Banner
Daily Sahafat Quetta
November 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
TENDER NOTICE: DPRQ/PQ NO.2340/06-11-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PQ NO.2320/06-11-2026انڈس ہائی وے پر ٹرک اور موٹر سائیکل میں تصادم، دو نوجوان جاں بحق، ایک زخمینئی صوبائی حکومت کے قیام کے بعد پشاور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیبی این پی عوامی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقاتمفادات کی تقسیم میں حصہ نہ ملنے کا دکھ۔۔!!بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ گڑھی خدا بخش میں شہداء کے مزارات پر حاضریبدامنی کی بنیادی وجہ ہمارے وطن کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے، نواب ایاز خان جوگیزئیپشتون قوم سیاسی، معاشی اور ثقافتی اختیارات سے محروم ہے، خوشحال خان کاکڑبلوچستان پولیس اور نادرا کے درمیان جدید ڈیجیٹل و بائیومیٹرک سروسز کا معاہدہTENDER NOTICE: DPRQ/PQ NO.2340/06-11-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PQ NO.2320/06-11-2026انڈس ہائی وے پر ٹرک اور موٹر سائیکل میں تصادم، دو نوجوان جاں بحق، ایک زخمینئی صوبائی حکومت کے قیام کے بعد پشاور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیبی این پی عوامی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقاتمفادات کی تقسیم میں حصہ نہ ملنے کا دکھ۔۔!!بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ گڑھی خدا بخش میں شہداء کے مزارات پر حاضریبدامنی کی بنیادی وجہ ہمارے وطن کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے، نواب ایاز خان جوگیزئیپشتون قوم سیاسی، معاشی اور ثقافتی اختیارات سے محروم ہے، خوشحال خان کاکڑبلوچستان پولیس اور نادرا کے درمیان جدید ڈیجیٹل و بائیومیٹرک سروسز کا معاہدہ

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ میں سول سوسائٹی نے کلیدی کردار ادا کیا ،عسکر خان

سینٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاونٹیبیلیٹی کے زیر اہتمام بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے تعاون سے کوئٹہ میں ایک روزہ اہم سیمینار منعقد ہوا، جس میں “بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے حق (رائٹ ٹو انفارمیشن) ایکٹ 2021 کی عملدرآمدی صورتحال اور درپیش چیلنجز” کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔سیمینار میں ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان، بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے کمشنر عبدالشکور، سی جی پی اے کی کوآرڈینیٹر مس رباب مختلف سرکاری محکموں کے پبلک انفارمیشن افسران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اعلیٰ سرکاری حکام اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔شرکاءنے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 پر عملدرآمد کی موجودہ صورتحال، ادارہ جاتی رکاوٹوں اور معلومات تک عوام کی بروقت رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مو¿ثر حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان نے کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ میں سول سوسائٹی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنقید برائے تنقید کے بجائے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مثبت تعاون کے ذریعے اس قانون کو مزید فعال اور مو¿ثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت اور احتساب کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ اجتماعی قومی فریضہ ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے کمشنر عبدالشکور نے اپنے خطاب میں کمیشن کی کارکردگی، حاصل شدہ پیش رفت اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مو¿ثر رابطہ کاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید نظام کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔سی جی پی اے کوآرڈینیٹر مس رباب اے آئی ڈی بلوچستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عدیل جہانگیر اور میجر بہرام لہڑی نے کہا کہ اگرچہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، تاہم محدود ادارہ جاتی استعداد، معلومات کی فراہمی میں تاخیر اور عوامی سطح پر آگاہی کی کمی جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کیے بغیر اس قانون کے مکمل ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی تعاون، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے اور مو¿ثر پالیسی اقدامات کے ذریعے بلوچستان میں شفافیت، جوابدہی اور معلومات تک عوام کی رسائی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *