Banner

چیف انجینئر و صوبائی کوآرڈینیٹر واٹر سیکٹر

Share

Share This Post

or copy the link

چیف انجینئر و صوبائی کوآرڈینیٹر واٹر سیکٹر
انجینئر سمیع اللہ بلوچ کا گوادر میں بسول ڈیم اہم دورہ
رپورٹ، نوراحمد راہی
چیف انجینئر و صوبائی کوآرڈینیٹر واٹر سیکٹر حکومت بلوچستان، انجینئر سمیع اللہ بلوچ ایک منجھے ہوئے، باصلاحیت اور سینئر بیوروکریٹ کے طور پر جانے جاتے ہیں، جو عرصہ دراز سے محکمہ آبپاشی میں نہایت خلوص اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ڈیموں کی تعمیر، آبی ذخائر کے مو¿ثر استعمال اور آبپاشی کے مختلف منصوبوں میں انہیں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ان کی شبانہ روز کاوشوں کے باعث بلوچستان میں بڑے پیمانے پر ڈیموں کی تعمیر کا عمل تیزی سے جاری ہے، جو صوبے کے روشن مستقبل کی نوید بن چکا ہے۔
چیف انجینئر و صوبائی کوآرڈینیٹر انجینئر سمیع اللہ بلوچ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی اور پانی سے متعلق درپیش مسائل کے حل کے لیے ڈیموں کی منظوری اور فنڈز کے حصول میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی قابلیت، دیانت داری اور بہترین کارکردگی قابلِ ستائش ہے۔ ان کی انتھک محنت نہ صرف محکمہ آبپاشی کی نیک نامی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے بلکہ بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی نئی منزلوں کی جانب گامزن کر رہی ہے انجینئرسمیع اللہ بلوچ صرف منصوبہ بندی تک محدود نہیں بلکہ وہ خود مختلف اضلاع میں تعمیر ہونے والے ڈیموں کا باقاعدگی سے دورہ کرتے ہیں اور ہر منصوبے کی از خود نگرانی کو یقینی بناتے ہیں۔ وہ کوالٹی اور کوانٹٹی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرتے، اور شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب وہ کسی نہ کسی ڈیم یا آبی منصوبے کا معائنہ نہ کرتے ہو۔ ان کی یہی لگن اور انتھک محنت بلوچستان میں پانی کے دیرینہ مسئلے پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
حال ہی میںچیف انجینئرو صوبائی کوآرڈینیٹر (واٹر سیکٹر) حکومت بلوچستان، انجینئر سمیع اللہ بلوچ نے بسول ڈیم پراجیکٹ کا دورہ کیا تاکہ سیلاب کی موجودہ صورتحال اور آبی ذخائر کی بھرائی کا جائزہ لیا جا سکے۔دورے کے دوران، انہوں نے ڈیم کے ڈھانچے کا ایک جامع معائنہ کیا، جس میں سپل وے، انٹیک ٹاور، گیٹس اور متعلقہ انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ تمام اجزائ ڈیزائن کے معیارات اور آپریشنل پروٹوکول کے مطابق تسلی بخش کام کرتے پائے گئے۔یہ دورہ خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سیلابی پانی کی پہلی بڑی آمد کامیابی کے ساتھ داخل ہوئی ہے اور پلگ لگانے کی سرگرمیوں کی تکمیل کے بعد اسے ذخیرہ کیا گیا ہے۔ آبی ذخائر اب اپنی ڈیزائن کردہ صلاحیت کے قریب ہے، اسپل وے کے اخراج کے آغاز سے پہلے صرف 1.4 میٹر باقی ہے۔
موجودہ صورتحال:موجودہ ذخیرہ: 30,000 ایکڑ فٹ،کل صلاحیت: 37,000 ایکڑ فٹ،انجینئر سمیع اللہ بلوچ نے پراجیکٹ ٹیم کی سرشار کاوشوں کو سراہا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ بسول ڈیم کی بھرائی خطے کے لیے ایک بڑی نعمت ہے، جس سے اورماڑہ ضلع گوادر اور گردونواح میں مقامی آبادیوں، زراعت اور آبی تحفظ کو خاطر خواہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔آبپاشی کا محکمہ موسمیاتی تغیرات کے خلاف لچک کو بڑھانے اور طویل مدتی پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے بلوچستان بھر میں پائیدار پانی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے پرعزم ہے ،چیف انجینئرو صوبائی کوآرڈینیٹر (واٹر سیکٹر) حکومت بلوچستان، انجینئر سمیع اللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہڈیموں کی تعمیر کسی بھی خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ڈیموں کی بدولت نہ صرف پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت میسر آتی ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات مختلف شعبوں پر نمایاں طور پر مرتب ہوتے ہیں۔ ڈیموں کی تعمیر سے ماہی گیری کو بھرپور فروغ حاصل ہوتا ہے کیونکہ ڈیموں میں پانی جمع ہونے کے بعد مچھلیوں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس سے مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور علاقے کی معیشت مستحکم ہوتی ہے۔ ماہی گیری سے وابستہ افراد کو مستقل آمدن حاصل ہوتی ہے جبکہ مچھلی کی پیداوار میں اضافے سے غذائی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
اس کے علاوہ ڈیموں کی تعمیر سے علاقے کے لوگوں کو بہترین تفریحی مقامات بھی میسر آتے ہیں۔ خوبصورت جھیلوں، پانی کے نظاروں اور قدرتی مناظر کی وجہ سے لوگ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے ان مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عوام کو صحت مند تفریح کے مواقع میسر آتے ہیں بلکہ سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوتا ہے۔ سیاحت کے فروغ سے مقامی سطح پر ہوٹلنگ، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے جس سے مقامی آبادی کے لیے مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
جہاں ڈیم تعمیر ہوتے ہیں وہاں ماحولیات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ڈیموں کی بدولت زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہوتی ہے جس سے اردگرد کے علاقوں میں شجرکاری اور جنگلات کو فروغ ملتا ہے۔ درختوں کی افزائش سے نہ صرف ماحول خوشگوار ہوتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف جنگلی جانوروں اور پرندوں کو پینے کے لیے پانی میسر آتا ہے جس سے قدرتی حیات کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ڈیموں کی تعمیر زراعت کے شعبے کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے۔ پانی کی دستیابی سے بنجر زمینیں آباد ہوتی ہیں اور کسانوں کو سال بھر آبپاشی کی سہولت میسر آتی ہے۔ اس سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور زرعی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ مزید برآں ڈیم سیلابی پانی کو ذخیرہ کر کے سیلاب کے خطرات کو کم کرتے ہیں، جس سے جانی و مالی نقصانات سے بچاو¿ ممکن ہوتا ہے۔اسی طرح ڈیموں کی تعمیر سے لائیو اسٹاک کے شعبے کو بھی فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ جانوروں کو پینے کے لیے وافر مقدار میں پانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس سے مویشی پالنے کے شعبے میں ترقی ہوتی ہے اور دیہی معیشت مستحکم ہوتی ہے۔ بعض ڈیموں سے پن بجلی پیدا کرنے کے مواقع بھی میسر آتے ہیں جو توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔جس سے علاقے کے عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی آتی ہے اور ترقی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔
چیف انجینئر وصوبائی کوآرڈینیٹر انجینئر سمیع اللہ بلوچ نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی ایک سینیئر سیاستدان ہیں انہوں نے ہر دور میں عوام کی فلاح بہبود کے لیے بہترین اقدامات اٹھائے ہیں اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پانی کی کمی کو دور کرنے اور زراعت کو فروغ دینے کے لیے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر جاری ہیں اور متعدد پا تکمیل تک پہنچ چکے ہیں جن سے زراعت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے بے روزگاری میں کمی واقع ہو رہی ہیں ان کی بہترین پالیسیوں کی بدولت محکمہ آبپاشی بلوچستان بلوچستان کی تعمیر ترقی میں اپنا مثبت اور اہم کردار ادا کر رہا ہے ان کی اجتماعی منصوبوں سے عوام مستفید ہو رہے ہیں
چیف انجینئر و صوبائی کوآرڈینیٹر انجینئر سمیع اللہ بلوچ نے سیکرٹری آبپاشی، سہیل الرحمن بلوچ، کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سینئر اور تجربہ کار بیوروکریٹ ہیں۔ ان کی موثر پالیسیوں اور قیادت کی بدولت پورے بلوچستان میں ڈیموں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے، جس سے عوام براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہیل الرحمن بلوچ ایک دیانت دار اور مخلص شخصیت کے حامل ہیں جو بلوچستان کی ترقی میں اپنا نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔، جس سے ترقیاتی منصوبے مو¿ثر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

چیف انجینئر و صوبائی کوآرڈینیٹر واٹر سیکٹر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us