Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سندھی مسلم فوڈ واک کی افتتاحی تقریب میں عقیل کریم ڈھیڈھی کی خصوصی شرکتمحمود کوٹ پولیس کی چوکی عیسن والا میں کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل سنے گئےمراکش میں عالمی جی ایف ایف ورکشاپ کے دوران سمیرا اشرف نے پاکستان اور ایشیا کی نمائندگی کیکھیل طلبہ کی تعلیم و تربیت کا اہم حصہ ہیں، ڈاکٹر بختیار اختراسٹریٹ کریمنلز اور راہزنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں، ڈاکٹر میاں سعید احمدمولانا فضل الرحمن کے دفاع اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، مولانا محمد طاہر توحیدیمولانا فضل الرحمن کے گھر کی ڈرون فوٹیج بنانے کی مذمت کرتے ہیں، مولانا عبدالقادر لونیشکارپور کے بازاروں میں صفائی اور روشنی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں گے، فیاض محمود شیخڈپٹی کمشنر نواب سمیر لغاری کا انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ، شہر سے تجاوزات کے فوری خاتمے کے احکاماتنئے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی جھل مگسی طارق شہباز نے چارج سنبھال لیاسندھی مسلم فوڈ واک کی افتتاحی تقریب میں عقیل کریم ڈھیڈھی کی خصوصی شرکتمحمود کوٹ پولیس کی چوکی عیسن والا میں کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل سنے گئےمراکش میں عالمی جی ایف ایف ورکشاپ کے دوران سمیرا اشرف نے پاکستان اور ایشیا کی نمائندگی کیکھیل طلبہ کی تعلیم و تربیت کا اہم حصہ ہیں، ڈاکٹر بختیار اختراسٹریٹ کریمنلز اور راہزنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں، ڈاکٹر میاں سعید احمدمولانا فضل الرحمن کے دفاع اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، مولانا محمد طاہر توحیدیمولانا فضل الرحمن کے گھر کی ڈرون فوٹیج بنانے کی مذمت کرتے ہیں، مولانا عبدالقادر لونیشکارپور کے بازاروں میں صفائی اور روشنی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں گے، فیاض محمود شیخڈپٹی کمشنر نواب سمیر لغاری کا انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ، شہر سے تجاوزات کے فوری خاتمے کے احکاماتنئے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی جھل مگسی طارق شہباز نے چارج سنبھال لیا

ریاستوں کا مذہب مفاد ہوتا ہے

ریاستوں کا مذہب مفاد ہوتا ہے
تحریر،خُبیب مشوانی

بین الاقوامی سیاست کی دنیا میں ایک جملہ بار بار دہرایا جاتا ہے کہ “ریاستوں کے نہ مستقل دوست ہوتے ہیں، نہ مستقل دشمن؛ ان کے صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔” یہ عالمی سیاست کی تلخ حقیقت ہے۔

چند ماہ قبل ایک منظر سوشل میڈیا پر خوب زیرِ بحث آیا۔ پاکستانی قومی ترانے کے احترام میں تقریب کے تمام شرکاء کھڑے ہوئے، مگر بعض افغان نمائندے اپنی مذہبی تعبیر کی بنیاد پر بیٹھے رہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ قومی ترانے یا قومی پرچم کے احترام میں کھڑا ہونا شرعاً درست نہیں۔

لیکن وقت نے ایک اور منظر بھی دکھایا۔ بعد میں وہی افغان حکام ایران کی سرکاری تقریبات میں شریک ہوئے، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کے جنازے میں شریک رہے۔ ریاستی پروٹوکول کا حصہ بنے، فوجی پریڈ میں موجود رہے اور ایرانی قیادت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو فروغ دیتے نظر آئے۔ اس منظر نے ایک بنیادی سوال کو پھر زندہ کر دیا کہ کیا بین الاقوامی تعلقات صرف مذہبی تعبیرات کی بنیاد پر چلتے ہیں، یا پھر قومی مفاد ان پر غالب آ جاتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی جماعت ریاست بن جاتی ہے تو اس کے سامنے صرف مذہبی مباحث نہیں رہتے بلکہ سرحدوں کی حفاظت، معیشت، تجارت، توانائی، سفارت کاری اور قومی سلامتی جیسے بے شمار عملی تقاضے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نظریات کے ساتھ ساتھ مفادات بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ معاملہ صرف افغانستان تک محدود نہیں۔ پوری دنیا میں یہی اصول کارفرما ہے۔ ایک طرف ایسے ممالک ہیں جن کے مذہب، تہذیب اور نظریات ایک جیسے ہیں، لیکن مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے ایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہیں۔ دوسری طرف ایسے ممالک بھی ہیں جن کے درمیان گہرے نظریاتی اختلافات ہیں، مگر تجارت، دفاع یا علاقائی استحکام کے لیے وہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذہب کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ یہ کہ ریاستی فیصلے صرف مذہبی نعروں سے نہیں چلتے۔ ریاستیں اپنے بقا، استحکام اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خارجہ پالیسی میں جذبات سے زیادہ سفارت کاری، اور نعروں سے زیادہ قومی مفاد کو اہمیت دی جاتی ہے۔

اس حقیقت کو سمجھنا ہمارے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر ہم ہر بین الاقوامی واقعے کو صرف مذہبی جذبات کے پیمانے سے ناپیں گے تو بہت سے فیصلے ہمیں متضاد نظر آئیں گے۔ لیکن جب ہم انہیں ریاستی مفاد، سفارتی تقاضوں اور عالمی سیاست کے اصولوں کی روشنی میں دیکھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ دنیا نظریات سے زیادہ مفادات کے گرد گھوم رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کی دنیا میں ریاستوں کی لغت میں سب سے طاقتور لفظ “مفاد” ہے۔ تعلقات اسی کے گرد بنتے اور بگڑتے ہیں، اتحاد اسی کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، اور اختلافات بھی اسی کے مطابق جنم لیتے ہیں۔

شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ افراد اپنے عقائد سے پہچانے جاتے ہیں، لیکن ریاستیں اپنے مفادات سے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *