Banner
Daily Sahafat Quetta
August 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کیچ: بالگتر اور تربت میں زرعی واٹر سکیموں کے لیے ٹینڈر جاریامن و امان کے پیش نظر کوئٹہ میں موبائل سروس معطل رہے گی، ضیاء اللہ لانگوتاجر برادری کے تمام جائز تحفظات دور کیے جائیں گے، ضیاءاللہ لانگومری قبیلے کے سرکردہ رہنما میر ہیبت خان کی آج 20ویں برسی مناٸی جارہی ہےکوئٹہ چہلم حضرت امام حسینؓ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل، ایک ہزار سے زائد اہلکار تعیناتوزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق عوام کو صحت سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے‘بخت محمد کاکڑبلوچستان ہائی کورٹ توسیعی منصوبے میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، بابر خانایس ایم تنویر کی قیادت میں کامیاب و تاریخی پہلی اکنامک سمٹ 2026 کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، محمدآصف خان ترینٹرانسپورٹرز کا 7 ، 8 اگست کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا اعلانبند کمروں کے فیصلوں سے ملک کا نظام چلانے کی کوشش خطرناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقکیچ: بالگتر اور تربت میں زرعی واٹر سکیموں کے لیے ٹینڈر جاریامن و امان کے پیش نظر کوئٹہ میں موبائل سروس معطل رہے گی، ضیاء اللہ لانگوتاجر برادری کے تمام جائز تحفظات دور کیے جائیں گے، ضیاءاللہ لانگومری قبیلے کے سرکردہ رہنما میر ہیبت خان کی آج 20ویں برسی مناٸی جارہی ہےکوئٹہ چہلم حضرت امام حسینؓ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل، ایک ہزار سے زائد اہلکار تعیناتوزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق عوام کو صحت سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے‘بخت محمد کاکڑبلوچستان ہائی کورٹ توسیعی منصوبے میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، بابر خانایس ایم تنویر کی قیادت میں کامیاب و تاریخی پہلی اکنامک سمٹ 2026 کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، محمدآصف خان ترینٹرانسپورٹرز کا 7 ، 8 اگست کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا اعلانبند کمروں کے فیصلوں سے ملک کا نظام چلانے کی کوشش خطرناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیق

پیاس لگی ہے پانی دے دو


تحریر: محمد عبیدالله میرانی

کراچی جو ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب کہلاتا ہے آج اپنی بنیادی ترین ضرورت پانی کے لیے ترس رہا ہے یہ مسئلہ اب محض ایک شہری شکایت نہیں رہا بلکہ ایک سنگین انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کی شدت کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو روزانہ اس اذیت سے گزرتا ہے میں خود ہر روز اس کرب کو جھیلتا ہوں اور یہ کرب سب سے زیادہ میرے اپنے ضلع کورنگی میں محسوس ہوتا ہے یہاں پانی کا مسئلہ صرف قلت نہیں رہا بلکہ ایک روزانہ کی جنگ بن چکا ہے صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ آج پانی کہاں سے حاصل کیا جائے گا گلیوں میں خالی برتن لیے لوگ گھروں میں پریشان عورتیں اور ٹینکر کے انتظار میں کھڑے بچے یہ سب اب معمول کا منظر بن چکا ہے لیکن یہ کہانی صرف کورنگی تک محدود نہیں لانڈھی اور ملیر کے کئی علاقوں میں کئی کئی دنوں سے نل خشک ہیں شاہ فیصل کالونی میں لوگ رات گئے تک پانی کے انتظار میں جاگتے رہتے ہیں لیاقت آباد اور ناظم آباد میں صورتحال یہ ہے کہ پانی آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں اور جب آتا بھی ہے تو چند منٹوں کے لیے گلشن اقبال اور گلستان جوہر جیسے علاقوں میں بھی اب یہی حال ہے، جبکہ ڈیفنس اور کلفٹن جیسے پوش علاقوں کے رہائشی بھی اب اس بحران سے محفوظ نہیں رہے ایک کولر بھرانے کے لیے مختلف دکانوں کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ہر جگہ لمبی قطاریں، بے چین چہرے اور مایوسی سے بھری نظریں دکھائی دیتی ہیں کئی مرتبہ گھنٹوں انتظار کے باوجود پانی میسر نہیں آتا اور آخر کار شہری 70 روپے کی ایک منرل واٹر کی بوتل خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ وہی کولر عام حالات میں 40 روپے میں بھر سکتا ہے۔ یہ فرق صرف جیب پر بوجھ نہیں ڈالتا بلکہ یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ شاید اس شہر میں عام آدمی کی کوئی حیثیت نہیں رہی سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب بچے تپتی دوپہر میں پانی مانگتے ہیں اور ایک باپ کے پاس انہیں دینے کو کچھ نہیں ہوتا یہ بحران اس وقت ایک ہولناک المیے میں تبدیل ہو جاتا ہے جب شہر کو شدید ترین گرمی ہیٹ ویو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے حالیہ دنوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سیلسیئس سے تجاوز کر جانے اور چلچلاتی دھوپ کے باعث کراچی میں صورتحال بدتر ہو چکی ہے صرف گزشتہ چند دنوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی شدید قلت کے باعث درجن سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں لیاقت آباد کلفٹن سرجانی اور ڈیفنس جیسے علاقوں میں گرمی کی شدت اور پیاس کے مارے لوگ دم توڑ رہے ہیں یہ صرف اموات کے اعداد و شمار نہیں ہیں یہ ان جیتے جاگتے انسانوں کی سسکیاں ہیں جو پیاس سے تڑپ کر ہم سے رخصت ہو گئے اعداد و شمار اس صورتحال کو مزید واضح کرتے ہیں کراچی کو روزانہ 1200 ملین گیلن سے زائد پانی درکار ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ معمول کے حالات میں بھی صرف تقریباً 650 ملین گیلن فراہم کیا جاتا ہے۔ یعنی شہر پہلے ہی ایک مستقل قلت کا شکار ہے اور جیسے ہی نظام میں معمولی خرابی پیدا ہوتی ہے، صورتحال فوری طور پر ایک بڑے جانی اور مالی بحران میں تبدیل ہو جاتی ہے حالیہ دنوں میں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر پائپ لائن کی مرمت اور اچانک بجلی کے بریک ڈاؤن نے اس کمزور نظام کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے جس کے نتیجے میں کورنگی سمیت شہر کے متعدد علاقے کئی کئی دنوں سے پانی کے ایک ایک قطرے سے محروم ہیں اس صورتحال کا سب سے تاریک پہلو ٹینکر مافیا کا کردار ہے، جو ہر بحران کی طرح اس بار بھی پوری طاقت کے ساتھ متحرک ہو چکی ہے کورنگی کی تنگ گلیوں میں جب ٹینکر داخل ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی نے پانی نہیں بلکہ امید بیچنے کا کاروبار شروع کر رکھا ہو۔ مگر یہ امید بھی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس کی بھاری قیمت ادا کر سکتے ہیں غریب اور متوسط طبقہ تو صرف حسرت سے ان ٹینکرز کو گزرتا دیکھتا رہتا ہے شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والے عوامی احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہری اب خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں کورنگی لانڈھی ملیر اور دیگر علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں مگر متعلقہ اداروں کی جانب سے صرف یہی روایتی جواب سننے کو ملتا ہے کہ مرمتی کام جاری ہے اس معاشی حب اور کروڑوں کے شہر میں جب نل کھولتے ہیں تو پانی نہیں آتا اور آج کے دور میں یہی اس شہر کی سب سے بڑی اور افسوسناک خبر ہے حکومت اور واٹر کارپوریشن کو اب جاگنا ہوگا کیونکہ یہ محض پانی کا مسئلہ نہیں بلکہ شہریوں کے جینے کے حق کا معاملہ ہے اگر اب بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو پیاس اور گرمی کی یہ شدت مزید کئی معصوم جانیں نگل لے گی

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *