Banner

شادی تیاری مشن

Share

Share This Post

or copy the link

شادی تیاری مشن
تحریر،ایم اسلم گدور ڈان

گزشتہ دنوں گھر میں معمول کے کاموں میں مصروف تھا کہ ایک ننھی سی قاصد بچی جلوہ گر ہوئی اور پیغام سنایا کہ فلاں گھر میں چند معزز خواتین نے مجھے لکھنے سے رلیٹڈ “ایک اہم مشن” کے لیے طلب فرمایا ہے۔ بندہ بھی حکم کی تعمیل میں فوراً روانہ ہوا سوچا شاید کوئی سنجیدہ ذمہ داری ہوگی مگر جا کر پتا چلا کہ معاملہ “شادی مشن کی تیاریوں کے بابت سے متعلقہ تیاریوں میں رائٹنگ کے حصے کی ضرورت” کا ہے! جب میں أس گھر کے مخصوص کمرے میں داخل ہوا تو یوں لگا جیسے رنگوں، خوشبوؤں اور روایتوں نے مل کر ایک چھوٹا سا میلہ لگا رکھا ہو۔ بلوچی ملبوسات، کڑھائی شدہ جوڑے، پرفیومز، گھڑیاں اور دیگر رلیٹڈ سامان اپنی اپنی جگہ سے تھوڑا سا ناراض ہوکر بے ترتیب رکھے تھے۔ زمین پر قدم رکھتے ہوئے بھی یوں احتیاط کرنی پڑ رہی تھی جیسے بارودی سرنگوں کے درمیان راستہ بنایا جا رہا ہو۔اب بندہ سوچ میں پڑ گیا کہ یہاں میری ڈیوٹی کیا ہے؟ پوچھنے پر ارشاد ہوا کہ “ان چند مخصوص دوپٹوں پر دلہن کی قریبی خواتین کے نام لکھنے ہیں”۔ میں نے دل ہی دل میں کہا کہ چلو، قلم پکڑنے کا موقع تو ملا ورنہ نظر تو کچھ اور ہی اشیاء بشمول خوشبؤوں سے لیس پرفیوم، راڑو گھڑی پر مرکوز تھی! ایک آنکھ دوپٹوں پر نام لکھنے میں مصروف تھی اور دوسری آنکھ پرفیوم، گھڑی اور دیگر قیمتی اشیاء پر ایسے گھوم رہی تھی جیسے کوئی سیکیورٹی کیمرہ موقع کی تلاش میں ہو۔ دل میں ایک خفیہ مشن بھی چل رہا تھا کہ شاید کوئی “یادگاری تحفہ” چوری چپکے جیب کی زینت بن جائے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ میں ایک اور وہ دس گیارہ خواتین! اوپر سے میرا ایک پاؤں پہلے ہی پولیو کے باعث ساتھ نہیں دیتا اگر خدانخواستہ پرفیوم یا گھڑی چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو ان خواتین کے مابین بھاگ کر نکلنا ایسا ہی ہوتا جیسے سورج کو انگلی سے چھپانے کی کوشش! اسی دوران ٹیم لیڈر کی نظر سے بچتے ہوئے میں نے ایک فنی وار کیا۔ کپڑوں پر لگے پانچ سو کے نوٹ کی طرف اشارہ کرکے عرض کیا: “یہ نوٹ کافی پرانا لگ رہا ہے، کپڑوں کی شان کے مطابق نہیں لگتا!” دل میں امید تھی کہ شاید یہ نوٹ میری محنت کا انعام بن جائے گا، مگر وہ بھی کیا زبردست پلٹ وار تھا نوٹ انہوں نے فوراً تبدیل کرکے خواتین ٹیم لیڈر نے اپنی جیب (گوپتان) میں ڈال لیا، اور نہ صرف یہ بلکہ اوپر سے میرا آخری پان بھی لے اُڑیں! یوں میرا مشن “نوٹ + پان” دونوں سے محروم ہوکر اختتام پذیر ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ خیر، عزت بچاتے ہوئے میں نے دیے گئے کام کو مکمل کیا، دوپٹوں پر خوبصورت انداز میں نام درج کیے۔ پھر جب دل نے چاہا کہ ان حسین بلوچی ڈریسز کی تصاویر لے کر دنیا کو دکھاؤں، تو فوراً سخت لہجے میں حکم آیا: “تصویر نہ لینا! نظر لگ جائے گی!” اب بندہ لیکچر سننے پر مجبور تھا، مگر دل کا فوٹوگرافر کہاں ماننے والا تھا خود نہ سہی البتہ ان خواتین کے ساتھ چھوٹی لڑکی (بطور ہیلپر أن کے ساتھ مدد کرنے والے لڑکی) کی مدد سے تمام کپڑوں کے نہیں بلکہ صرف چند کپڑوں کے تصاویر چپکے سے نکلوانا کامیاب ہوسکیں۔ آخرکار، حالات کو دیکھتے ہوئے اور پان کے صدمے کو دل میں دبائے، میں نے واپسی کو ہی بہتر سمجھا اور گھر آکر ان ڈریسز کے نام معلوم کرنے کا مرحلہ مکمل کیا۔
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف، کپڑوں کے یہ تمام تصاویر بمعہ سلائیوں کے نام شیئر کرنا ان محنتی، باصلاحیت اور ہنر مند خواتین کو خراج تحسین پیش کرنا مقصد ہے حقیقت یہ ہے کہ ان خوبصورت بلوچی ملبوسات کے پیچھے گھنٹوں نہیں بلکہ مہینوں اور بعض اوقات زیادہ محنت طلب شدہ کچھ جوڑوں کے اختتام کے پیچھے سال کی محنت، صبر اور محبت چھپی ہوتی ہے۔ ہر ٹانکہ ایک کہانی سناتا ہے، ہر ڈیزائن ایک روایت کی عکاسی کرتا ہے، اور ہر جوڑا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خواتین نہ صرف گھریلو ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتی ہیں بلکہ اپنی ثقافت اور ہنر کو بھی زندہ رکھتی ہیں۔ ایسی محنت اور فن کو صرف “واہ” کہہ کر نظر انداز کرنا ناانصافی ہوگی۔ یہ داد، یہ تعریف اور یہ عزت ان کا حق ہے۔ میری تمام فیس بک فرینڈز خاص طور پر خواتین یقیناً اس ہنر کو دیکھ کر نہ صرف خوش ہوں گی بلکہ امید ہے ان محنتی ہاتھوں کو سلام پیش کریں گی۔ اور بندہ آج بھی یہی سوچ رہا ہے کہ اگر اُس دن پانچ سو کا نوٹ اور آخری پان ہاتھ آ جاتا تو شاید اس “شادی تیاری مشن” کی کامیابی کا جشن کچھ اور ہی ہوتا! اور ہاں شکر ہے کہ اس متعلقہ گوٹھ میں ابھی تک کوئی “زیادہ پڑھا لکھا ڈیجیٹل ایجنٹ” موجود نہیں، ورنہ یہ پوسٹ دیکھتے ہی فوراً قاصد بن کر اطلاع پہنچا دیتا کہ “اسلم صاحب کپڑوں کی تصاویر لینے میں نہ صرف کامیاب ہوئے ہیں بلکہ اب فیس بک پر لائکس اور کمنٹس کی دوڑ میں بھی شریک ہیں!” دوسری طرف یہ بھی ایک مسلسل خدشہ موجود ہے کہ اگر کسی دن یہ راز فاش ہوگیا کہ کپڑوں کے تصاویر فیسبک کی اسکرین کی زینت بنے ہوئے ہیں تو شاید صرف ایک پان کی سزا نہ ملے بلکہ ممکن ہے موبائل ہی “تحفظ ثقافت” کے نام پر ضبط کر لیا جائے اور مجھے کہا جائے “اب آپ صرف کپڑے دیکھ سکتے ہیں، پوسٹ نہیں کر سکتے!” خداحافظ، اپنے قیمتی أراہ سے ضرور أگاہ کیجیے گا۔

شادی تیاری مشن

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us