے ہی سپاہی اس کے قریب پہنچنے لگے، کسان پر پشیمانی کا دورہ پڑا کہ وہ کیوں اپنی محنت اور قسمت کا ثمر دوسروں کے حوالے کرنے جا رہا ہے۔ جب سپاہی بالکل سر پر پہنچ گئے تو کسان نے اپنی ہوشیاری سے بات کا رُخ موڑتے ہوئے ایک سپاہی سے کہا کہ “وہ سامنے غار دیکھ رہے ہو؟” سپاہی کے اثبات پر کسان نے دوسری سمت اشارہ کر کے کہا کہ “وہ دوسرا غار بھی دیکھ رہے ہو؟” سپاہی نے پھر ہاں میں جواب دیا، تب کسان نے بڑی معصومیت سے کہا کہ “ابھی ابھی ایک چوہا اس غار سے نکلا اور بھاگتا ہوا اس دوسرے غار میں گھس گیا۔” سپاہی اس بے تکی بات پر سیخ پا ہوئے اور اسے فضول گو سمجھ کر واپس سڑک کی طرف چل دیے۔ یہ منظر نامہ بالکل ان عالمی بیانات کی طرح ہے جہاں بڑی طاقتیں کبھی کسی چھوٹے واقعے کو پہاڑ بنا کر پیش کرتی ہیں اور کبھی اصل حقیقت سے نظریں چرا کر فروعی باتوں میں الجھ جاتی ہیں۔
سپاہی ابھی سڑک تک پہنچے ہی تھے کہ کسان کے دل میں پھر یہ خیال آیا کہ شاید اسے خزانہ بتا دینا چاہیے، اس نے پھر آواز دی، مگر ان کے واپس آتے ہی پشیمانی نے پھر اسے آ لیا۔ اس بار سپاہیوں کے پہنچنے پر کسان نے اپنے بیلوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ “یہ کالا بیل دیکھ رہے ہو؟ یہ اس سفید بیل کا سگا بھائی ہے۔” سپاہیوں کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور وہ اسے ایک نفسیاتی مریض قرار دے کر وہاں سے رخصت ہو گئے، لیکن شہر پہنچ کر انہوں نے حاکمِ وقت کو اس عجیب و غریب واقعے کی رپورٹ کر دی۔ حاکم، جو انسانی فطرت کا نباض تھا، اسے شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے، چنانچہ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس کسان کو فوراً دربار میں پیش کیا جائے۔ کسان جب حاکم کے سامنے پیش ہوا تو اس نے ہر بات سے انکار کر دیا، جس پر حاکم نے اسے حوالات میں بند کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی اپنے ایک مکار مخبر کو بھی قیدی بنا کر اس کے ساتھ بند کر دیا تاکہ وہ اس کی تنہائی کی باتوں کی جاسوسی کر سکے۔اگلی صبح جب مخبر نے حاکم کو رپورٹ دی تو وہ حیران کن تھی؛ اس نے بتایا کہ کسان ساری رات اپنے ہاتھوں سے ہوا میں ایک بڑا دائرہ بناتا، پھر اسے چھوٹا کر کے ایک فٹ کا دائرہ بناتا اور پھر اکیلے ہی ہنستا رہتا۔ حاکم نے کسان کو طلب کر کے اس عجیب حرکت کی وجہ پوچھی تو کسان نے کمالِ فنکاری سے جواب دیا کہ “جناب عالی ! میں ساری رات آپ کی ہیبت اور شخصیت کے بارے میں سوچتا رہا۔ جب میں بڑا دائرہ بناتا تو میں یہ سوچتا کہ آپ کا جسم کتنا عظیم اور موٹا ہے، لیکن جب میں آپ کے سر کا تصور کرتا تو دائرہ چھوٹا کر دیتا، مجھے یہ دیکھ کر ہنسی آتی کہ اتنے بڑے جسم پر اتنا چھوٹا سا سر کیسے جچتا ہوگا۔” حاکم اس جواب سے محظوظ ہوا اور اسے پاگل قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ کسان ساری رات اس مٹکے کے حجم اور اس کے تنگ دہانے کو یاد کر کے اپنی کامیابی پر خوش ہو رہا تھا کہ مٹکا کتنا بڑا اور مال و زر سے لبریز تھا جبکہ اس کا دہانہ کتنا چھوٹا تھا۔موجودہ عالمی تناظر میں ایران اور امریکہ کا قضیہ بھی اسی تمثیلی کہانی کے گرد گھوم رہا ہے۔ ایک طرف مفادات کا وہ مٹکا ہے جس پر سب کی نظریں ہیں اور دوسری طرف سپاہیوں جیسی عالمی قوتیں ہیں جو کبھی غاروں سے نکلنے والے چوہوں (چھوٹے واقعات) کو خطرہ بناتی ہیں تو کبھی بیلوں کی برادری جیسے غیر متعلقہ مسائل میں الجھ جاتی ہیں۔ خلیج میں جنگ کا خطرہ ایک ایسا بادل ہے جو بارہا منڈلاتا ہے لیکن کسان کی حکمتِ عملی کی طرح فریقین اپنی اصل نیتوں کو چھپائے ہوئے ہیں۔ سفارت کاری کے میدان میں بھی یہی “بیل اور چوہے” کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، جہاں بیانات کچھ ہوتے ہیں اور زمینی حقائق کچھ اور۔ عالمی طاقتیں اپنے داخلی مسائل اور معاشی مصلحتوں کے مٹکے کو بچانے کے لیے کبھی جنون کا لبادہ اوڑھتی ہیں تو کبھی دانائی کا۔ لیکن یہ کھیل ہمیشہ نہیں چل سکتا؛ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک عربوں کا اونٹ کسی فیصلہ کن پہاڑ کے نیچے نہیں آتا، یعنی جب تک خطے کی تمام قوتیں کسی ٹھوس اور پائیدار زمینی حقیقت کو تسلیم نہیں کر لیتیں، یہ کشمکش جاری رہے گی۔ یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سیاست کے مٹکے میں چھپا ہوا سونا صرف اس کا ہوتا ہے جو خاموشی، صبر اور وقت کے درست انتخاب کے ساتھ اپنے پتے کھیلنا جانتا ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس عالمی کھیل پر “اونٹ” کب اور کس کروٹ بیٹھتا ہے اور مصلحتوں کے یہ دائرے کب حقیقت کے دہانے پر آکر رُکتے ہیں۔

مٹکا، مصلحت اور مشرقِ وسطیٰ کی کہانی عالمی سیاست اور کسان کی دانائی۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us