Banner
Daily Sahafat Quetta
September 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پشین : پشین چیمبر اف کامرس ایند اندسٹری بلوچستان کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیازیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمینوشکی میں 21 ستمبر کو مکمل کرفیو نافذ ہوگا، انتظامیہپشین : پشین چیمبر اف کامرس ایند اندسٹری بلوچستان کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیازیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمینوشکی میں 21 ستمبر کو مکمل کرفیو نافذ ہوگا، انتظامیہ

نائن الیون کے بعد خطے کی یلغار اور معاشرتی شکست

نائن الیون کے بعد خطے کی یلغار اور معاشرتی شکست
محمدنسیم رنزوریار

قارئین! نائن الیون کے بعد جب امریکی قدم افغانستان کی سرزمین پر پڑے تو یہ محض ایک عسکری مداخلت نہیں تھی بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی اور فکری یلغار تھی جس نے پاک افغان خطے کے صدیوں پرانے سماجی ڈھانچے کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ ڈالر کی ریل پیل نے جہاں معیشت کے نئے دریچے کھولے وہیں ضمیروں کی خرید و فروخت کا ایک ایسا بازار گرم کیا جس میں قلم کاروں نے حقائق کو مسخ کر کے بیرونی ایجنڈے کو روشن خیالی کا نام دے کر پیش کیا۔ اس دور میں تصنیف و تالیف کا مقصد سچ کی تلاش کے بجائے غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی قرار پایا جس سے فکری گراوٹ کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے نئی نسل کو اپنے ہی اسلاف کی اقدار سے بیگانہ کر دیا۔ تجارتی سطح پر لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ کی صنعت کو وقتی عروج تو ملا لیکن اس نے مقامی معیشت کو بیرونی امداد کا ایسا بیساکھی بنا دیا جس نے خود انحصاری کا تصور ہی ختم کر دیا۔ تعلیمی نصاب میں خاموش تبدیلیاں لائی گئیں تاکہ جہاد اور غیرت ایمانی کے تصورات کو نکال کر ایک ایسا اذہان سازی کا نظام رائج کیا جائے جو مغرب کے فکری غلبے کو تسلیم کر سکے۔اس نظریاتی تبدیلی کے اثرات معاشرتی رویوں پر انتہائی تلخ ثابت ہوئے جہاں آزادی کے نام پر بے پردگی اور حیا سوزی کو فروغ ملا جس سے خاندانی نظام کی وحدت پاش پاش ہو گئی۔ عقائد کی سطح پر ایسی گمراہ کن تعبیرات متعارف کرائی گئیں جنہوں نے عام آدمی کو حق اور سچ کی تمیز سے محروم کر دیا اور معاشرہ مادہ پرستی کی اس دلدل میں دھنس گیا جہاں انسانی جان کی قیمت ڈالر کے ترازو میں تولی جانے لگی۔ امریکہ نے ان تبدیلیوں کو پائیدار بنانے کے لیے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جو ذہنی طور پر ان کا غلام تھا اور اپنی ہی ملت کے خلاف ان کے مفادات کا محافظ بن کر کھڑا ہو گیا۔ یہ طبقہ میڈیاء، سیاست اور سماجی تنظیموں کے ذریعے رات دن اس پروپیگنڈے میں مصروف رہا کہ غیر ملکی مداخلت ہی اس خطے کی بقاء کا واحد راستہ ہے، حالانکہ اس عمل میں قبائلی روایات کا جنازہ نکل گیا اور سیاسی استحکام کی جگہ دائمی انتشار نے لے لی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس دور میں ہونے والی تبدیلیاں کوئی فطری ارتقاء نہیں تھیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انسانی رویوں کو مسخ کرنے کی کوشش تھی جس کے زخم آج بھی اس خطے کے جسم پر تازہ ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *