Banner
Daily Sahafat Quetta
September 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بی وائی سی رہنما گل زادی کو قتل کیس میں عمر قید کی سزاکوئٹہ میں گوشت مہنگا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی، 8 افراد گرفتارنیب بلوچستان کی کھلی کچہری 24 ستمبر کو ہوگیوزیراعلیٰ بلوچستان کی سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے گھر آمد، تعزیت اور فاتحہ خوانیدہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس، کارروائیاں جاری رہیں گی، میر سرفراز بگٹیاوستامحمد میں پولیس کی بڑی کارروائی، جوا کے اڈے پر چھاپہ، متعدد جواری گرفتارجے یو آئی کوئٹہ کی مجلس عمومی کا اجلاس 8 اکتوبر کو ہوگامحکمہ صحت بلوچستان اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطبااختیار خواتین، روشن مستقبلشاہراہوں کا کام مکمل ہوتے ہی کوئٹہ کا ٹریفک مسئلہ مستقل حل ہوجائے گا، میر سلیم کھوسہبی وائی سی رہنما گل زادی کو قتل کیس میں عمر قید کی سزاکوئٹہ میں گوشت مہنگا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی، 8 افراد گرفتارنیب بلوچستان کی کھلی کچہری 24 ستمبر کو ہوگیوزیراعلیٰ بلوچستان کی سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے گھر آمد، تعزیت اور فاتحہ خوانیدہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس، کارروائیاں جاری رہیں گی، میر سرفراز بگٹیاوستامحمد میں پولیس کی بڑی کارروائی، جوا کے اڈے پر چھاپہ، متعدد جواری گرفتارجے یو آئی کوئٹہ کی مجلس عمومی کا اجلاس 8 اکتوبر کو ہوگامحکمہ صحت بلوچستان اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطبااختیار خواتین، روشن مستقبلشاہراہوں کا کام مکمل ہوتے ہی کوئٹہ کا ٹریفک مسئلہ مستقل حل ہوجائے گا، میر سلیم کھوسہ

ہر دلعزیز شخصیت جناب ذوالفقار احمد چیمہ کے اعزاز میں سلطنتِ عمان کے سابق اعزازی سرمایہ کاری قونصلیٹ جنرل جاوید نواز کی جانب سے ایگزیکٹو کلب پنجاب یونیورسٹی میں پرتکلف عشائیہ

ہر دلعزیز شخصیت جناب ذوالفقار احمد چیمہ کے اعزاز میں سلطنتِ عمان کے سابق اعزازی سرمایہ کاری قونصلیٹ جنرل جاوید نواز کی جانب سے ایگزیکٹو کلب پنجاب یونیورسٹی میں پرتکلف عشائیہ

منشا قاضی
حسبِ منشا

کچھ محفلیں صرف محفلیں نہیں ہوتیں، وہ اپنے اندر ایک عہد کی خوشبو، تعلق کی حرارت اور فکر کی روشنی سمیٹ لیتی ہیں۔ ایگزیکٹو کلب، پنجاب یونیورسٹی میں پاکستان کے معروف سول سرونٹ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) پاکستان، مصنف اور انسپکٹر جنرل نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس، جناب ذوالفقار احمد چیمہ کے اعزاز میں منعقد ہونے والا پرتکلف عشائیہ بھی ایسی ہی ایک یادگار شام تھی، جہاں ذائقوں سے سجے دسترخوان کے ساتھ ساتھ خیالات کی شمعیں بھی روشن رہیں۔
اس خوبصورت اور پُروقار عشائیے کی میزبانی سلطنت عمان کے سابق اعزازی سرمایہ کاری قونصلیٹ جنرل جناب جاوید نواز نے کی۔ ان کی میزبانی میں مشرقی روایات کی وہی دل آویز جھلک دکھائی دی جہاں مہمان نوازی محض ایک رسم نہیں بلکہ محبت، احترام اور تعلق کا اظہار بن جاتی ہے۔
تقریب میں صحافت، ادب، دانش، سماجی زندگی، تعلیم، انتظامی امور اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ معروف سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی جن کی خطابت ایک زمانے میں دلائل و براہین کو نذرِ آتش کر دیتی تھی اور آج وہ دلائل و براہین کی قوت سے فصاحت و بلاغت کو نذرِ آتش کر رہے ہیں، حفیظ اللہ خان نیازی ، جناب حامد خان، ڈاکٹر خالد نواز ، پروفیسر ڈاکٹر امانء اللہ ، سید تنویر عباس تابش ایم۔ اے۔ شکوری، سمیت متعدد معزز شخصیات کی موجودگی نے اس شام کو ایک غیر معمولی فکری و سماجی اجتماع میں تبدیل کر دیا۔
محفل کا حسن یہ تھا کہ یہاں مختلف شعبوں اور مختلف فکری پس منظر رکھنے والے افراد ایک ہی دسترخوان پر موجود تھے۔ کھانے کی خوشبو، قہقہوں کی ہلکی آوازیں، ملاقاتوں کی گرمجوشی اور سنجیدہ گفتگو سب مل کر ایک ایسی فضا تشکیل دے رہے تھے جس میں سماجی میل جول بھی تھا اور قومی فکر بھی۔ محترم جاوید نواز نے اپنے دوستوں کو خوش آمدید کہا اور بلا تمہید جناب ذوالفقار علی چیمہ کو اظہارِ خیال کی دعوت دے دی اور وہ ملک کے نامور صحافی اور خطیب مجیب الرحمن شامی صاحب کی موجودگی کو اپنے لیئے اعزاز سمجھتے ہوئے گویا ہوئے اور پاکستان کے موجودہ قومی حالات، عالمی منظرنامے، معیشت، تعلیم، نوجوانوں کے مستقبل، قومی اداروں، ذرائع ابلاغ کے کردار اور بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں سمیت متعدد موضوعات پر گفتگو کی جس کی جستجو میں سامعین کی آرزو جاگ اٹھی اور جنابِ مجیب الرحمن شامی اور ممتاز قانون دان حامد علی خان، حفیظ اللہ خان نیازی ، سابق طالب علم راہنما سید تنویر عباس تابش بھی اظہارِ خیال کرتے رہے ۔ جناب ذوالفقار احمد چیمہ قومی ترجیحات پر بات کر رہے تھے اور کہیں صحافت کے بدلتے ہوئے کردار پر تبادلۂ خیال جاری تھا، جبکہ نوجوان نسل کے لیئے ہنر، تعلیم اور روزگار کے نئے امکانات بھی چیمہ صاحب کی گفتگو کا حصہ بنے۔
یہی اس محفل کا امتیاز تھا کہ گفتگو رسمی تعارف سے آگے بڑھ کر قومی زندگی کے ان سوالات تک جا پہنچی جن کا تعلق براہِ راست پاکستان کے مستقبل سے ہے۔
جناب ذوالفقار احمد چیمہ کی شخصیت اس شام کا مرکزی حوالہ تھی۔ پاکستان کی سول سروس اور انتظامی میدان میں ان کا نام ایک نمایاں شناخت رکھتا ہے۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی وابستگی نے انہیں عوامی سطح پر بھی ایک معروف شخصیت بنایا، جبکہ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے قومی ادارے NAVTTC سے ان کا تعلق پاکستان کے نوجوانوں کے لیئے ہنرمندی اور روزگار کے موضوع کو مزید اہمیت دیتا ہے۔
ان کے اعزاز میں منعقدہ یہ تقریب دراصل ان کی خدمات، شخصیت اور قومی زندگی میں ان کے کردار کے اعتراف کا ایک خوبصورت سماجی اظہار بھی محسوس ہوئی۔
محفل میں شریک شخصیات نے ذوالفقار احمد چیمہ کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو کی اور ان کی انتظامی زندگی، قومی اداروں اور نوجوانوں سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
میزبان جاوید نواز، اعزازی قونصل جنرل آف عمان نے مہمانوں کا جس محبت، خلوص اور گرمجوشی سے استقبال کیا، وہ تقریب کی نمایاں خصوصیات میں شامل تھا۔
پرتکلف عشائیے میں مختلف ذائقوں سے بھرپور پکوان پیش کیئے گئے۔ خوبصورت انداز میں آراستہ دسترخوان، خوشگوار ماحول اور میزبان کی جانب سے مہمانوں کی خصوصی تواضع نے شام کو ایک یادگار ضیافت میں بدل دیا۔
مگر اس عشائیے کی اصل لذت صرف کھانوں میں نہیں تھی؛ اصل لطف ان ملاقاتوں میں تھا جو مدتوں بعد ہوئیں، ان مسکراہٹوں میں تھا جو بے ساختہ چہروں پر آئیں اور ان مکالموں میں تھا جنہوں نے ایک معمول کی شام کو فکری اہمیت عطا کر دی۔
تقریب میں ممتاز صحافیوں اور دانشوروں کی موجودگی نے گفتگو کو خصوصی معنویت بخشی۔ میزبان خاص جاوید نواز سمیت دیگر شخصیات نے ملکی اور عالمی حالات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔
صحافت کا کمال یہی ہے کہ وہ اپنے عہد کے سوالات کو زبان دیتی ہے، اور ایسی محافل میں جب تجربہ کار صحافی، دانشور، انتظامی شخصیات اور سماجی رہنما ایک دوسرے کے روبرو بیٹھتے ہیں تو گفتگو محض گفتگو نہیں رہتی بلکہ معاشرے کی فکری تصویر کا ایک عکس بن جاتی ہے۔
اس موقع پر مختلف آرا، تجربات اور مشاہدات کا تبادلہ ہوا۔ قومی مسائل کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور عالمی تبدیلیوں کے پاکستان پر ممکنہ اثرات پر غور کرنے کا موقع بھی ملا۔
پاکستانی تہذیب میں دسترخوان ہمیشہ سے صرف کھانے کی جگہ نہیں رہا۔ یہ محبت کا استعارہ ہے، تعلق کا وسیلہ ہے، اور کبھی کبھی وہ مقام بھی جہاں فاصلے سمٹ جاتے ہیں اور دل ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔
ایگزیکٹو کلب کی یہ ضیافت بھی اسی روایت کی خوبصورت مثال تھی۔ یہاں عہدے پس منظر میں چلے گئے، رسمی فاصلے کم ہوئے اور انسان انسان کے سامنے بیٹھا نظر آیا۔ کسی کے لیئے یہ دیرینہ دوستوں سے ملاقات تھی، کسی کے لیے نئے تعلقات استوار کرنے کا موقع، اور کسی کے لیئے قومی و عالمی معاملات پر اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ مکالمے کا خوبصورت تجربہ۔
ایگزیکٹو کلب پنجاب یونیورسٹی کی یہ شام بظاہر ایک عشائیے کے لیئے سجائی گئی تھی، مگر اختتام پر یہ ملاقات، مکالمے، محبت، میزبانی اور قومی فکر کی ایک مکمل داستان بن چکی تھی۔
ذوالفقار احمد چیمہ کے اعزاز میں منعقدہ اس تقریب نے یہ احساس ایک بار پھر تازہ کیا کہ معاشرے کی اصل توانائی صرف بڑے اداروں اور ایوانوں میں نہیں ہوتی؛ وہ ان چھوٹی بڑی محفلوں میں بھی سانس لیتی ہے جہاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کو سنتے، سمجھتے اور اپنے تجربات بانٹتے ہیں۔
جاوید نواز کی پُرخلوص میزبانی اور ان کی طبع کی روانی ماحول میں ان کے چہرے کی مسکراہٹ چاندنی بکھیر دیتی ہے ، وہ جب بھی سلطنت عمان سے پاکستان آتے ہیں تو وہ دوستوں کو جامعہ پنجاب کے ایگزیکٹیو کلب میں مدعو کرتے ہیں وہ مہمان نواز ہی نہیں سخن دلنواز بھی ہیں اور ڈاکٹر امان اللہ سے ملاقات ہو جاتی ہے ۔ وہ دبے پاؤں بزمِ جاوید نواز سے نکل گئے تھے اور واپسی کا بلیغ عندیہ دے گئے تھے ۔ جاوید نواز صاحب کی محبت میں آج بھی ممتاز شخصیات جو تشریف فرما تھیں ان کے اسمائے گرامی پر اتفاق کرتا ہوں جناب مجیب الرحمن شامی اخوت و رواداری کے حامی اور خوش نظری اور احترام کے سزاوار ہیں ، ممتاز قانون دان حامد خان کی دلائل و براہین سے آراستہ گفتگو کی جستجو میں اپنی آرزو جاگ اٹھی ، جناب سلیم منصور ، جنابِ عابد سعید سابق سی ایس ، جناب فاروق مظہر ڈی جی نیپا ، جناب سید حسنات ، جناب حفیظ اللہ نیازی ، جناب ساجد میر ، جناب احمد بلال محبوب ، ڈاکٹر خالد نواز ، عسکری دانشور کرنل اشفاق احمد ، ڈاکٹر حسن بنا ، جناب سلمان زاہد ،جناب اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ ، اے ایم شکوری ، سابق طالب علم راہنما سید تنویر عباس تابش کی داستانِ جگر پاش نے اجسام و ابدان میں ایک لرزش خفی پیدا کر دی اور میں سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی وہ ہلکی سی شکایت جو اس قوم سے کی تھی وہ عباس تابش پر بھی صادق آتی ہے ۔ شاہ جی نے کہا تھا جیل خانہ میری بیوی کا حق مہر نہ تھا اور نہ ہی وہ عفیفہ ء خاتون اپنے ساتھ جہیزمیں لائی تھی ، تابش کا حوصلہ آج بھی آگ کو گلزار بنا سکتا ہے ، جناب سلیمان نجیب خان اور جناب ڈاکٹر عامر ابدالی کی موجودگی بھی ان کی علمی وجاہت کا پتہ دے رہی تھی عامر صاحب جیسی عبقری شخصیت کی شرکت اور جناب ذوالفقار احمد چیمہ کی شخصیت کا حوالہ، قومی و عالمی موضوعات پر ہونے والا بامعنی مکالمہ۔ سب نے مل کر اس شام کو ایک ایسی یاد میں ڈھال دیا جس کی خوشبو دیر تک محسوس ہوتی رہے گی۔ جناب ذوالفقار احمد چیمہ جیسے راہنما جو آنے والی نسلوں کی اصلوں کی فصلوں کو حب الوطنی کے جذبات سے سیراب و شاداب کر رہے ہیں ۔ اقرا کا فروغ ، معلم کی تکریم اور تعلم کی تربیت چیمہ صاحب کا مرکزِ نگاہ ہے ،
اس یادگار تقریب کی تصویری کوریج ہارون الرشید جیسے ذہین و فطین نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں کی۔ ان کا کیمرہ صرف تقریب کے رسمی مناظر تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے محفل کی روح کو بھی گرفت میں لینے کی کوشش کی۔
یہ صرف ایک عشائیہ نہیں تھا؛ یہ ذائقوں سے سجے دسترخوان پر بکھرے ہوئے خیالات، تعلقات اور یادوں کی وہ خوبصورت محفل تھی جہاں پاکستان کی بات بھی ہوئی، دنیا کا ذکر بھی آیا اور انسانوں کے درمیان محبت کا چراغ بھی روشن رہا۔ جس ہستی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی وہ ہم سب کے محبوب راہنما الطاف حسن قریشی کی ذاتِ گرامی تھی جو آج اس دنیا میں نہیں ہیں ، امیر العظیم بھی یاد آئے ۔ الطاف حسن قریشی کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے ۔ ڈاکٹر امان ء اللہ صاحب اور مجھ خاکسار سے ان کی شفقت اور نیم شبی دعائیں محسوس ہوتی تھیں ۔

تھی وہ ایک شخص کے تصور سے

اب وہ رعنائی ء خیال کہاں

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *