Banner
Daily Sahafat Quetta
September 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں پہلی ادبی ورکشاپ اور عہدِ جون ایلیاء مشاعرہچادرِ حیا اتارنے کی عالمی سازش اور امت مسلمہانسانی وجود، الہیٰ انجینئرنگ کا نقطۂ کمالپاکستان میں دراندازی کرنیوالے خوارج میں 70 فیصد دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے: سکیورٹی ذرائعسعودیہ پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلبآئی ایم ایف شرائط، پارلیمنٹ میں 174 ترامیم پیش کی جائیں گیبلوچستان میڈیا فورم امید کی کرن بن چکا ہے،گووندا راہیجہکوئٹہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ، دو کمسن بچے جاں بحقکوئٹہ پولیس اہلکاروں کے یونیفارم میں ٹک ٹاک بنانے پر پابندیسمندری وسائل اور بلوچستان کے تجارتی راستےکوئٹہ میں پہلی ادبی ورکشاپ اور عہدِ جون ایلیاء مشاعرہچادرِ حیا اتارنے کی عالمی سازش اور امت مسلمہانسانی وجود، الہیٰ انجینئرنگ کا نقطۂ کمالپاکستان میں دراندازی کرنیوالے خوارج میں 70 فیصد دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے: سکیورٹی ذرائعسعودیہ پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلبآئی ایم ایف شرائط، پارلیمنٹ میں 174 ترامیم پیش کی جائیں گیبلوچستان میڈیا فورم امید کی کرن بن چکا ہے،گووندا راہیجہکوئٹہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ، دو کمسن بچے جاں بحقکوئٹہ پولیس اہلکاروں کے یونیفارم میں ٹک ٹاک بنانے پر پابندیسمندری وسائل اور بلوچستان کے تجارتی راستے

کوئٹہ میں پہلی ادبی ورکشاپ اور عہدِ جون ایلیاء مشاعرہ

ادبی منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔📚
کوئٹہ میں پہلی ادبی ورکشاپ اور عہدِ جون ایلیاء مشاعرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پشتو کلچر سے پر پشتو اکیڈمی کی شاندار تقریب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🖊️ شیخ فرید
ادب کا دائرہ کار دراصل معاشرتی خوبصورتی کا احاطہ کرتا ہے ۔اِس کیلیے لازم ہے کہ ادب اور ادیب دونوں کا کردار مثبت ، فعال اور متحرک ہو اور اچھی سوچ و فکر اِس کا محور ہو ۔ عصرِ حاضر کے تقاضے پورے کرنے کیلیے علمی و ادبی محرکات کو تیز تر کیا جائے ۔اِس ضرورت کے پیشِ نظر بلوچستان ریفارمز سوشل نیٹ ورک کی ادبی سوسائٹی نظامت ثقافت حکومتِ بلوچستان کے تعاون و اشتراک سے کویٹہ کی تاریخ میں پہلی بار “ادبی ورکشاپ” منعقد ہو رہی ہے ۔
ادبی ورکشاپ میں بزم جہاں آراء کا کلیدی کردار ہے ۔
بلوچستان میں پہلی مرتبہ ادبی ورکشاپ کا انعقاد بزم , جہاں اراء اور بلوچستان ریفارمز ادبی سوسائٹی کے زہر اہتمام محکمہء ثقافت حکومت , بلوچستان کے تعاون سے ایک روزہ ادبی ورکشاپ کا انعقاد بمقام نوری نصیر خان کلچر کمپلکس میں کیا جارہا ہے
اس ادبی ورکشاپ میں تقریبا پچاس سے زائد بوائز ایند گرلز کالجز کےطلباءو طالبات شرکت کریں گے اس ادبی ورکشاپ کا خاص مقصد نوجوان نسل کو ادب کی طرف راغب کرتے ہوئے طبیعت کو لکھنے کی جانب مائل کرنا ہے
یہ ادبی ورکشاپ چار سیشن پر مشتمل ہوگی
پہلا سیشن ادب , اطفال کا ہو گا جو راقم الحروف (شیخ فرید) کرینگے
دوسرا سیشن سفر نامہ کا
شفقت عاصمی کے ذمہ ہو گا
جبکہ تیسرا سیشن ناول اور افسانہ ہو گا جسےآغا گل کرینگے
چوتھا اور آخری سیشن شاعری
جہاں اراء تبسم کرینگی
ان تمام سیشنز کے اختتام پر منتخب طلباء و طالبات پر مشتمل شعراء و شاعرات کے لئے مشاعرہ بھی رکھا گیا ہے
نثر نگاری کا شوق رکھنے والے لکھاریوں میں سے کسی ایک منتخب لکھاری کو افسانہ یا کوئی اور تحریر پڑھنے کی دعوت دی جائے گی
اس ادبی ورکشاپ کی مہمان, خاص ریڈیو پاکستان کوئٹہ کی ڈائریکٹر محترمہ صدیقہ ملالئی ہونگی جبکہ مہمان, اعزاز ڈائریکٹر کلچر داؤد خان ترین ہونگے
بعد ازاں مقررین کو شیلڈز اور طلباء و طالبات کو سرٹیفکیٹس سے نوازا جائے گا
اس طرح یہ خوبصورت تقریب قابلِ صد ستائش ہو گی ۔
نوجوان شاعر اور عالمی سطح کے شہرت یافتہ شاعر جون ایلیاء کے عقیدت مند غلام علی جون نے ادبی دنیا میں بہت کم وقت بہت زیادہ نام اور مقام بنا لیا ہے ۔ موصوف جون ایلیاء کی محبت اور عقیدت میں عہد جون ایلیاء کے نام سے پاکستان بھر میں مشاعرے کرانے کا اعلان کیا ہے ۔
کویٹہ میں مشاعرہ معروف شاعر سرور جاوید کی صدارت میں ہوا مہمانانِ گرامی میں محترمہ تسنیم صنم ، محترمہ فہمیدہ گل ، اور محترمہ جہاں آراء تھیں ۔
مہمانِ خاص کے طور پر ڈاکٹر جمیل قزلباش ، عظمی جون اور محسن چنگیزی شامل تھے ۔
مشاعرے میں کوئٹہ کے مقامی شعراء کرام کی بڑی تعداد نے اپنا خیال افروز کلام پیش کر کے سامعین سے دادِ تحسین حاصل کی ۔
پشتون کلچر ڈے کی مناسبت سے پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے زیر اہتمام علمی اور ادبی تقریب کا منعقد ہوئی ا، جس میں اہل دانش اور مُخیر حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
تقریب پانج سیشنوں پر مبنی تھی ۔ پہلے سیشن کے صدر مجلس ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر عبدالخالق مندوخیل تھے
مہمان خصوصی سیکرٹری ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی تھے ۔ شرکت کی ۔ ڈاکٹر حافظ رحمت نیازئی، اعزازی مہمانوں کے طور پر شرکت کی ۔احمد علی بیگ اور شوکت ترین نے نظامت کے فرائض سنبھالے ، پہلے سیشن کے دوران ڈاکٹر میر حسن خان اتل نے بھی پشتون کلچر کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا ۔
ٹی پارٹی اور نماز ظہر کا وقفہ
دوسرے سیشن میں پشتون کلتور کے ماضی اور حال کے موضوع پر مذاکرے ہوا ۔جس میں نواب زادہ حاجی لشکری رئیسانی، ریٹائرڈ پرنسپل ڈاکٹر سراج خان کاکڑ، ممتاز سکالر اور عالم دین عبدالمتین اخوند زادہ، ڈائریکٹر آف پاکستان سٹڈی سنٹر بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ ڈاکٹر عثمان توبہ وال ، ڈاکٹر حمیداللہ کاکڑ ، کامران اچکزئی ، ڈایریکٹر سہیل خٹک اورسرور سودائی نے حصہ لیا ۔
مذاکرے کے میزبان پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے جنرل سیکرٹری نقیب احساس تھے۔ تیسرے سیشن کیلیےتمام مہمانان گرامی اور دیگر تمام شرکاء اکیڈمی کے خان شھید آڈیٹوریم سے باہر نِکل کر بڑے اور مزین شدہ شامیانی کے طرف آ گئے، یہاں دو ڈھولوں کے تھانپ پر اور سورنا کے نغمہ گیر سُریلی آواز میں علاقائی اتنڑ سے لطف اندوز ہوئیں، اتنڑ، ڈھول اور سُرنا جوکہ پشتون کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہیں
چوتھا سیشن کے دوران لیونتون ٹائٹل کے نام سے پشتو تھٹر ڈرامہ پیش کیا گیا، یہ ڈرامہ ایک گھنٹے پر مشتمل تھا، جس کے معنی خیز پیغام سے تمام شرکاء محضوظ ہوئے، اِس ڈرامے کی رائٹر سید آمان شاہ تھے ، مردوں اور خواتین پر مُشتمل فنکاروں نے ڈرامے میں حصہ لیا
پانچواں سیشن کے سٹیج سیکرٹری ذاکر زیارتوال تھے
علاقائی فنکاروں نے پشتو فوک شاعری اور کسری غزلیات سے شرکاء کو محظوظ کیا ، ضِلع قلعہ سیف اللہ سے شریف اللہ، ضلع زیارت سے مُحیب اللہ اور ضلع چمن سے نعیم جان (ناشناس)، نعمت اللہ ثانی اور جان محمد بطور گاہکار بھی شریک ہوئے ۔
پشتو اکیڈمی کوئٹہ کی جانب سے مہمانوں کے سر پر دستار رکھی گئیں ، کوئٹہ میں خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر سید ابوالحسن میری نے بھی اِس تقریب میں شرکت کی ۔
تقریب میں مرد حضرات کے ساتھ ساتھ پشتون ثقافتی لباس میں ملبوس معزز خواتین اور بچوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ رات کو پشتون روایات کے مطابق عشائیہ دیا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *