Banner

پاکستان: جغرافیہ، سماج اور ایک تاریخی لمحہ

Share

Share This Post

or copy the link


شکیل گوندل۔
ہمارا پیارا ملک پاکستان 14 اگست 1947 کو 27 رمضان المبارک میں دنیائے نقشہ عالم پر ایک ازاد اسلامی ریاست بن کر ابھرا۔اسٹرالوجی کا علم رکھنے والے کہتے ہیں کہ اس کا برج اسد جو کہ حامل کے لئے شیر کی خصوصیات رکھتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کے قیام کے ساتھ اسے مختلف الاقسام سازشوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مگر جنگل کے شیر کی طرح بہادری اور حکمت عملی سے مشکلات سے بفضل خدائے پاک نمٹتا چلا آ رہا ہے۔
یہ سب اللہ کریم کی مدد اور رحمت کی بدولت ہے۔
اس مہینے میں بزدل دشمن کی ذلت آمیز شکست اور سبکی کو ایک سال مکمل ہو گیا۔پاکستان تو اس مہینے جوش و خروش سے معرکہ حق کے نام سے جشن منا رہا جبکہ ہمارا بزدل اور دشمن پڑوسی انگشت بدندان اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔
اللہ رب العزت نے پاکستان کو جغرافیائی اور سماجی لحاظ سے جو بین الاقوامی اہمیت عطا فرمائی ہے اس کا تفصیلی ذکر ضروری ہے۔
پاکستان جنوب ایشیا کا ایک ایسا ملک ہے جس کی جغرافیائی صورت حال اسے فطرت کے ہر رنگ سے مالا مال کرتی ہے۔ شمال میں قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ کے برف پوش پہاڑ دنیا کی بلند ترین چوٹیاں اپنے سینے میں رکھتے ہیں، جن میں کے ٹو دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ مشرق میں صحرائے تھر کی گرم ریت، مغرب میں بلوچستان کے وسیع پہاڑی سلسلے اور جنوب میں بحیرہ عرب کا ساحل ملک کو چاروں طرف سے مختلف ماحول دیتا ہے۔ درمیان میں دریائے سندھ اور اس کے پانچ معاون دریا پنجاب اور سندھ کے میدانوں کو سیراب کرتے ہیں، جنہیں دنیا کی زرخیز ترین زمینوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے لوگ ہیں۔ یہاں پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ، مہاجر اور دیگر قومیتوں کا امتزاج ایک رنگا رنگ سماج بناتا ہے۔ مہمان نوازی یہاں کی پہچان ہے۔ دیہات میں آج بھی مسافر کے لیے دروازہ کھلا رہتا ہے اور شہر میں اجنبی بھی جلدی اپنا پن محسوس کرتا ہے۔
زبان، موسیقی اور کھانے میں یہ تنوع صاف نظر آتا ہے۔ پنجاب کا بھنگڑا، سندھ کا صوفی کلام، بلوچستان کا سوز اور خیبر پختونخواہ کا اتنڑ ہر علاقے کی شناخت ہے۔ تصوف کی روایت بلھے شاہ، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور رحمان بابا کے کلام سے آج بھی دلوں کو جوڑتی ہے۔

مشکل وقت میں قوم کا اتحاد نمایاں ہو جاتا ہے۔ زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا کوئی اور آزمائش، عام لوگ سب سے پہلے ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔ یہی جذبہ پاکستان کی سماجی طاقت ہے۔

آپریشن بنیان المرصوص کا حوالہ
2025 میں جب سرحد پر کشیدگی عروج پر پہنچی تو پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت “آپریشن بنیان المرصوص” کا آغاز کیا۔ یہ آپریشن صرف فوجی کارروائی نہ تھی، بلکہ قوم کے اتحاد اور خود انحصاری کا مظہر بھی بنا۔
اس دوران عوام نے جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اس نے ثابت کیا کہ سماجی ہم آہنگی مشکل وقت میں سب سے بڑا ہتھیار بنتی ہے۔ شہریوں نے رضاکارانہ طور پر فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا کہ قوم اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ایک دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ آپریشن کے بعد پورے ملک میں یومِ تشکر منایا گیا، جس میںمساجد، اسکولوں اور چوکوں میں شکر کے اجتماعات ہوئے۔

پاکستان جغرافیائی اعتبار سے پہاڑوں سے سمندر تک پھیلا ہوا ایک متنوع ملک ہے، اور سماجی اعتبار سے اس کی پہچان محبت، رواداری اور قربانی ہے۔ ہر آزمائش کے وقت یہی خوبیاں قوم کو ایک جسم کی طرح متحد کر دیتی ہیں۔ان مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں پاکستان پر اللہ کریم کے خصوصی کرم پر رب جلیل کا دل سے شکریہ کرنا چائیے اس دعا کے ساتھ کہ
پاکستان۔۔ہمیشہ زندہ باد۔

پاکستان: جغرافیہ، سماج اور ایک تاریخی لمحہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us