Banner
Daily Sahafat Quetta
November 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سردی میں گیس لوڈ شیڈنگ عوام کیساتھ زیادتی ہے،اسلم اچکزئیصحافیوں کے حقوق کے حصول کیلئے اتحاد، اتفاق اور باہمی احترام ناگزیر ہے،بلوچستان میڈیا فورمجامعہ بلوچستان ریٹائر اساتذہ کو واجباتِ کی عدم ادائیگی ظلم ہے، پروفیسر حلیم صادققلات پولیس کی کارکردگی صفر ، شکایات کا انبارشہید استاد محمد اکبر چھلگری کی قربانی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہے، سجاد حسین رندچمن میں باکسنگ کلب کی مسماری اور نوجوانوں کے حقوق پر کھلا حملہاوستہ محمد میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، ایس ایچ او حضور بخش جمالیگلگت بلتستان کی قربانیاں قومی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستانگیس کی قلت برقرار، گھریلو اور کاروباری نئے کنکشنز پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی گئیکوئٹہ میں پانی کی شدید قلت، ہائیکورٹ نے پانچ اعلیٰ حکام کو طلب کرلیاسردی میں گیس لوڈ شیڈنگ عوام کیساتھ زیادتی ہے،اسلم اچکزئیصحافیوں کے حقوق کے حصول کیلئے اتحاد، اتفاق اور باہمی احترام ناگزیر ہے،بلوچستان میڈیا فورمجامعہ بلوچستان ریٹائر اساتذہ کو واجباتِ کی عدم ادائیگی ظلم ہے، پروفیسر حلیم صادققلات پولیس کی کارکردگی صفر ، شکایات کا انبارشہید استاد محمد اکبر چھلگری کی قربانی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہے، سجاد حسین رندچمن میں باکسنگ کلب کی مسماری اور نوجوانوں کے حقوق پر کھلا حملہاوستہ محمد میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، ایس ایچ او حضور بخش جمالیگلگت بلتستان کی قربانیاں قومی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستانگیس کی قلت برقرار، گھریلو اور کاروباری نئے کنکشنز پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی گئیکوئٹہ میں پانی کی شدید قلت، ہائیکورٹ نے پانچ اعلیٰ حکام کو طلب کرلیا

چمن میں باکسنگ کلب کی مسماری اور نوجوانوں کے حقوق پر کھلا حملہ

چمن میں باکسنگ کلب کی مسماری اور نوجوانوں کے حقوق پر کھلا حملہ
تحریر،استاد خدائنظر اچکزئی

قارئین، چمن کے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول میں 1990ء میں ایم پی اے کے ترقیاتی فنڈز سے تعمیر ہونے والے تاریخی باکسنگ کلب کی مسماری اور اس کے ملبے پر اسی مقام پر باکسنگ ٹورنامنٹ کا انعقاد محض ایک عمارت کا انہدام نہیں، بلکہ چمن کے سینکڑوں نوجوانوں کے خوابوں، محنت اور مستقبل پر بے رحمی سے بلڈوزر چلانے، قانون کو روندنے اور عوامی حق پر ڈاکہ ڈالنے کی ایک انتہائی شرمناک داستان ہے۔ یہ محض اینٹوں اور سیمنٹ سے بنی ہوئی کوئی عام عمارت نہیں تھی، بلکہ یہ چمن کے نونہالوں اور باصلاحیت نوجوانوں کی امیدوں، صلاحیتوں اور روشن مستقبل کی ایک ایسی نرسری تھی جس نے طویل برسوں کے دوران سینکڑوں ایسے نامور باکسرز پیدا کیے جنہوں نے علاقائی، صوبائی اور ملکی سطح پر چمن کا نام فخر سے روشن کیا۔ لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ جس ادارے اور جن ذمے داران کا بنیادی فرض نوجوانوں کی سرپرستی، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرنا تھا، اسی کھیل کے مرکزی ادارے کو مبینہ قبائلی رنجش، ذاتی عناد، سیاسی انتقام اور گھٹیا تنگ نظری کی بھیانک بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ عوامی حلقوں کے مطابق، بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر، جنہیں خطے کے عوام کا حقیقی نمائندہ ہونا چاہیے تھا، کے دور میں ہونے والی اس کارروائی پر سوالیہ نشانات ہیں۔ اس کے علاوہ انتظامی افسران، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، ضلعی تعلیمی افسر اور متعلقہ اسکول انتظامیہ کا کردار بھی انتہائی مشکوک اور قابلِ مذمت رہا ہے۔ عدلیہ کی جانب سے باقاعدہ حکمِ امتناعی یعنی اسٹے آرڈر حاصل ہونے کے باوجود اس باوقار کلب کو زمین بوس کر دیا گیا۔ اگر یہ تمام حقائق اور اطلاعات درست ہیں تو یہ کسی بھی صورت میں محض انتظامی غفلت یا لاپرواہی نہیں کہلا سکتی، بلکہ یہ قانون، عدالت اور عوامی حقوق کی صریحاً اور کھلی توہین ہے۔ ہر باشعور شہری کے ذہن میں یہ سلگتا ہوا سوال موجود ہے کہ آخر قانون کی بالادستی کو کہاں دفن کر دیا گیا؟ عدالت کے جاری کردہ حکم کی حرمت کو کس کے اشارے پر پامال کیا گیا؟ اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کو تاریک کرنے والوں کو کس نے اور کن اختیارات کے تحت یہ چھوٹ دی؟ اس اندوہناک واقعے کے بعد اس سے بڑی سیاسی، اخلاقی اور سماجی منافقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ آج اسی مسمار شدہ باکسنگ کلب کے ویران کھنڈرات کے سامنے سندھ بلوچستان باکسنگ ٹورنامنٹ کا اہتمام کر لیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر ایف سی کے کرنل، بریگیڈیئر، ضلعی انتظامی افسران، تعلیمی حکام اور اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے اس تماشے کی بھرپور سرپرستی کی، جبکہ اس کے لیے سرکاری وسائل سے مالی معاونت بھی فراہم کی گئی۔ واہ رے ہمارے اس بے حس نظام! جس جگہ پر کل تک غریب اور ہونہار نوجوانوں کو باکسنگ کی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک فعال عمارت موجود تھی، اسے طاقت کے نشے، ضد اور مبینہ مفادات کی خاطر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، اور آج اسی ملبے کے سامنے کھیلوں کے فروغ کے نام پر دکھاوے کی رنگا رنگ تقریبات سجائی جا رہی ہیں! کیا یہ چمن کے غیور نوجوانوں کے ساتھ کھلا مذاق اور ان کی تذلیل نہیں ہے؟ کیا یہ ان سینکڑوں کھلاڑیوں کی سالوں کی محنت، گراں قدر قربانیوں اور شاندار کامیابیوں پر ایک کرارا طمانچہ نہیں ہے جنھوں نے اسی کلب کی چار دیواری سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا؟ اس تناظر میں ہمارا سوال براہِ راست جناب اسپیکر صاحب اور دیگر ذمہ داران سے ہے کہ اگر آپ واقعی اس خطے کے عوام کے منتخب اور حقیقی نمائندے ہیں تو آپ کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ نوجوانوں سے ان کا واحد کھیل کا مرکز اور چھت کیوں چھینی گئی؟ اگر آپ کے اپنے دورِ اقتدار میں ایک چھوٹا سا باکسنگ کلب بھی محفوظ نہیں رہ سکا تو یہ خطے کے نوجوان آپ سے اپنے مستقبل کی حفاظت کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ عوامی نمائندگی کا مطلب ہرگز خاموش تماشائی بننا نہیں ہے، بلکہ عوام کے بنیادی حقوق اور اداروں کا دفاع کرنا اصل نمائندگی کہلاتی ہے۔ ان انتظامی اور تعلیمی افسران سے بھی یہ سوال جڑ پکڑتا ہے کہ کیا سرکاری عہدے ذاتی وفاداریوں، دباؤ، خوف اور خوشامد کے لیے حاصل کیے جاتے ہیں یا ان کا مقصد خالصتاً عوامی مفاد اور قانون کی پاسداری کرنا ہوتا ہے؟ کل جس عمارت کی بے رحمانہ مسماری پر آپ سب مجرمانہ خاموشی اختیار کیے بیٹھے تھے، آج اسی مقام پر کھیلوں کی سرپرستی کا یہ ڈھونگ کس اخلاقی جواز کے تحت رچایا جا رہا ہے؟ یہ خدمت نہیں ہے بلکہ غریب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک ناکام اور گھناؤنی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ یاد رکھیے! اس طرح کی نمائشی، فرضی اور فوٹو سیشن تقریبات منعقد کرانے سے کھیلوں کی کبھی کوئی خدمت نہیں ہوتی۔ کھیلوں کی حقیقی خدمت کے لیے بہترین میدانوں، تربیت گاہوں، جدید سہولیات اور نوجوانوں کے لیے مستقل اور یکساں مواقع فراہم کرنا پڑتے ہیں۔ ملبے کے انبار کے سامنے کھڑے ہو کر تصویریں بنوانا کوئی ترقی نہیں ہے، بلکہ یہ تباہی اور بربادی پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ چمن کے نوجوان کسی قسم کی خیرات یا بھیک نہیں مانگتے، وہ صرف اور صرف اپنا آئینی و قانونی حق مانگتے ہیں۔ انھیں نمائشی ٹورنامنٹس یا وقتی دھوکے نہیں چاہیے، بلکہ انھیں اپنا وہی پرانا باکسنگ کلب اپنی اصل شان کے ساتھ واپس چاہیے۔ ہم اس پلیٹ فارم سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ (1) باکسنگ کلب کی اس ظالمانہ مسماری کی فوری، مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات عمل میں لائی جائیں، (2) عدالت کے حکمِ امتناعی (Stay Order) کی مبینہ اور مجرمانہ خلاف ورزی کا فوری طور پر قانونی جائزہ لیا جائے، (3) اس سانحے میں ملوث تمام ذمہ دار افراد کا تعین کر کے ان کے خلاف بلاامتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے، (4) سابقہ باکسنگ کلب کو ہنگامی بنیادوں پر اس کی اصل تاریخی حیثیت میں فوری طور پر دوبارہ تعمیر کیا جائے، (5) چمن کے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے جدید خطوط پر استوار باقاعدہ باکسنگ اکیڈمی، پروفیشنل کوچنگ اور تمام ضروری سہولیات بلا تعطل فراہم کی جائیں۔ آخر میں ان تمام عناصر اور ذمہ داران کے نام ایک انتہائی دوٹوک سوال ہے کہ کیا چمن کے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے صرف ایک باکسنگ کلب بھی اس معاشرے میں ناقابلِ برداشت تھا، یا پھر ان غریب نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی کامیابی ہی کسی کی ذاتی انا، سیاسی مفاد اور تنگ نظر سوچ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی تھی؟ تاریخ اس بات کی ہمیشہ گواہ رہے گی کہ طاقت کے بل بوتے پر بڑی سے بڑی عمارتیں اور دیواریں تو مسمار کی جا سکتی ہیں، لیکن نوجوانوں کے بلند خوابوں، ان کے حوصلوں اور ان کی حق پر مبنی جدوجہد کو کبھی بھی بلڈوزر سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ عوامی ادارے خود اپنے ہاتھوں سے گراتے ہیں، قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں اور پھر اسی اجڑے ہوئے ملبے پر نمائشی تقریبات کے ڈھول پیٹتے ہیں، انھیں یہ خطہ اور یہاں کے با شعور عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ چمن کے نوجوان اب کسی بھی قیمت پر خاموش نہیں رہیں گے۔ ہمارا مؤقف اور مطالبہ بالکل واضح اور دوٹوک ہے: باکسنگ کلب فوری بحال کرو، نوجوانوں کا حق ان کے حوالے کرو، اور اس جرم میں ملوث تمام ذمہ داران کا کڑے سے کڑا احتساب کرو!

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *