Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکتگوادر کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچایم ٹی آئی صوابی کے وفد کی مشیرِ گورنر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے ملاقاتنثار احمد لغاری ڈسٹرکٹ مٹیاری کو نیا ایکسپریس میڈیا گروپ کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیشساہیوال کے رانا عرفان اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی پا گئے، اہلِ علاقہ کی مبارکبادایس ایچ او تخت محل نعمان اقبال کے خوش اخلاق رویے اور عوامی خدمت کو شہریوں کی جانب سے سراہا جانے لگاگورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا ایچی سن کالج میں بلوچستان کے طلباء کا اسکالرشپ کوٹہ بڑھانے کا اعلانشانگلہ: مسز تاج آفریدی کی خاندان اور ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیتڈی پی او دیر بالا اسلم نواز کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقادمدارس کو رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالواسعکوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکتگوادر کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچایم ٹی آئی صوابی کے وفد کی مشیرِ گورنر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے ملاقاتنثار احمد لغاری ڈسٹرکٹ مٹیاری کو نیا ایکسپریس میڈیا گروپ کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیشساہیوال کے رانا عرفان اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی پا گئے، اہلِ علاقہ کی مبارکبادایس ایچ او تخت محل نعمان اقبال کے خوش اخلاق رویے اور عوامی خدمت کو شہریوں کی جانب سے سراہا جانے لگاگورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا ایچی سن کالج میں بلوچستان کے طلباء کا اسکالرشپ کوٹہ بڑھانے کا اعلانشانگلہ: مسز تاج آفریدی کی خاندان اور ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیتڈی پی او دیر بالا اسلم نواز کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقادمدارس کو رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالواسع

خدمت خلق ہی میری سیاست کا بنیادی مقصد ہے ،صادق خان ادوزئی

انٹرویو و رپورٹ نور احمد راہی

بلوچستان کی سرزمین اپنی قبائلی روایات، سماجی اقدار، باہمی احترام اور عوامی وابستگی کے حوالے سے ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ اس معاشرے میں وہ شخصیات خصوصی اہمیت اختیار کرتی ہیں جو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کو سمجھنے، انہیں اجاگر کرنے اور معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ حاجی صادق خان ادوزئی بھی ایک معروف سیاسی و سماجی شخصیت کے طور پر اپنی ایک نمایاں شناخت رکھتے ہیں، جن کی سرگرمیوں میں عوامی رابطہ، سماجی خدمت، محروم طبقات کے مسائل، نوجوانوں کا مستقبل، روزگار، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی حقوق جیسے موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں۔مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے چیئرمین حاجی صادق خان ادوزئی ایک ایسی عوامی شخصیت ہیں جنہوں نے خدمتِ خلق کو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اپنی زندگی کا عملی مشن بنایا ہے۔ عوام کے دکھ، درد، مشکلات اور معاشی پریشانیوں کو محسوس کرنا اور ضرورت مند انسان کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھامنا ان کی سماجی زندگی کا نمایاں پہلو ہے۔ ان کی جدوجہد کا بنیادی مرکز عام آدمی، غریب خاندان، مستحق طالب علم، بیمار اور بے سہارا افراد جبکہ خصوصاً بے روزگار نوجوان ہیں، جنہیں معاشی طور پر اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے کے لیے عملی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔حاجی صادق خان ادوزئی نے مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے قیام سے قبل ہی خدمتِ انسانیت کو اپنا نصب العین بنا رکھا تھا۔ سیاست میں آنے کے بعد بھی ان کی سماجی سرگرمیوں کا مرکز تبدیل نہیں ہوا بلکہ مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے پلیٹ فارم کو عوامی خدمت کے دائرے کو مزید منظم اور وسیع کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک عوامی خدمت کا مطلب صرف سیاسی معاملات میں لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا نہیں بلکہ ان کی بنیادی ضروریات، تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی مشکلات میں عملی مدد فراہم کرنا ہے۔صادق خان ادوزئی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کو محض سیاسی گفتگو کا حصہ نہیں سمجھتے بلکہ انہیں معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔ ان کے سیاسی و سماجی مو¿قف میں عام آدمی، مزدور، تاجر، نوجوان اور معاشی مشکلات سے دوچار خاندان خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں، بالخصوص سرحدی اضلاع کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل کو بھی نمایاں جگہ حاصل رہی ہے۔اسی سلسلے میں نور احمد راہی نے صادق خان ادوزئی کے پارٹی دفتر میں ان سے خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بلوچستان کی موجودہ سماجی و معاشی صورتحال، عوامی مسائل، نوجوانوں کے مستقبل، روزگار کے مواقع، تعلیم، سیاسی و سماجی شعور اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے مختلف پہلوو¿ں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔اس موقع پر حاجی صادق خان ادوزئی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “نوجوان ہمارے ملک کا سرمایہ ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک اور معاشرے کی حقیقی طاقت اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے، اس لیے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو یہی نسل ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔حاجی صادق خان ادوزئی کے نزدیک نوجوانوں کو صرف مستقبل کا شہری سمجھنا کافی نہیں بلکہ انہیں آج ہی معاشرے کی تعمیر و ترقی کے عمل میں شریک کرنا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو فیصلہ سازی، تعلیم، ہنر، کاروبار، روزگار اور سماجی سرگرمیوں کے مواقع ملنے چاہئیں تاکہ ان کے اندر موجود صلاحیتیں مثبت انداز میں سامنے آسکیں۔ ایک باصلاحیت نوجوان اگر مناسب رہنمائی اور مواقع سے محروم رہ جائے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ یہاں کے نوجوان تعلیم، کھیل، فن، تجارت، سرکاری و نجی شعبے اور مختلف پیشہ ورانہ میدانوں میں اپنی قابلیت ثابت کر رہے ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں آگے بڑھنے کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کے لیے فنی تعلیم اور ہنرمندی کے مراکز کو وسعت دی جائے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں اور نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی معاشی حالت بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔غریب اور نادار خاندانوں کی کفالت حاجی صادق خان ادوزئی کی سماجی خدمات کا ایک اہم حصہ ہے۔ ایسے ہزاروں خاندان جو محدود آمدن کے باعث اپنے گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، ان کے لیے مالی معاونت کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ اس معاونت کا مقصد صرف وقتی ضرورت پوری کرنا نہیں بلکہ مشکل حالات سے گزرنے والے خاندانوں کو زندگی کا سفر جاری رکھنے میں سہارا فراہم کرنا ہے۔تعلیم کے میدان میں بھی حاجی صادق خان ادوزئی کی خدمات نمایاں ہیں۔ بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں ایسے متعدد طلبہ و طالبات موجود ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ اور صلاحیت رکھتے ہیں لیکن مالی وسائل کی کمی ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ایسے مستحق طلبہ و طالبات کے تعلیمی اخراجات اپنی جیبِ خاص سے برداشت کرنا ان کی سماجی خدمت کا اہم پہلو ہے۔ فیس، تعلیمی ضروریات اور دیگر اخراجات میں معاونت کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ غربت کسی طالب علم کو تعلیم سے محروم نہ کرے اور باصلاحیت نوجوان وسائل کی کمی کے باعث اپنا مستقبل تاریک نہ سمجھیں۔صحت کے شعبے میں بھی حاجی صادق خان ادوزئی مستحق اور غریب مریضوں کے ساتھ عملی تعاون کرتے ہیں۔ امراضِ قلب، کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا ایسے افراد جن کے لیے علاج کے بھاری اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں، ان کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ بعض ضرورت مند مریضوں کے علاج کے اخراجات کے ساتھ ساتھ ان کے گھریلو معاملات میں بھی تعاون کیا جاتا ہے تاکہ بیماری کے باعث متاثر ہونے والے خاندان کو دوہرے مالی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ خدمت اس انسانی سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ بیمار انسان کو علاج کے لیے وسائل فراہم کرنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بھی ہے اور انسانیت کا تقاضا بھی۔حاجی صادق خان ادوزئی کی سماجی خدمات کا ایک نہایت اہم پہلو نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی خودکفالت کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ بے روزگاری خصوصاً نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے محض ملازمت کے انتظار کے بجائے نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانا ان کی عملی ترجیحات میں شامل ہے۔ متعدد نوجوانوں کو مالی تعاون فراہم کرکے انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے کے مواقع دیے گئے ہیں تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کریں، اپنے خاندان کی کفالت کریں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔یہ معاونت حکومتی وسائل کے ذریعے نہیں بلکہ ذاتی وسائل سے فراہم کی جاتی ہے، جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو مستقل معاشی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ ایک نوجوان کو کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ فراہم کرنا دراصل ایک پورے خاندان کو معاشی استحکام کی طرف لے جانے کے مترادف ہے۔ اسی سوچ کے تحت نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں سے جوڑنے اور انہیں منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔حاجی صادق خان ادوزئی کی سماجی سرگرمیوں میں عام شہریوں کے معاشی مسائل بھی نمایاں ہیں۔ خصوصاً تاجروں، مزدوروں اور سرحدی علاقوں سے وابستہ افراد کے روزگار کے مسائل کو وہ اہم سمجھتے ہیں۔ بلوچستان کے کئی علاقوں میں لوگوں کا روزگار براہ راست تجارت، سرحدی آمدورفت، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہے۔ جب ان سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف کاروباری طبقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ مزدوروں، دکانداروں، ٹرانسپورٹروں اور عام خاندانوں تک پہنچتے ہیں۔اسی لیے حاجی صادق خان ادوزئی اپنی گفتگو میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک مضبوط معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب عام شہری کو باعزت روزگار میسر ہو، نوجوان کو اپنے مستقبل کے حوالے سے امید اور مواقع حاصل ہوں اور کاروباری طبقے کو اپنے کاروبار کے لیے سازگار ماحول دستیاب ہو۔مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے منشور اور عوامی جدوجہد میں بھی نوجوانوں کے مسائل، تعلیم، روزگار، معاشی مواقع اور بنیادی حقوق کو اہم مقام حاصل ہے۔ حاجی صادق خان ادوزئی نوجوانوں کو ملک و قوم کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے ان کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ بلوچستان میں بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے خاتمے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور نوجوانوں کو اعتماد میں لینے کی بات بھی وہ مختلف عوامی اجتماعات میں کرتے رہے ہیں۔مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے پلیٹ فارم سے عوامی رابطوں اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی تسلسل پایا جاتا ہے۔ مختلف علاقوں میں پارٹی تنظیم سازی، عوامی اجتماعات، نوجوانوں کی شمولیت اور نئے کارکنوں کی وابستگی اس سیاسی سفر کا حصہ ہیں۔ 2026ءمیں کوئٹہ میں مظلوم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی صوبائی کانفرنس اور شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حاجی صادق خان ادوزئی نے نوجوانوں کو اعتماد میں لینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بلوچستان کے معاشی مسائل کے حل پر زور دیا۔ اسی تقریب میں نئی تنظیمی ذمہ داریوں کے لیے حلف برداری اور سیاسی شمولیت بھی ہوئی۔حاجی صادق خان ادوزئی کی عوامی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ نوجوانوں کو سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں آگے لانے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک نوجوان محض مستقبل کے ووٹر یا سیاسی کارکن نہیں بلکہ ملک اور معاشرے کے موجودہ اور اہم ترین اثاثے ہیں۔ اسی لیے تعلیم، روزگار، ہنر اور معاشی خودکفالت کے ذریعے نوجوان نسل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر توجہ دی جاتی ہے۔صادق خان ادوزئی کی سیاسی شناخت کا ایک اہم حوالہ مظلوم عوامی تحریک پاکستان ہے۔ ان کی قیادت میں جماعت عوامی حقوق، بنیادی سہولیات، حقیقی نمائندگی، نوجوانوں کے مسائل، روزگار اور معاشی مشکلات جیسے موضوعات کو اپنی سیاسی گفتگو کا حصہ بناتی رہی ہے۔ حالیہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی تحریک کی جانب سے مختلف سماجی اور قبائلی حلقوں کے ساتھ رابطوں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے حوالے سے صادق خان ادوزئی کا مو¿قف یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد کا بنیادی مقصد عوام کے مسائل کو ایوانوں، سیاسی فورمز اور متعلقہ حکام تک پہنچانا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست کو عوام سے دور نہیں ہونا چاہیے بلکہ سیاسی قیادت کو عام شہری کے مسائل سمجھنے اور ان کے حل کے لیے آواز اٹھانے کے لیے عوام کے درمیان موجود رہنا چاہیے۔حاجی صادق خان ادوزئی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو عوام سے براہِ راست اور محبت بھرا تعلق ہے۔ وہ غریب اور عام شہری سے ملاقات میں کسی طبقاتی فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ اعلیٰ سماجی حیثیت کے باوجود ان کے طرزِ عمل میں سادگی، عاجزی، خوش اخلاقی اور ملنساری نمایاں ہے۔ ضرورت مند افراد کے مسائل سننا، ان کی مشکلات کو سمجھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کے لیے عملی قدم اٹھانا ان کے عوامی طرزِ سیاست کا اہم حصہ ہے۔ان کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو عوامی رابطہ ہے۔ وہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتوں اور عوامی اجتماعات کے ذریعے ان کے مسائل جاننے اور انہیں سیاسی و سماجی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قبائلی عمائدین، سیاسی کارکنوں، نوجوانوں، تاجروں اور سماجی شخصیات کے ساتھ رابطہ ان کی سیاسی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں عوامی رابطہ محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم سماجی ضرورت بھی ہے۔ مختلف علاقوں کے مسائل اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کہیں روزگار بنیادی مسئلہ ہے، کہیں تعلیم اور صحت کی سہولیات کی ضرورت ہے، کہیں سرحدی تجارت سے وابستہ مشکلات ہیں اور کہیں نوجوانوں کے لیے مواقع کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی و سماجی قیادت کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ مختلف علاقوں کے مسائل کو سمجھتے ہوئے انہیں مو¿ثر انداز میں متعلقہ اداروں تک پہنچائے۔ان کی خدمت کا دائرہ کسی ایک علاقے، برادری یا مخصوص طبقے تک محدود نہیں۔ بلا رنگ و نسل عوام کی خدمت، مستحق افراد کی مدد اور ضرورت مند خاندانوں کے ساتھ تعاون ان کے سماجی مشن کا بنیادی حصہ ہے۔ بلوچستان سے باہر بھی ان کی سماجی سرگرمیوں کا دائرہ موجود ہے جبکہ پاکستان کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک مستحق افراد تک بھی معاونت پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔ملاقات کے دوران نور احمد راہی نے بھی نوجوانوں کے کردار، صحافت کی سماجی ذمہ داری اور بلوچستان کے عوامی مسائل کو مثبت انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت پر گفتگو کی۔ اس موقع پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معاشرے میں مثبت سوچ، تعلیم، برداشت، بھائی چارے اور نوجوانوں کی تعمیری سرگرمیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔حاجی صادق خان ادوزئی کی گفتگو میں نوجوانوں کے حوالے سے ایک مثبت اور امید افزا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ نوجوانوں کو معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ ملک کا سرمایہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع دیے جائیں تو وہ ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے، سماجی ترقی کو آگے بڑھانے اور مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور عملی مہارتیں بھی حاصل کریں۔ موجودہ دور میں صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں مہارت، ٹیکنیکل تعلیم، کاروباری تربیت اور جدید علوم سے واقفیت بھی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ حکومت، تعلیمی اداروں، نجی شعبے اور سماجی تنظیموں کو مل کر نوجوانوں کے لیے ایسے پروگرام تشکیل دینے چاہئیں جن سے انہیں عملی زندگی میں داخل ہونے کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔صادق خان ادوزئی کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ، سیاسی قیادت، کاروباری طبقہ اور سماجی شخصیات سب کو مل کر نوجوان نسل کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔صادق خان ادوزئی کی شخصیت کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کے سیاسی و سماجی کردار کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف وہ مظلوم عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف عوامی رابطے، سماجی مسائل اور نوجوانوں کے مستقبل کو اپنی گفتگو کا حصہ بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست اور سماجی خدمت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ سیاست کا بنیادی مقصد ہی عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے مو¿ثر آواز بننا ہے۔بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا، روزگار کے دروازے کھولنا، تعلیم اور ہنر کو فروغ دینا اور عوام کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ایسے موضوعات ہیں جن پر وسیع سماجی توجہ کی ضرورت ہے۔ صادق خان ادوزئی انہی موضوعات کو اپنی سیاسی و سماجی گفتگو میں نمایاں کرتے ہیں اور نوجوانوں کو ملک کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کو قومی ترقی سے جوڑتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کو صرف ایک سیاسی جماعت کے رہنما کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک ایسے عوامی رابطہ رکھنے والے سماجی کردار کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے جو مختلف طبقات کے مسائل کو اپنی گفتگو میں جگہ دیتا ہے۔ مظلوم عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے ان کی سیاسی سرگرمیاں اور عوامی مسائل کے حوالے سے ان کا مو¿قف ان کی جدوجہد کے نمایاں پہلو ہیں۔صادق خان ادوزئی کی گفتگو کا سب سے نمایاں پیغام نوجوان نسل کے حوالے سے یہی ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا بوجھ نہیں بلکہ اس کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر اس سرمائے کو تعلیم، ہنر، روزگار، مثبت سوچ اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے سب سے مو¿ثر کردار بن سکتے ہیں۔حاجی صادق خان ادوزئی کی سماجی خدمات کا یہ سفر ان کے لیے محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مسلسل سماجی ذمہ داری ہے۔ غریب خاندان کی کفالت، مستحق طالب علم کی تعلیم، بیمار انسان کے علاج، بے روزگار نوجوان کے کاروبار اور ضرورت مند فرد کی مالی معاونت جیسے اقدامات ان کی سماجی سوچ کے مختلف پہلوو¿ں کو واضح کرتے ہیں۔ان کی یہی انسان دوستی اور عوام سے قربت انہیں اپنے حلقہ? اثر میں ایک منفرد عوامی شناخت عطا کرتی ہے۔ جو لوگ ان کی سماجی خدمات سے مستفید ہوتے ہیں، وہ انہیں اپنی دعاو¿ں میں یاد رکھتے ہیں۔ ان کے لیے عمر درازی، صحت، خوشحالی اور رزق میں برکت کی دعائیں کی جاتی ہیں، کیونکہ کسی ضرورت مند کی مشکل گھڑی میں مدد کرنا صرف مالی تعاون نہیں بلکہ ایک ایسا انسانی عمل ہے جس کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔حاجی صادق خان ادوزئی کی زندگی اور سماجی جدوجہد کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ سیاست کو عوام سے دور رہ کر نہیں بلکہ عوام کے درمیان رہ کر سمجھا جا سکتا ہے۔ غریب کے دکھ کو محسوس کرنا، نوجوان کے مستقبل کی فکر کرنا، طالب علم کی تعلیم کا سہارا بننا، مریض کے علاج میں مدد دینا اور بے روزگار نوجوان کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے کے لیے وسائل فراہم کرنا خدمتِ خلق کی وہ عملی شکلیں ہیں جنہیں انہوں نے اپنی سماجی اور سیاسی جدوجہد کا حصہ بنایا ہے۔مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے چیئرمین حاجی صادق خان ادوزئی کا عوامی سفر اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقے کو مضبوط کیا جائے، نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں، طلبہ و طالبات کو تعلیم جاری رکھنے کے لیے وسائل میسر آئیں اور مستحق خاندانوں کو مشکل حالات میں تنہا نہ چھوڑا جائے۔ یہی وہ انسانی اور عوامی سوچ ہے جس نے حاجی صادق خان ادوزئی کو ایک ایسے سماجی رہنما کے طور پر نمایاں کیا ہے جن کی سیاسی جدوجہد کے ساتھ خدمتِ خلق کا پہلو بھی مسلسل نمایاں ہے۔نور احمد راہی سے پارٹی دفتر میں ہونے والی خصوصی ملاقات بھی اسی عوامی اور سماجی سوچ کے مختلف پہلوو¿ں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی، جہاں بلوچستان کے عوامی مسائل، نوجوانوں کا مستقبل اور معاشرے کی مجموعی ترقی کے حوالے سے ایک مفصل اور بامقصد تبادلہ? خیال ہوا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *