Banner
Daily Sahafat Quetta
September 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عدالت کے باہر فائرنگ، لاڑکانہ کا رہائشی شخص زخمیتحریکِ صیہونیت، بیلفور اعلامیہ، عرب دنیا، برطانوی وعدہ خلافی اورتاریخ کا ایک سیاہ بابدنیا کی موجودہ صورت حال اور ہمبلوچستان میں بڑا فیصلہ، 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ​اسکول کے بستے میں ’ڈیجیٹل شعور‘ کا ہونا اب کیوں ضروری ہے؟پاکستان کو توڑنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ بلوچستان27 ستمبر؛ کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دینگے، خلا ف ورزی پر سخت ایکشن ہوگا، آئی جی پنجابناکام ڈرون دراندازی کا سخت ردعمل، پاک فضائیہ کے افغانستان میں فضائی اور ڈرون حملےلانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: رانا ثنااللہکے الیکٹرک ٹیرف میں 19 فیصد کمی برقرار، کراچی کے صارفین کو فائدہ نہیں ہوگاعدالت کے باہر فائرنگ، لاڑکانہ کا رہائشی شخص زخمیتحریکِ صیہونیت، بیلفور اعلامیہ، عرب دنیا، برطانوی وعدہ خلافی اورتاریخ کا ایک سیاہ بابدنیا کی موجودہ صورت حال اور ہمبلوچستان میں بڑا فیصلہ، 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ​اسکول کے بستے میں ’ڈیجیٹل شعور‘ کا ہونا اب کیوں ضروری ہے؟پاکستان کو توڑنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ بلوچستان27 ستمبر؛ کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دینگے، خلا ف ورزی پر سخت ایکشن ہوگا، آئی جی پنجابناکام ڈرون دراندازی کا سخت ردعمل، پاک فضائیہ کے افغانستان میں فضائی اور ڈرون حملےلانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: رانا ثنااللہکے الیکٹرک ٹیرف میں 19 فیصد کمی برقرار، کراچی کے صارفین کو فائدہ نہیں ہوگا

​اسکول کے بستے میں ’ڈیجیٹل شعور‘ کا ہونا اب کیوں ضروری ہے؟

​اسکول کے بستے میں ’ڈیجیٹل شعور‘ کا ہونا اب کیوں ضروری ہے؟

تحریر: میر احمد مینگل

​تصور کریں کہ ایک ساتویں جماعت کا بچہ اسکول سے گھر لوٹتا ہے، فون اٹھاتا ہے اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھتا ہے جس میں اس کے پسندیدہ تعلیمی ادارے یا کسی مشہور شخصیت کے بارے میں ایک سنسنی خیز خبر دی جا رہی ہوتی ہے۔ ویڈیو میں چہرہ، آواز اور انداز اتنا سچا لگتا ہے کہ بچے کے ذہن میں ذرا سا بھی شک نہیں گزرتا کہ یہ جھوٹ ہو سکتا ہے۔ وہ بغیر سوچے فوراً اسے اپنے دوستوں کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کر دیتا ہے۔ ​یہ کہانی صرف ایک بچے کی نہیں، بلکہ ہمارے ہر گھر کی ہے۔ جس دنیا میں ہمارے بچے سانس لے رہے ہیں، وہاں اب سچ اور جھوٹ کا فرق دھندلا چکا ہے۔

​سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام بچوں کو اس ڈیجیٹل جنگل میں محفوظ رہنے کی تربیت دے رہا ہے؟

مصنوعی ذہانت (AI) نے جہاں تخلیق کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں ‘ڈیپ فیک’ (Deepfake) اور وائس کلوننگ (Voice Cloning) جیسے ٹولز نے جعل سازی کو ایک بٹن کی دوری پر لا کھڑا کیا ہے۔ ​ہم بچوں کو ریاضی، سائنس اور زبانیں تو سکھاتے ہیں تاکہ وہ عملی زندگی کے لیے تیار ہو سکیں، لیکن ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ان کی نصف زندگی سکرین کے سامنے گزرتی ہے۔ اگر اسکول انہیں جعلی اور اصلی مواد میں فرق کرنا نہیں سکھائیں گے، تو وہ غلط معلومات (Misinformation) کے اس سیلاب میں بہہ جائیں گے۔

​اسکول کے نصاب میں اس موضوع کو شامل کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناگزیر ہو چکا ہے ​غیر ارادی غلطی سے بچاؤ بچے اکثر سنسنی خیز خبریں یا جعلی تصاویر سچ سمجھ کر شیئر کر دیتے ہیں۔ اگر انہیں اسکول میں یہ پڑھایا جائے کہ AI سے بنی تصاویر میں ہاتھوں کی ساخت، روشنی کا زاویہ یا چہرے کے تاثرات کیسے غیر قدرتی ہوتے ہیں، تو وہ افواہیں پھیلانے کا ذریعہ بننے سے بچ جائیں گے۔ ​تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کی پرورش اسکول کی ذمہ داری صرف معلومات رٹوانا نہیں، بلکہ بچوں کو یہ سکھانا ہے کہ “جو کچھ سکرین پر نظر آئے، اس پر فوراً یقین نہ کرو۔” یہ سکھانا کہ خبر کا اصل ذریعہ کیا ہے اور حقائق کی تصدیق (Fact-checking) کیسے کی جاتی ہے۔

​ذہنی اور اخلاقی تحفظ AI کے ذریعے بچوں یا ان کے دوستوں کی تصاویر کا غلط استعمال (Cyberbullying) ان کی ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسکول میں اس موضوع پر بات کرنے سے بچوں میں یہ شعور بیدار ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا کی اخلاقی حدود کیا ہیں۔

یہاں مقصد بچوں کو AI یا ٹیکنالوجی سے ڈرانا بالکل نہیں ہے۔ مصنوعی ذہانت مستقبل کا بہترین تعلیمی ہتھیار بھی ہے۔ لیکن جیسے ہم بچے کو روڈ کراس کرنے سے پہلے دائیں بائیں دیکھنا سکھاتے ہیں تاکہ وہ حادثے سے بچے، بالکل اسی طرح ڈیجیٹل سڑک پر چلنے کے لیے بھی ٹریفک قوانین کی طرح “ڈیجیٹل خواندگی” پڑھانا لازمی ہے۔

​وقت کا تقاضا ہے کہ تعلیمی نصاب میں فوری تبدیلی ​آج کے دور میں صرف کتابی علم کافی نہیں۔ اسکولوں کو اپنے روایتی نصاب سے نکل کر ہفتے میں کم از کم ایک پیریڈ “ڈیجیٹل سٹیزن شپ” (Digital Citizenship) کا رکھنا چاہیے جہاں بچوں کو پریکٹیکل طریقے سے AI ٹولز کی پہچان، حقیقت کی جانچ اور محفوظ آن لائن رویے سکھائے جائیں۔ ​اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل صرف سکرین کی غلام نہ بنے بلکہ ایک باخبر، ذہین اور تنقیدی صلاحیت رکھنے والی شہری بنے، تو اسکول کے بستے میں اس تعلیمی اصلاح کو آج ہی شامل کرنا ہوگا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *