Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت اور عالمی منڈی تک رسائی کیلیے حکمت عملی بنانے کا حکمعمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کر لیاپمز میں اصلاحات 3 ماہ میں مکمل اور اسلام آباد کے تمام اسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرنے کا حکمایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی نقصانات کی مزید تفصیلات سامنے لائے گا، عباس عراقچیجام محمد فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ’’بزم رحمت العالمین‘‘، بیلہ میں روح پرور مقابلہ حسن نعت، معروف نعت خواں فرحان علی قادری کی خصوصی شرکتنئے قوانین ، نئی مشکلاتبلوچستان کی بیٹیاں پاکستان کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، ڈاکٹر ربابہ بلیدیمکہ پر حوثیوں کا ڈرون حملہ ناکام، سعودی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کردیامکہ پر ڈرون حملے کی گھناؤنی کوشش ناقابل معافی، حرمین الشریفین کے تحفظ کیلئے پوری قوم سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے: وزیراعظممکہ معاہدہ؛ کسی ایک فریق پر حملہ ہوا تو تینوں ممالک مشترکہ فیصلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آروزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت اور عالمی منڈی تک رسائی کیلیے حکمت عملی بنانے کا حکمعمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کر لیاپمز میں اصلاحات 3 ماہ میں مکمل اور اسلام آباد کے تمام اسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرنے کا حکمایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی نقصانات کی مزید تفصیلات سامنے لائے گا، عباس عراقچیجام محمد فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ’’بزم رحمت العالمین‘‘، بیلہ میں روح پرور مقابلہ حسن نعت، معروف نعت خواں فرحان علی قادری کی خصوصی شرکتنئے قوانین ، نئی مشکلاتبلوچستان کی بیٹیاں پاکستان کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، ڈاکٹر ربابہ بلیدیمکہ پر حوثیوں کا ڈرون حملہ ناکام، سعودی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کردیامکہ پر ڈرون حملے کی گھناؤنی کوشش ناقابل معافی، حرمین الشریفین کے تحفظ کیلئے پوری قوم سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے: وزیراعظممکہ معاہدہ؛ کسی ایک فریق پر حملہ ہوا تو تینوں ممالک مشترکہ فیصلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کر لیا

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کرکے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق معاونت طلب کرلی۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے گزشتہ روز حکم جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ 18 اگست کے عدالتی حکم کے باوجود سرکاری افسران پیش کیوں نہیں ہوئے، کیا افسران کا عدالت میں پیش نہ ہونا حکم عدولی کے زمرے میں نہیں آتا؟

عدالت نے کہا کہ فی الحال اس بات کو ایک طرف رکھا جائے کہ عمران خان کا علاج سرکاری یا نجی اسپتال میں ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے دیگر حصوں پر عملدرآمد ہوا یا نہیں، کیا ملاقاتیں کرائی جارہی ہیں اور کیا بچوں سے بات کرائی گئی؟

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی اور اس کا اختیار آئین کی تشریح تک محدود ہے، جبکہ آئین کی تشریح کے علاوہ دیگر معاملات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کا شریعت بینچ قرآن و سنت کی تشریح کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے، تاہم یہ طے ہونا باقی ہے کہ وہ کن معاملات میں ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم میں مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر انہیں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا ذکر ہے، یہی نکتہ عدالت کے لیے اہم سوال بن رہا ہے۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی کہ وفاقی آئینی عدالت اس کیس کی سماعت کس اختیار کے تحت کرسکتی ہے۔

سماعت کے دوران اڈیالا جیل انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں پیش نہ ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ جیل انتظامیہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کردیئے جائیں؟ اٹارنی جنرل نے عدالت سے ایک موقع دینے کی استدعا کی۔

عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار اور مقدمات کے ریکارڈ طلب کرنے سے متعلق مختلف سوالات اٹھاتے ہوئے اٹارنی جنرل سے قانونی معاونت طلب کی۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی جائے۔ سپریم کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *