Banner

تاریخ کے آئینے میں ظالم حکمرانوں اور سیاستدانوں کے انجام

Share

Share This Post

or copy the link


قارئین کرام ۔تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جب بھی کسی حکمران یا سیاستدان نے اپنے ملک و ملت سے غداری کی ہے، عوام پر ظلم و جبر کا بازار گرم کیا ہے، یا ذاتی مفادات کو قومی سلامتی پر ترجیح دی ہے، تو ان کا انجام ہمیشہ عبرتناک اور تباہ کن رہا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے متعدد شواہد موجود ہیں جہاں مطلق العنان اور ظالم حکمرانوں کو ان کے اعمال کی کڑی سزا بھگتنی پڑی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والے ان تاریخی واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اقتدار کی غلام گردشیں عارضی ہوتی ہیں جبکہ تاریخ کا فیصلہ حتمی اور اٹل ہوتا ہے۔اس سلسلے کی پہلی بڑی مثال فرانس کے بادشاہ لوئی شانزدہم (Louis XVI) اور ان کی ملکہ میری اینٹونیت کی ہے جنہوں نے فرانس کے عوام کو بھوک اور غربت کی بھٹی میں جھونک کر شاہانہ زندگی گزاری۔ اٹھارویں صدی کے اواخر میں جب فرانسیسی انقلاب برپا ہوا، تو عوام نے ان کے جبر کے خلاف آواز اٹھائی۔ لوئی شانزدہم کو غداری اور عوام کے حقوق سلب کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور جنوری 1793 میں انہیں گلوسٹین (Guillotine) کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔ یہ نہ صرف ایک بادشاہ کا انجام تھا بلکہ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ عوام کی طاقت کے سامنے کوئی بھی حکمران زیادہ دیر تک اپنے جبر کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔دوسری بڑی مثال دوسری جنگ عظیم کے دوران اٹلی کے فاشسٹ رہنما بینیٹو مسولینی (Benito Mussolini) کی ہے۔ مسولینی نے اٹلی پر دو دہائیوں تک جبر کی حکومت کی اور اپنے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا۔ جب اتحادی افواج نے اٹلی کو شکست دی اور فاشسٹ حکومت کا خاتمہ ہوا، تو مسولینی کو ملک سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران اپریل 1945 میں اطالوی مزاحمت کاروں نے گرفتار کر کے گولی مار دی۔ بعد میں، ان کی لاش کو میلان کے ایک چوک میں عوام کے سامنے الٹا لٹکایا گیا۔ یہ عالمی سطح پر ایک ایسے رہنما کا انجام تھا جس نے قوم کو دھوکہ دے کر جنگ کی ہولناکیوں میں جھونکا تھا۔
تیسری واضح اور تاریخی مثال رومانیہ کے آخری کمیونسٹ صدر نکولائی چاوشسکو (Nicolae Ceaușescu) کی ہے۔ انہوں نے چوبیس سال تک ملک پر انتہائی سخت اور ظالم حکومت کی۔ 1989 کے رومانیہ کے انقلاب کے دوران، عوام نے ان کی پالیسیوں اور جبر کے خلاف بغاوت کر دی۔ چاوشسکو کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا اور ایک فوری فوجی عدالت کے فیصلے کے بعد دسمبر 1989 میں انہیں اور ان کی اہلیہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکمران عوام کو دیوار سے لگا دیتے ہیں، تو ان کا انجام انتہائی ہولناک ہوتا ہے۔
اسی طرح کی ایک اور مثال لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی (Muammar Gaddafi) کی ہے جنہوں نے چار دہائیوں تک ملک پر مطلق العنان حکمرانی کی۔ 2011 کے عرب بہار کے دوران لیبیا میں ان کی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی، جس کے نتیجے میں نیٹو کی مداخلت اور عوامی تحریک نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ قذافی کو اکتوبر 2011 میں ان کے آبائی شہر سرت میں گرفتار کیا گیا اور اسی وقت موقع پر مارا گیا۔ ان کا یہ انجام عالمی سطح پر ان تمام حکمرانوں کے لیے ایک سخت پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔تاریخ کے ان تمام شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اقتدار، دولت اور طاقت کبھی بھی کسی حکمران یا سیاستدان کو عوام کے غیض و غضب اور تاریخی انصاف سے نہیں بچا سکتے۔ جب بھی کسی قائد نے اپنے لوگوں سے دھوکہ کیا، اسے بالآخر عالمی سطح پر رسوائی، قانونی سزاؤں، یا عوامی بغاوت کے ذریعے اپنے انجام کا سامنا کرنا پڑا۔

تاریخ کے آئینے میں ظالم حکمرانوں اور سیاستدانوں کے انجام

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us