Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے 2 جماعتیں ڈی لسٹ کردیںعالمی مارکیٹ کے بعد پاکستان میں بھی سونے کے دام گر گئے: فی تولہ قیمت کہاں تک آن پہنچی؟’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ نئے زاویۂ نظر سے ایک جامع تعارفلاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقانٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے 2 جماعتیں ڈی لسٹ کردیںعالمی مارکیٹ کے بعد پاکستان میں بھی سونے کے دام گر گئے: فی تولہ قیمت کہاں تک آن پہنچی؟’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ نئے زاویۂ نظر سے ایک جامع تعارفلاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحق

Gen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟

Gen Alpha کے بچے — ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟
کالم: دل کی آواز
تحریر: ابوبکر صدیق
آج ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جس نے آنکھ کھولی تو ہاتھ میں کھلونا کم اور موبائل زیادہ نظر آیا۔ جس بچے نے بولنا سیکھنے سے پہلے اسکرین پر انگلی چلانا سیکھ لیا، جس کے لیے گوگل، یوٹیوب اور مصنوعی ذہانت کسی عجوبے کا نام نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ یہ نسل عموماً Gen Alpha کہلاتی ہے۔

یہ وہ بچے ہیں جو تقریباً 2013 کے بعد پیدا ہوئے اور ایسے زمانے میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، آن لائن تعلیم، سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی ان کی زندگی کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔

یہ بچے ہم سے مختلف کیوں ہیں؟

ہماری نسل نے کتاب ڈھونڈنے کے لیے لائبریری کا رخ کیا، استاد سے سوال کیا اور معلومات حاصل کرنے کے لیے کئی صفحات پڑھنے پڑے۔ آج کا بچہ ایک سوال کرتا ہے اور چند سیکنڈ میں جواب اس کے سامنے آ جاتا ہے۔

ہم خط لکھتے تھے، یہ پیغام بھیجتے ہیں۔
ہم البم میں تصویریں رکھتے تھے، یہ ہزاروں تصاویر موبائل میں رکھتے ہیں۔
ہم ٹیلی ویژن پر پروگرام کے منتظر رہتے تھے، یہ اپنی پسند کی دنیا چند لمحوں میں کھول لیتے ہیں۔

یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ سوچنے، سیکھنے اور زندگی گزارنے کے انداز کی تبدیلی بھی ہے۔

لیکن ایک سوال بہت اہم ہے

کیا ہم اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی دے رہے ہیں یا ٹیکنالوجی بچوں کو اپنے حوالے کر رہے ہیں؟

موبائل فون بذاتِ خود دشمن نہیں۔ انٹرنیٹ بھی کوئی برائی نہیں۔ مصنوعی ذہانت بھی انسان کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے۔ اصل مسئلہ استعمال کا طریقہ اور تربیت ہے۔

اگر بچے کو موبائل دے کر والدین اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو جائیں تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر موبائل کو تعلیم، تحقیق اور تخلیق کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی ٹیکنالوجی بچے کے لیے کامیابی کا راستہ بن سکتی ہے۔

ہماری اصل ذمہ داری

Gen Alpha کو صرف جدید تعلیم نہیں چاہیے، اسے اچھی تربیت بھی چاہیے۔

اسے کمپیوٹر سکھائیں مگر اخلاق بھی سکھائیں۔
اسے AI سکھائیں مگر انسانیت بھی سکھائیں۔
اسے دنیا کی معلومات دیں مگر اپنے والدین کا احترام بھی سکھائیں۔
اسے انگریزی اور دوسری زبانیں سکھائیں مگر اپنی مادری زبان سے محبت بھی دیں۔
اسے کامیاب بنائیں مگر اچھا انسان بنانا نہ بھولیں۔

کیونکہ ایک ایسا ذہین بچہ جو انسانوں کا احترام نہ کرے، معاشرے کے لیے کامیابی نہیں بلکہ ایک بڑا سوال بن سکتا ہے۔

موبائل کے ساتھ کتاب بھی ضروری ہے

ہمیں اپنے بچوں کے ہاتھ میں موبائل کے ساتھ کتاب بھی دینی ہوگی۔ انہیں صرف ویڈیوز نہیں دکھانی بلکہ سوال کرنے، سوچنے، لکھنے اور تخلیق کرنے کی عادت بھی ڈالنی ہوگی۔

بچے کو ہر سوال کا جواب فوراً دینے کے بجائے کبھی یہ بھی کہیں:

“خود سوچو، تمہارے خیال میں اس کا جواب کیا ہے؟”

یہ ایک چھوٹا سا جملہ بچے کے اندر تحقیق اور غوروفکر کی دنیا پیدا کر سکتا ہے۔

خاندان کی اہمیت

آج کے دور میں سب سے قیمتی چیز شاید موبائل نہیں بلکہ والدین کا وقت ہے۔

بچے کے ساتھ بیٹھیں۔
اس کی بات سنیں۔
اس کے سوالات کا مذاق نہ اڑائیں۔
اس کی غلطی پر صرف ڈانٹنے کے بجائے سمجھائیں۔
اسے یہ احساس دیں کہ دنیا میں سب سے پہلے وہ اپنے والدین سے بات کر سکتا ہے۔

اگر گھر میں محبت، اعتماد اور گفتگو موجود ہو تو بچہ باہر کی دنیا کے بہت سے منفی اثرات کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔

آنے والا دور

Gen Alpha کے بچے جس دنیا میں بڑے ہوں گے وہاں شاید بہت سے ایسے کام مشینیں کریں گی جو آج انسان کرتے ہیں۔ AI استاد کی مدد کرے گا، روبوٹ صنعتوں میں کام کریں گے اور ڈیجیٹل دنیا ہماری زندگی کا مزید بڑا حصہ بن جائے گی۔

لیکن ایک چیز ایسی ہوگی جس کی قیمت کبھی ختم نہیں ہوگی:

کردار۔

علم ضروری ہے، مگر کردار اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
ٹیکنالوجی ضروری ہے، مگر انسانیت اس سے زیادہ ضروری ہے۔
کامیابی ضروری ہے، مگر اچھا انسان بننا سب سے بڑی کامیابی ہے۔

ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو مصنوعی ذہانت استعمال کرے مگر خود بےحس نہ ہو؛ جو دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی جانتی ہو مگر اپنے بزرگوں کی عزت بھی کرتی ہو؛ جو آسمان کی بلندیوں کو چھونے کا خواب دیکھے مگر اپنے والدین کے قدموں کی قدر بھی جانتی ہو۔

یہی Gen Alpha کا اصل امتحان ہے، اور اس سے بھی بڑا امتحان ہم والدین اور معاشرے کا ہے۔

کیونکہ بچے صرف ہماری باتوں سے نہیں سیکھتے، وہ ہمیں دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

آنے والی نسل کا مستقبل صرف اسکول، موبائل یا AI نہیں بنائے گا؛
اس کا مستقبل آج کے گھر، آج کے والدین اور آج کی تربیت بنائے گی۔

دل کی آواز یہی ہے:
اپنے بچوں کو جدید بنائیں، مگر اپنی اقدار سے محروم نہ ہونے دیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *