Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مکہ پر حوثیوں کا ڈرون حملہ ناکام، سعودی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کردیامکہ پر ڈرون حملے کی گھناؤنی کوشش ناقابل معافی، حرمین الشریفین کے تحفظ کیلئے پوری قوم سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے: وزیراعظممکہ معاہدہ؛ کسی ایک فریق پر حملہ ہوا تو تینوں ممالک مشترکہ فیصلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آروکالت کا شعبہ ،انصاف یا ناانصافی؟آپﷺ بحیثیت عالمی مدبر و سفارت کارTENDER NOTICE: DAB/AB NO.339/15-9-2026TENDER NOTICE: DAB/AB NO.332/15-9-2026بہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرارمکہ پر حوثیوں کا ڈرون حملہ ناکام، سعودی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کردیامکہ پر ڈرون حملے کی گھناؤنی کوشش ناقابل معافی، حرمین الشریفین کے تحفظ کیلئے پوری قوم سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے: وزیراعظممکہ معاہدہ؛ کسی ایک فریق پر حملہ ہوا تو تینوں ممالک مشترکہ فیصلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آروکالت کا شعبہ ،انصاف یا ناانصافی؟آپﷺ بحیثیت عالمی مدبر و سفارت کارTENDER NOTICE: DAB/AB NO.339/15-9-2026TENDER NOTICE: DAB/AB NO.332/15-9-2026بہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرار

مکہ معاہدہ؛ کسی ایک فریق پر حملہ ہوا تو تینوں ممالک مشترکہ فیصلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی بھی ملک پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی مشاورت سے ردعمل کا فیصلہ کریں گے۔

عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ معاہدے کے کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں تینوں ممالک صورتحال کا جائزہ لے کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے، تاہم دفاعی کارروائی سے متعلق عملی طریقہ کار کی تفصیلات سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کا بنیادی مقصد ملکی دفاع ہے۔ پاکستان اسلحے کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کر رہا، تاہم ملک اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور جارحیت کی صورت میں جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ہے۔ معاہدے کے تحت کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ تینوں ممالک مشترکہ طور پر کریں گے۔

افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ افغانستان سے ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کی جائے جو پاکستان کے لیے سکیورٹی مسائل پیدا کرتی ہیں۔

سیاسی اور فوجی اہداف سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ملک کے سیاسی مقاصد کا تعین سیاسی قیادت کرتی ہے، جبکہ قومی اہداف اور ترجیحات کا فیصلہ سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *