Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ منایا جارہا ہےافغان سرزمین بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، وزیر داخلہ بلوچستانصنعتی پولٹری فارمنگ: انسانی صحت کے لیے خاموش خطرہاسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستپاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ منایا جارہا ہےافغان سرزمین بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، وزیر داخلہ بلوچستانصنعتی پولٹری فارمنگ: انسانی صحت کے لیے خاموش خطرہاسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکست

عالمی اداروں کی بے بسی

صحافت منظر نامہ


قارئین صحافت ۔ کیا اقوامِ متحدہ اپنا جواز کھو چکی ہے؟ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں جب ہم عالمی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں، تو غزہ کی مخدوش گلیوں سے لے کر یوکرین کے میدانِ جنگ تک، ہر جگہ ایک سوال بازگشت کرتا سنائی دیتا ہے کہ کیا اقوامِ متحدہ اپنی اہمیت کھو چکی ہے؟ وہ ادارہ جس کی بنیاد جنگوں کی ہولناکی سے آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے رکھی گئی تھی، آج خود تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد 1945 میں جب لیگ آف نیشنز کی راکھ سے اقوامِ متحدہ کا جنم ہوا، تو دنیا پُرامید تھی اور اس کے چارٹر کا بنیادی مقصد عالمی امن، انسانی حقوق کا تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی تھا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس ڈھانچے میں ایک موروثی نقص ویٹو پاور کی صورت میں رکھا گیا جس نے پانچ مستقل ارکان کو یہ حق دے کر دراصل طاقتور ممالک کے مفادات کا تحفظ کیا اور انصاف کی راہ مسدود کر دی۔ اقوامِ متحدہ کی موجودہ ناکامی کے پیچھے چند ٹھوس محرکات ہیں جن میں ویٹو پاور کا غلط استعمال سرفہرست ہے کیونکہ سلامتی کونسل میں جب بھی کسی طاقتور ملک یا اس کے اتحادی کے خلاف قرارداد آتی ہے، ویٹو اسے ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیتا ہے، جبکہ ادارے کے پاس قوتِ نافذہ کا فقدان ہے اور جنرل اسمبلی کی قراردادیں محض اخلاقی سفارشات بن کر رہ گئی ہیں۔ تاریخ کے صفحات اقوامِ متحدہ کی خاموشی اور بے بسی کے داغوں سے بھرے پڑے ہیں، جیسے 1994 میں روانڈا کا قتلِ عام ہو یا 1995 میں سریبرینیتسا کا سانحہ، جہاں امن دستوں کی موجودگی کے باوجود ہزاروں انسان لقمہ اجل بن گئے، جبکہ کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات آج بھی ادارے کی نااہلی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ سیاسی محاذ پر اقوامِ متحدہ بے بس نظر آتی ہے، لیکن اس کے ذیلی ادارے جیسے یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور خوراک کے پروگرام دنیا بھر میں کروڑوں زندگیوں کو سہارا دیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس کی اہمیت کو مکمل مسترد کرنا مشکل ہے، تاہم اگر یہ ادارہ اپنی بقا چاہتا ہے تو اسے عظیم طاقتوں کے کلب کے لیبل سے نکل کر سلامتی کونسل میں جمہوری اصلاحات لانی ہوں گی اور ویٹو پاور کو محدود کرنا ہوگا۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ آج ایک ایسے دو راہے پر کھڑی ہے جہاں اسے یا تو خود کو بدلنا ہوگا یا پھر تاریخ کے قبرستان میں اپنی پیشرو لیگ آف نیشنز کے پہلو میں جگہ لینی ہوگی، کیونکہ یہ ادارہ اپنا جواز تو نہیں کھویا لیکن اپنا وقار اور اثر ضرور کھو چکا ہے اور اب دنیا کو ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو طاقتور کا آلہ کار بننے کے بجائے کمزور کی ڈھال بن سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *