Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بازار میں دوسرا روز تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مستقل و عارضی تجاوزات کا خاتمہ، کارروائی جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1952/20-10-2026وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا اسلام آباد سبزی و فروٹ منڈی کا دورہذوالفقار احمد چیمہ کی تین تازہ تصانیف کی تقریبِ پذیرائی، ممتاز دانشوروں اور نامور شخصیات کی شرکتعالمی رہنماؤں کی بے حسی اور عالمی قوانین کی بے بسیسردار نثار علی خان ہزارہ کا انتقال بلوچستان کے لیے بڑا نقصان ہے، کاشف حیدریخواتین کی فلاح کے منصوبوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیبلوچستان پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 3 ہفتوں میں 50 اشتہاری اور 279 مفرور گرفتارچشمہ پل دسمبر تک ہر صورت مکمل کیا جائے، تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ برداشت نہیں ہوگا، میر سلیم احمد کھوسہقلعہ عبداللہ میں منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، دوبندی میں تین روز سے چھاپے جاریبازار میں دوسرا روز تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مستقل و عارضی تجاوزات کا خاتمہ، کارروائی جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1952/20-10-2026وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا اسلام آباد سبزی و فروٹ منڈی کا دورہذوالفقار احمد چیمہ کی تین تازہ تصانیف کی تقریبِ پذیرائی، ممتاز دانشوروں اور نامور شخصیات کی شرکتعالمی رہنماؤں کی بے حسی اور عالمی قوانین کی بے بسیسردار نثار علی خان ہزارہ کا انتقال بلوچستان کے لیے بڑا نقصان ہے، کاشف حیدریخواتین کی فلاح کے منصوبوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیبلوچستان پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 3 ہفتوں میں 50 اشتہاری اور 279 مفرور گرفتارچشمہ پل دسمبر تک ہر صورت مکمل کیا جائے، تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ برداشت نہیں ہوگا، میر سلیم احمد کھوسہقلعہ عبداللہ میں منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، دوبندی میں تین روز سے چھاپے جاری

ماما قدیر بلوچ: بلوچستان کے لاپتہ افراد کی آواز، جن کی جنیوا تک لانگ مارچ کی خواہش پوری نہ ہو سکی

بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کرنے والے ماما قدیر بلوچ سنیچر کے روز انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔

وہ رواں سال عید الفطرکے بعد سے بیمار تھے جبکہ چند روز سے وہ کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھے۔

ان کے بیٹے بجار ریکی نے بی بی سی کو ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ماما قدیر کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین ان کے آبائی علاقے سوراب میں کی جائے گی۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ قدیر بلوچ دمے کے عارضے میں مبتلا تھے جبکہ چند ہفتے قبل ان میں ٹی بی کی تشخیص کے علاوہ جگر میں مسئلے کی نشاندہی بھی ہوئی تھی۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ نے ماما قدیر کی موت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور اس دوران کوئٹہ میں احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی بند رہے گا۔ماما قدیر نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پاکستان کی تاریخ میں طویل ترین لانگ مارچ بھی کیا تھا۔

شیئر کریں: WhatsApp

roshanurdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *