Banner
Daily Sahafat Quetta
November 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
رند قبائل نے ہمیشہ امن و ترقی کے دشمنوں کا مقابلہ کیا، سردار یار محمد رندمنشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، حاجی محمد خان لہڑیمدارس کی رجسٹریشن کا بل فوری بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے،مولانا عبدالواسعبلوچستان کے 31 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہوگی، انعام الحقاصغر خان اچکزئی کو قید کیا جاسکتا ہے، ان کی سوچ کو نہیں، اے این پیچمن میں باکسنگ کلب کی مسماری اور نوجوانوں کے حقوق پر کھلا حملہراولپنڈی این سی سی آئی اے کی کارروائی، شہری سے فراڈ کے ذریعے ہتھیائی گئی 59 لاکھ روپے سے زائد رقم برآمدمیرپورخاص میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کی جائے، خلیل اللہ خانکلب کے آئین، اتحاد اور نظم و ضبط پر عمل ضروری ہے، نثار محمد مراد بھٹواسامہ بہانہ، افغانستان نشانہ اور ایک امریکن کی گواہیرند قبائل نے ہمیشہ امن و ترقی کے دشمنوں کا مقابلہ کیا، سردار یار محمد رندمنشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، حاجی محمد خان لہڑیمدارس کی رجسٹریشن کا بل فوری بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے،مولانا عبدالواسعبلوچستان کے 31 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہوگی، انعام الحقاصغر خان اچکزئی کو قید کیا جاسکتا ہے، ان کی سوچ کو نہیں، اے این پیچمن میں باکسنگ کلب کی مسماری اور نوجوانوں کے حقوق پر کھلا حملہراولپنڈی این سی سی آئی اے کی کارروائی، شہری سے فراڈ کے ذریعے ہتھیائی گئی 59 لاکھ روپے سے زائد رقم برآمدمیرپورخاص میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کی جائے، خلیل اللہ خانکلب کے آئین، اتحاد اور نظم و ضبط پر عمل ضروری ہے، نثار محمد مراد بھٹواسامہ بہانہ، افغانستان نشانہ اور ایک امریکن کی گواہی

اسامہ بہانہ، افغانستان نشانہ اور ایک امریکن کی گواہی

محترم قارئین، کہا جاتا ہے کہ اسامہ بن لادن 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی صدر بارک اوبامہ کے حکم پر مارے گئے جبکہ دوسری جانب یہ شنید بھی عام تھی کہ اگست 2010 میں اسامہ بن لادن کے گردوں کا ڈائیلاسز امریکن ہسپتال دبئی میں ہوا تھا۔ 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ نے افغانستان پر اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے نام پر حملہ کیا اور صرف 37 دنوں میں کابل پر قبضہ کر لیا۔ قبضے کے فوراً بعد میرے ایک امریکی دوست جیمز رچی جو امریکی قبضے کے بعد جلال آباد میں یو ایس ایڈ کے پروگرام کے تحت ایک پراجیکٹ پر کام کرتے تھے نے مجھے بتایا کہ 2002 کے اوائل میں مجھے اطلاع ملی کہ اسامہ بن لادن تورا بورا کے غاروں میں روپوش ہے میں نے فوراً امریکن فوج کے انچارج جنرل کو لوکیشن بتائی کہ اسامہ جلال آباد کے قریب تورا بورا کے فلاں غار میں چھپے ہوئے ہیں لیکن امریکن فورسز نے کوئی کارروائی نہیں کی اور 20 سال تک افغانستان پر قابض رہے اور 2 لاکھ سے زائد افغان مارے گئے۔ ان سارے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اسامہ ایک بہانہ تھا جبکہ اصلاً افغانستان پر قبضہ جمانا تھا۔یہ وہ بیانیہ ہے جو گزشتہ بیس سال سے افغان گلی کوچوں، چائے خانوں اور جرگوں میں گردش کر رہا ہے اور اسے محض افواہ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل بحرانوں سے گزر رہا ہے اور اس وقت سب سے بڑا مسئلہ معاشی بحران ہے، لوگوں کے پاس روزگار نہیں، بینکوں میں مسائل ہیں اور بین الاقوامی امداد بھی محدود ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی برادری کے رویے کو دیکھیں تو دنیا نے ایک طرح سے افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ دنیا صرف بیانات اور اعلامیوں تک محدود ہے عملی طور پر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ میرا ماننا ہے کہ اگر افغانستان میں عدم استحکام رہا تو اس کا اثر صرف افغانستان تک نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے پر پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا پر بھی پڑے گا۔اندرونی حکومت کے حوالے سے بنیادی نقطہ یہی ہے کہ کسی بھی حکومت کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ تمام اقوام اور تمام طبقوں کو ساتھ لے کر چلے، نوجوان، خواتین، تعلیم یافتہ طبقہ سب کو شامل کرنا ضروری ہے خاص طور پر تعلیم کا دروازہ بند ہونا یہ آنے والی نسل کے لیے بہت نقصان دہ ہے کیونکہ ایک قوم تعلیم کے بغیر کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ حل صرف اور صرف مذاکرات اور سیاسی مفاہمت میں ہے، جنگ، دباؤ، پابندیاں ان سے ہمیشہ افغان عوام کا ہی نقصان ہوتا ہے۔ افغانوں کو آپس میں بیٹھنا ہوگا اور دنیا کو بھی افغانوں کے ساتھ تعمیری بات چیت کرنی ہوگی، ہمیں ایک دوسرے کو سننا ہوگا۔اب ان دونوں بیانیوں کو جوڑیں تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے، ایک طرف 2002 میں تورا بورا میں اسامہ کی موجودگی کی اطلاع کے باوجود کارروائی نہ کرنا اور پھر 20 سال تک قبضہ برقرار رکھنا دوسری طرف 2010 میں دبئی میں مبینہ ڈائیلاسز اور 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن کی کہانی۔ یہ سب سوالات جنم دیتے ہیں کہ کیا واقعی مقصد اسامہ تھا یا افغانستان کی جغرافیائی اہمیت، اس کے معدنی وسائل اور خطے میں مستقل اڈہ بنانا اصل مقصد تھا۔ دنیا نے بیانات تو بہت دیے لیکن عملی طور پر افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا۔ دو لاکھ سے زائد افغانوں کی جان گئی کھربوں ڈالر جنگ پر لگے لیکن آخر میں نتیجہ وہی نکلا کہ جس بہانے سے آئے تھے وہ بہانہ تو 2011 میں ختم ہو گیا تھا تو پھر 2021 تک کیوں رہے۔حقیقت یہ ہے کہ افغان قوم کو اب اس بیانیے سے نکلنا ہوگا۔ اسامہ تھا یا نہیں، مارا گیا یا نہیں یہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے لیکن اصل سوال آج کے افغانستان کا ہے۔ تعلیم، روزگار، اتحاد اور دنیا سے تعمیری تعلق۔ اگر آج بھی ہم ماضی کی کہانیوں میں الجھے رہے تو آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ افغان عوام بہت بہادر اور صابر قوم ہے انہوں نے بہت سی جنگیں دیکھی ہیں مجھے امید ہے کہ یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا لیکن اس کے لیے ہمیں خود بھی کوشش کرنی ہوگی تعلیم پر معیشت پر اور اتحاد پر توجہ دینی ہوگی۔ افغانستان کو اب ایک ایسے نصاب، ایک ایسی پالیسی اور ایک ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جو اسے فکری غلامی سے نکالے اور خود انحصاری کی طرف لے جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *