Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ، حب اور خضدار میں فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، 2 سویٹ سپاری یونٹس سیلمولانا فضل الرحمٰن کے خلاف پروپیگنڈا کسی صورت قبول نہیں، حافظ ابوبکر کوریجوبلوچستان کے تاجروں کو آسان قرضے فراہم کیے جائیں، بلال خان کاکڑشہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک نظام بہتر بنایا جائے گا، مہراللہ بادینیمنشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدکوئٹہ، حب اور خضدار میں فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، 2 سویٹ سپاری یونٹس سیلمولانا فضل الرحمٰن کے خلاف پروپیگنڈا کسی صورت قبول نہیں، حافظ ابوبکر کوریجوبلوچستان کے تاجروں کو آسان قرضے فراہم کیے جائیں، بلال خان کاکڑشہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک نظام بہتر بنایا جائے گا، مہراللہ بادینیمنشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمد

قانون کی حکمرانی کا معجزہ اور آٹھ سو سالہ میگنا کارٹا جو دنیا بدل گیا

قانون کی حکمرانی کا معجزہ اور آٹھ سو سالہ میگنا کارٹا جو دنیا بدل گیا

احمد خان اچکزئی
محترم قارئین، تاریخ انسانی میں اگر کسی ایک دستاویز نے انسان کو فرعونیت اور مطلق العنان غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرا کے قانون کی بالادستی کا سورج طلوع کیا ہے، تو وہ آٹھ سو سال قبل دریائے ٹیمز کے کنارے رنیمیڈ کے میدان میں لکھی جانے والی دستاویز “میگنا کارٹا” یعنی عظیم منشور ہے۔ یہ محض بکری کی کھال پر لاطینی زبان میں لکھی گئی تریسٹھ شقیں نہیں تھیں، بلکہ یہ اس نظریے کا اعلان تھا کہ تاج و تخت رکھنے والا حکمران بھی قانون کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔13ویں صدی کے آغاز میں جب انگلینڈ کے ناہنجار بادشاہ جان (King John) نے اپنی ناکامیوں کا غصہ غریب عوام اور ریاست کے ستونوں پر نکالا، جب اس نے من مانے اور ظالمانہ ٹیکسوں کا نفاذ کیا، بغیر کسی قانونی چارہ جوئی کے سیاسی مخالفین کو تاریک کوٹھریوں میں پھینکا اور عدل و انصاف کی دھجیاں بکھیر دیں، تو انگلینڈ کے 25 باضمیر بیرنز (جاگیرداروں) نے جبر کے اس بت کو پاش پاش کرنے کا تہیہ کر لیا۔ 15 جون 1215 کا وہ سورج ظلم کے زوال اور حریت کے آغاز کی نوید لے کر طلوع ہوا، جب مجبورِ وقت بادشاہ جان کو اپنے ہاتھوں سے اس تاریخی معاہدے پر شاہی مہر ثبت کرنا پڑی۔اس دستاویز کی شق نمبر ایک نے جہاں ایک طرف چرچ کو ریاست کی مداخلت سے آزاد کر کے جدید سیکولر اقدار اور کلیسا و ریاست کی علیحدگی کی بنیاد رکھی، وہیں اس کی شق نمبر 12 نے “بلا نمائندگی کوئی ٹیکس نہیں” کے اس زریں اصول کو جنم دیا جو آگے چل کر دنیا بھر کی پارلیمانی جمہوریتوں کا سنگِ بنیاد بنا۔ اس منشور کی سب سے بڑی روح اس کی شق نمبر 39 میں پوشیدہ تھی، جس نے تاریخ میں پہلی بار یہ اعلان کیا کہ کسی بھی آزاد شخص کو اس کے ہم عصروں کے منصفانہ قانونی فیصلے کے بغیر نہ گرفتار کیا جا سکتا ہے، نہ جیل میں ڈالا جا سکتا ہے، نہ اس کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے جلاوطن کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہی سنہری سطر تھی جس سے جدید دور کا قانونِ اسیران یعنی ہیبس کارپس اور بنیادی انسانی آزادیوں کا تصور پھوٹا۔ اس کے ساتھ ساتھ شق نمبر 40 نے عدلیہ کی آزادی کا ایسا درخشاں اصول دیا کہ ریاست کسی کو انصاف فروخت نہیں کرے گی، حق دار کو اس کے حق سے محروم نہیں رکھے گی اور انصاف کی راہ میں تاخیر کا جواز پیدا نہیں کرے گی۔اگرچہ وقتی طور پر روم کے پوپ انوسنٹ سوم نے اس معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا اور عہد شکنی کی تاریخ رقم کرتے ہوئے بادشاہ اپنے وعدوں سے مکر گیا، لیکن خیال کی جو چنگاری رنیمیڈ کے میدان میں سلگائی گئی تھی اسے کوئی آمر بجھا نہیں سکا۔ یہ سوچ وقت کے سمندر کو عبور کرتی ہوئی 1297 میں برطانوی قانون کا اٹوٹ حصہ بنی، 1628 کے پٹیشن آف رائٹ میں ڈھلی، 1776 کے امریکی اعلانِ آزادی اور 1789 کے آئین کی روح بنی، اور بالآخر 1948 میں اقوام متحدہ کے عالمی منشورِ انسانی حقوق کی بنیاد ٹھہری۔ برطانوی مورخ اور سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے بجا طور پر کہا تھا کہ میگنا کارٹا برطانوی آئین کی بائبل ہے۔اس عظیم دستاویز کا عکس آج ہمارے خطے اور بالخصوص بلوچستان کے قانونی ڈھانچے میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے؛ جہاں جائیداد کے حقوق ہوں، کرایہ داری کے ضابطے ہوں یا عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کا سوال ہو، سب اسی بنیادی اصول کے مرہونِ منت ہیں کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھا ہوا کوئی بھی فرد، خواہ وہ ریاست کا سربراہ ہو یا صوبے کا وزیرِ اعلیٰ، قانون کی گرفت سے بالاتر نہیں ہے۔مختصراً یہ کہ میگنا کارٹا کوئی کاغذ کا ٹکڑا یا ناکام تجربہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک لازوال فلسفہ تھا جس نے دنیا کو سکھایا کہ حکومتیں تلوار کے زور پر نہیں بلکہ عوام کی رضامندی اور قانون کی پاسداری سے چلتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ آٹھ صدیوں کا طویل سفر طے کرنے کے بعد بھی دنیا کے ہر قانون کے طالب علم کے لیے اس مقدس دستاویز کی بازگشت آج بھی اتنی ہی زندہ اور توانا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *