Banner

بلوچستان میں پشتون بلوچ تعلقات کا تاریخی سیاسی جائزہ

Share

Share This Post

or copy the link


محترم قارئین! بلوچستان کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیلِ نو، وسائل کی تقسیم اور نسلی توازن کا معاملہ ہمیشہ سے انتہائی حساس رہا ہے۔ جب بلوچ علاقوں کو نئے اضلاع میں تبدیل کرنے کا معاملہ زیرِ غور تھا، تو محمود خان عرف اچکزئی نے پشین کی تقسیم کی مسلسل مخالفت کی۔ پشتون قوم پرست حلقوں کا یہ مؤقف سیاسی و جغرافیائی تحفظات پر مبنی تھا کہ برطانوی دور کے “برٹش بلوچستان” اور بعد میں ریاستوں کے انضمام کے بعد اضلاع کی حد بندی صرف انتظامی نہیں، بلکہ سیاسی طاقت کا سرچشمہ رہی ہے؛ لہٰذا نئے اضلاع کے قیام سے پشتون بیلٹ کی پارلیمانی نمائندگی اور مجموعی سیاسی اثر و رسوخ متاثر ہو سکتا تھا۔ اسی طرح جب بلوچ آبادی نے مردم شماری میں اپنے اعداد و شمار بڑھانے کی کوشش کی، تو محمود خان عرف اچکزئی نے اس عمل کے بائیکاٹ کی حمایت کی۔ 1998ء اور حالیہ دہائیوں کی مردم شماری کے دوران پشتون قوم پرست قیادت کا تزویراتی مؤقف یہ تھا کہ لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی اور نادرا کارڈز کے مسائل کے حل کے بغیر درست تخمینہ ممکن نہیں، جبکہ بلوچ اضلاع کی آبادی مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ تاہم، ناقدین کے مطابق اس بائیکاٹ کا معروضی نتیجہ یہ نکلا کہ پشتون قومی ریکارڈ میں عددی لحاظ سے کمزور ہو گئے، جس سے وفاقی این ایف سی ایوارڈ، صوبائی بجٹ اور پارلیمانی نشستوں کی تقسیم میں پشتون بیلٹ کو مستقل معاشی و سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔صوبائی خودمختاری اور ریاستی اداروں کے مابین تعلقات کی تاریخ میں محمود خان عرف اچکزئی کی جانب سے بلوچستان اسمبلی میں فوج کے لیے زمین کے حصول (Land Acquisition Act) کے بل کی حمایت ایک متنازع باب ہے۔ جہاں قوم پرستوں نے اسے صوبائی زمینی حقوق پر سمجھوتہ قرار دے کر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، وہاں سیاسی مبصرین اسے وفاق اور مقتدرہ کے ساتھ اقتدار کی بقاء اور توازن برقرار رکھنے کی ایک تزویراتی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں، جس نے پشتون قوم پرستی کے روایتی اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر کئی فکری سوالات قائم کیے۔ مزید، کراچی کے ایک جلسے میں ان کا یہ بیان کہ “مہاجروں کی ہر عمارت کے نیچے پشتونوں کا دفتر ‘چائینکی ہوٹل’ کی صورت میں موجود ہے”، کثیر الثقافتی سیاست میں گہرے اثرات کا حامل ٹھہرا۔ چائینکی ہوٹل جہاں ایک طرف کوئٹہ اور چمن کے پشتون محنت کشوں کی انتھک معاشی جدوجہد کی علامت ہیں، وہاں ناقدین نے اس بیان کو مہاجر اور پشتون آبادیوں کے مابین معاشی چھیڑ چھاڑ اور بالادستی کی ایک غیر ضروری جنگ سے تعبیر کیا، جس نے دونوں برادریوں میں سیاسی بداعتمادی کو ہوا دی اور معاشی مفادات کو نسلی رنگ دے دیا۔
محمود خان عرف اچکزئی کے اس بیانیے نے کہ “بلوچ پشتونوں کے حقوق سلب کر رہے ہیں”، دونوں اقوام کے مابین معاشی فاصلوں کو مزید وسیع کیا۔ معاشی اعداد و شمار کے مطابق، بلوچستان کی بین الاقوامی تجارت، افغان ٹرانزٹ اور ساحلِ مکران تک مال برداری (Logistics) کے 70 فیصد سے زائد حصے پر پشتون نیٹ ورکس کا کنٹرول رہا ہے۔ جب سیاسی بیانیے میں بلوچوں کو حقوق غصب کرنے والا پیش کیا گیا، تو ردِعمل کے طور پر مکران اور رخشان ڈویژن کے مقامی بلوچ نوجوانوں میں یہ احساسِ محرومی پیدا ہوا کہ گوادر، پسنی، جیونی، تربت، تفتان، نوشکی اور خضدار جیسے تجارتی مراکز اور بندرگاہوں پر مقامی لوگوں کے بجائے دوسرے اضلاع کے لوگ قابض ہیں؛ چنانچہ اس ردِعمل نے آگے چل کر پشتون ٹرانسپورٹرز اور دکانداروں کے خلاف معاشی بائیکاٹ اور تشدد کی شکل اختیار کر لی۔ اسی طرح، نوکریوں اور تعلیم کے حوالے سے ان کا مسلسل یہ مؤقف رہا کہ بلوچوں کو زیادہ سرکاری ملازمتیں دی جا رہی ہیں، جبکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ کوئٹہ، لورالائی، پشین اور ژوب کے پشتون اضلاع میں شرحِ خواندگی اور سول سروس (CSS/PCS) میں کامیابی کا تناسب مکران اور قلات کے دور افتادہ بلوچ اضلاع سے ہمیشہ بہتر رہا ہے۔ لیکن اس بیانیے کے برقرار رہنے سے دونوں برادریوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان کوٹہ سسٹم اور ملازمتوں کی تقسیم پر مستقل فکری تصادم کی فضا قائم ہو گئی۔
اگر گورننس اور ترقیاتی ترجیحات کا موازنہ کیا جائے تو سن 2013ء سے 2018ء تک ڈاکٹر مالک بلوچ کی حکومت کے دوران محمود خان عرف اچکزئی کی جماعت اور ڈاکٹر مالک کی پارٹی کو تعلیم کے لیے یکساں بجٹ ملا۔ صوبائی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تقابلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اپنے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں تربت یونیورسٹی، لورالائی یونیورسٹی کا باقاعدہ آغاز اور خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی کے کیمپسز جیسے دوررس تعلیمی منصوبے قائم کیے، جبکہ پشتونخوا پارٹی کے وزراء اور اراکینِ اسمبلی کے حلقوں میں فنڈز کی خطیر رقم مائیکرو اسکیموں، سڑکوں اور نالیوں جیسے غیر پیداواری شعبوں میں ضائع ہو گئی۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ پشین اور قلعہ عبداللہ جیسے علاقوں میں ایک کالج کے منصوبے پر بھی مطلوبہ پیش رفت نہ ہو سکی، جو تعلیمی ترجیحات کے فقدان کا بین ثبوت ہے۔ یہ حقیقت انتہائی تلخ ہے کہ علم دوستی کے لیے مشہور پشتون بیلٹ پچھلی کئی دہائیوں کی سیاسی قیادت کی عدم توجہی کے باعث اعلیٰ ترین تعلیمی انفراسٹرکچر سے محروم رہی اور پشین یا چمن میں کوئی ایسی بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی قائم نہیں ہو سکی جو اس قیادت کے نام سے وابستہ ہو، جبکہ اس کے برعکس دیگر سیاسی رہنماؤں نے اپنے ادوار میں تعلیمی اداروں کے جال بچھائے۔ بعض حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ وہ آج بھی پشتونوں کے معاشی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں اور مستقبل میں تفتان کی شاہراہ کی بندش جیسے اقدامات کی حمایت کر سکتے ہیں، حالانکہ تفتان بارڈر ٹریڈ اور پاک-ایران تجارتی گزرگاہ پشتون تاجروں کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی سیاسی یا نسلی کشیدگی کا براہِ راست نقصان چمن اور کوئٹہ کے کلیئرنگ ایجنٹس اور ٹرانسپورٹرز کو ہوتا ہے۔ اسی طرح بلوچستان اسمبلی میں یہ اعلان کیا گیا کہ “کوئٹہ پشتونوں کا شہر ہے”؛ مبصرین نے اس دعوے کو ایک ایسی چنگاری قرار دیا جس نے کثیر النسلی شہر (جہاں بلوچ، پشتون، ہزارہ اور آبادکار دہائیوں سے امن سے رہ رہے ہیں) کے امن کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کیا اور جائیدادوں کی خریداری سے لے کر سیاسی اتحادوں تک ہر چیز میں نفرت کا عنصر شامل کر دیا۔
پشتون قوم کو اجتہادی غور و فکر کی ضرورت ہے کہ جیو پولیٹکس (Geo-politics) کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ زمین بند (landlocked) یا محصور معیشتیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں اور سپلائی چین (Supply Chain) پر کنٹرول ہی اصل طاقت ہے۔ پشتون علاقوں کو پاکستان کے دیگر حصوں سے چار بڑی شاہراہیں ملاتی ہیں: کوئٹہ-خضدار-کراچی شاہراہ (N-25)، کوئٹہ-سکھر-کراچی شاہراہ (N-65)، کوئٹہ-فورٹ منرو-ملتان-لاہور شاہراہ (N-70)، اور کوئٹہ-ژوب-ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ (N-50)۔ چونکہ ان میں سے اہم راستے بلوچ آبادی والے علاقوں سے گزرتے ہیں، اس لیے یہ شاہراہیں پشتون آبادی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر ان چاروں راستوں بالخصوص خضدار یا مچھ کے مقامات پر آمد و رفت معطل ہو جائے، تو چمن اور افغان سرحد سے آنے والی اربوں روپے کی تجارت مفلوج ہو کر رہ جائے گی، جو پشتون عوام کی معاشی موت کے مترادف ہے۔ جہاں تک اس نازک صورتحال میں میرے عملی کردار کا تعلق ہے، تو تاریخ گواہ ہے کہ جب مئی 2015ء میں مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ کے مقام پر تقریباً تیس پشتونوں کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا، تو میں نے اس نسلی قتلِ عام کے خلاف عملی میدان میں بھرپور احتجاج کیا۔ اس کے بعد میں نے لندن کا سفر کیا اور خانِ قلات (سلیمان داؤد) سے متعدد ملاقاتیں کیں، جس کے نتیجے میں ہم اس تزویراتی نتیجے پر پہنچے کہ اس سانحے میں ایک “تیسری قوت” (Third Power) شامل تھی جو پشتونوں اور بلوچوں کے درمیان خونی تصادم پیدا کر کے صوبے کو خانہ جنگی میں دھکیلنا چاہتی تھی؛ بعد میں میں نے بی بی سی (BBC) کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں بھی یہی تاریخ ساز مؤقف دہرایا۔ اس کے بعد جب قومی شاہراہ خضدار کے مقام پر بار بار بند کی گئی اور کئی پشتون ڈرائیوروں کی جانیں گئیں، تو اس نازک موڑ پر میں اور مولانا محمد خان شیرانی خود وہاں گئے اور اپنی انتھک سفارتی و قبائلی کوششوں کے بعد اس تجارتی شاہراہ کو کھلوایا اور پشتون ڈرائیوروں کا تحفظ یقینی بنایا، جو اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ قوم کے جانی و معاشی مفادات کا تحفظ نعروں سے نہیں بلکہ مخلصانہ، دوراندیش اور عملی سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔

بلوچستان میں پشتون بلوچ تعلقات کا تاریخی سیاسی جائزہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us