Banner
Daily Sahafat Quetta
November 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بابائے سیاست انور سیف اللہ خان کی ملک کیلئے خدمات قابل تعریف ہےفاٹا کو دس سال بعد بھی بندوبستی نظام نہیں مل سکا، انضمام کے نتائج پر سنجیدہ سوالات ہیں، مولانا فضل الرحمٰنسندھ حکومت کے تعاون سے ضلع میرپورخاص اور عمرکوٹ کے غیر رسمی تعلیمی مراکز کے لیے ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی تقسیمسپریم کورٹ کے دو بنچز 4 سے 6 نومبر تک کوئٹہ میں مقدمات کی سماعت کریں گےعوامی مسائل کا حل افسران اپنی ذمہ داری سمجھیں، چیف سیکرٹری بلوچستانآغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے منصوبوں میں تاخیر اور بھرتیوں پر سینیٹ ذیلی کمیٹی کے تحفظاتڈیجیٹل سروس ڈلیوری جدید طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیکلریکل اسٹاف سرکاری نظام کا اہم حصہ ہے، نسیم الرحمن ملاخیلبلوچستان میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد مشکوک شناختی کارڈ بلاکعبدالواحد خان کاکڑ ڈائریکٹر جنرل MERC-1122 بلوچستان تعینات، نوٹیفکیشن جاریبابائے سیاست انور سیف اللہ خان کی ملک کیلئے خدمات قابل تعریف ہےفاٹا کو دس سال بعد بھی بندوبستی نظام نہیں مل سکا، انضمام کے نتائج پر سنجیدہ سوالات ہیں، مولانا فضل الرحمٰنسندھ حکومت کے تعاون سے ضلع میرپورخاص اور عمرکوٹ کے غیر رسمی تعلیمی مراکز کے لیے ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی تقسیمسپریم کورٹ کے دو بنچز 4 سے 6 نومبر تک کوئٹہ میں مقدمات کی سماعت کریں گےعوامی مسائل کا حل افسران اپنی ذمہ داری سمجھیں، چیف سیکرٹری بلوچستانآغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے منصوبوں میں تاخیر اور بھرتیوں پر سینیٹ ذیلی کمیٹی کے تحفظاتڈیجیٹل سروس ڈلیوری جدید طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیکلریکل اسٹاف سرکاری نظام کا اہم حصہ ہے، نسیم الرحمن ملاخیلبلوچستان میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد مشکوک شناختی کارڈ بلاکعبدالواحد خان کاکڑ ڈائریکٹر جنرل MERC-1122 بلوچستان تعینات، نوٹیفکیشن جاری

آپﷺ بحیثیت عالمی مدبر و سفارت کار

امت محمدیہ کو ا یک عظیم الشان تمغہ ِامتیاز اس لیے بھی حاصل ہے کہ اس عظیم امت میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی ہے۔ اور یہ بھی ایک ایسی مسلم حقیقت ہے کہ پوری کائنات میں اللّٰہ تعالیٰ کے بعد آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس عالمی نبی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم مدبر و منتظم کی بھی ہے۔ آپ کی دوراندیشی ہی کی بدولت پوری اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کو انتہائی کم عرصے میں اِک غیر معمولی کامیابی ملی، یہاں تک کہ ابتدائےِ اسلام میں صرف چند عبقری شخصیات مشرف با اسلام ہوئے تھے۔ اور سن دس (10ھ)ہجری کو ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی تھی۔ (1) میرٹ اور اہلیت پر ذمہ داری دینا: آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب بھی کسی کو کوئی فلاحی، معاشی، سماجی، معاشرتی، جنگی اور ریاستی کام حوالے کرتے تھے تو اہلیت اور میرٹ ہی کی بنیاد پر سونپتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو فوجی قیادت حوالے کرنا، حضرت معاذ بن جبل رضی اللّہ عنہ کو یمن کا گورنر بنانا اور دیگر صحابہ کرام کو مختلف جنگی محاذوں میں بحیثیت امیر کے بھی اہلیت اور قابلت کی بنیاد پر مقرر فرماتے تھے۔ (2) حضرت ابوبکر صدیق رضہ کا انتخاب بطورِ رفیق سفر: آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زندگی مبارکہ میں دیگر مشکل ترین اور کھٹن حالات میں سے ایک سفر ِہجرت بھی ہے۔ کہ پوری عالمی کفریہ طاقتیں مسلمانوں کے خلاف ہر وقت منصوبے تیار کر رہی تھیں۔ اس لیے آپ صلی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضہ کو اپنے ساتھ بطورِ رفیق سفر کے لے گئے کیوں کہ وہ ایک منفرد منصوبہ ساز ،بہادر اور صابر انسان تھے۔ (3)ہجرت والی رات کو حضرت علی رضہ کو امانتیں سونپنا: ہجرت والی رات کو حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ کو اس لیے اپنے مبارک بستر پر سلایا اور پورے مکہ کے لوگوں کی امانتیں ان کے حوالے کیے۔ تاکہ لوگوں کو ان کی امانتیں حوالے کریں اس کے علاوہ کفارِ مکہ بھی انہیں زیادہ اذیت نہیں دیتے تھے۔ (3) ہجرت کےفوراً بعد یہودِ مدینہ کے ساتھ امن کا معاہدہ: آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عالمی سطح پر یہودِ مدینہ کے ساتھ سب سے پہلے پہلی اسلامی ریاست (ریاست مدینہ) کے قیام ، امن و سلامتی ، معیشت کی مضبوطی اور مدینہ کے یہودیوں کے اسلامی ریاست مخالف منصوبوں سے تحفظ کی خاطر امن و امان کے مذکرات کیے، جس سے سب پہلے مدینہ منورہ کی معیشت پوری دنیا کی مظبوط ترین معیشت بن گئی۔ (4) پہاڑی پر فوجی دستے کی تشکیل: آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر جبل رما? پر پچاس صحابہ کرام رضوان اللّٰہ اجمعین پر مشتمل دستہ بھیجا، جب تک مسلمان وہاں تھے تو مسلسل فتح کی طرف بڑھ رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی نیچے اترے تو فتح عارضی شکست میں تبدیل ہو گئی۔ (5) عظیم سفارت کاری: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 6ھ کو ایک عظیم سفارت کار کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک ایسی عظیم الشان صلح ( صلح حدیبیہ) کروائی۔ جس کے نتیجے میں صرف بائیس مہینوں کی انتہائی مختصر مدت میں اسلام کا پیغام امن و سلامتی پورے دنیا کے بادشاہوں کے پاس پہنچا، بالآخر یہ عظیم الشان صلح 8ھ کو فتح مکہ کے لیے پیش خیمہ ثابت ہوئی۔اور سب سے پہلی بار پوری دنیا کے ممالک نے مسلمانوں کو ایک الگ ریاست اور مضبوط حکومت کی حیثیت سے تسلیم کیا۔جو کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عظیم سفارت کاری کی واضح مثال ہے۔ (6) بہترین منصوبہ بندی: ہجرت کے پ±ر کھٹن سفر میں غار ثور کا انتخاب بطورِ قیام ، راستہ بتانے کے لیے ماہر فن، الگ راستے سے سفر کرنا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کو اپنے ساتھ لے جانا اور اس کے علاوہ انتہائی حساس ترین منصوبے کے تحت ہجرتِ مدینہ کی منصوبہ بندی کرنا ہی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عالمی مدبر و منتظم ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (7) وقت کی پابندی: آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے قیمتی اوقات کو ایک بہترین اور منظم طریقے سے تقسیم کیا تھا یہاں تک کہ: عبادات ، معمولات ، ملاقتوں کے اوقات ، بادشاہانِ عالم سے ملکی امور پر تبادلہ خیال کرنا ، بیرون ممالک کے سفیروں سے ملنا، امت مسلمہ کو دینی اور بنیادی تعلیم وترتیب دینا اور ریاستی امور کے لیے احکام کا جاری کرنا۔۔۔الغرض آپ کی سیرت طیبہ ایک مکمل ضابطہ حیات اور پوری انسانیت کے لیے راہِ نجات ہے۔ (8)مساوات اور انسانی ہمدردی: آپ نے خطبہ حج الوداع کے موقع پر پوری انسانیت کو اتفاق و اتحاد کا ایسا درس دیا کہ کئی صدیاں گزرنے کے باوجود آج تک پوری دنیا ( مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی ) ان امتیازی اصولوں کو انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے حرف آخر سمجھتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ:” خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر۔۔۔کوئی فضیلت نہیں مگر تقوی کی بنیاد پر۔۔۔” (9)عدل وانصاف: آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پوری سیرت طیبہ عدل و انصاف اور اخوت و اتحاد پر مبنی ہے۔ عدل وانصاف کی ایسا عملی نمونہ پیش کیا کہ اس کے سامنے پوری دنیا کے بادشاہوں کے عدل و انصاف کی حالت ایسی رہی کہ سورج کو چراغ دکھانا۔۔۔آپ نے فرمایا کہ:” اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی چوری کرے گی تو ان کا ہاتھ کاٹا جائے گا”.اور یہ ایک عالمی عادل، مدبر و منتظم اور انسانی بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے والی شخصیت کی واضح مثال ہے۔ (10)دوراندیشی: آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شخصیت انتہائی ذہین ، فطین اور دواندیش کی ہے۔یہاں تک کہ غیر مسلم بھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دوراندیشی
کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ ماننے والے بھی ہیں۔قاضی سلیمان منصور پوری لکھتے ہے کہ:” آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذہانت اور دوراندیشی کا اندازہ وہ آپ کی جنگی محاذوں میں شرکت سے معلوم ہوتا کہ: عہدِ نبوی میں مسلمان شہدائ کی تعداد”259″ اور کفار کی مقتولین کی “759” بنتی ہے۔ حالاں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تقریباً پچیس سے زائد غزوات میں شرکت فرمائی اور اکثر اوقات مسلمانوں کے پاس آلات جنگ کفار کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی! لیکن پھر بھی انتہائی کم مسلمان شہید ہوئے ہیں۔ جو کہ درحقیقت میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دوراندیشی اور عالمی مدبر و منتظم ہونے کی واضح مثال ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *