Banner

عالمی ثالثی یا معاشی خودکشی؟

Share

Share This Post

or copy the link

عالمی ثالثی یا معاشی خودکشی؟

تحریر: محمد عبیدالله میرانی
صدر کورنگی پریس کلب کراچی

تاریخ کا پہیہ بھی عجب گردش میں رہتا ہے کل تک جو اسلام آباد عالمی دارالحکومتوں میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا اور جہاں سے گزرنے والی ہر ہوا “مزید کرو کا کڑوا پیغام لاتی تھی آج وہی شہر عالمی سیاست کی بساط پر ایک سفارتی معالج بن کر ابھر رہا ہے اپریل 2026 کے ان دنوں میں جب اسلام آباد میں پاک ایران اور امریکہ کے سہ فریقی مذاکرات کی میز سج چکی ہے تو یہ دیکھ کر دل کو ایک عجیب سی تسلی ہوتی ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی اسٹیج پر امن کے ضامن کا منصب سنبھال چکا ہے ماضی کی طرف نظر دوڑائیں تو جولائی 1971 کی وہ تاریخی رات یاد آتی ہے جب پاکستان نے ہنری کسنجر کے خفیہ دورہ بیجنگ کے لیے پل کا کردار ادا کر کے دنیا کی دو بڑی طاقتوں، امریکہ اور چین کے درمیان جمی دہائیوں پرانی برف پگھلائی تھی وہ پاکستان کی سفارت کاری کا عروج تھا جس نے عالمی سیاست کا رخ موڑ دیا تھا مگر المیہ یہ رہا کہ اس عظیم کامیابی کے ثمرات کبھی ہمارے عام آدمی کے دسترخوان تک نہ پہنچ سکے آج ایک بار پھر تاریخ خود کو دہرا رہی ہے مگر منظرنامہ انتہائی پیچیدہ اور نازک ہو چکا ہے آج کی سب سے بڑی اور تلخ خبر یہ ہے کہ اسلام آباد میں امریکی نائب صدر کے وفد کی موجودگی کے باوجود تہران نے مذاکرات کے اس دور میں بیٹھنے سے باضابطہ انکار کر دیا ہے ایران کے اس فیصلے کے پیچھے خلیج عمان میں ہونے والا وہ تازہ ترین بحری تصادم ہے جس میں امریکی بحریہ نے ایرانی مال بردار جہاز توسکا پر فائرنگ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے ایران نے اس کارروائی کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی میز الٹ دی ہے جس سے پاکستان کی امن کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے تضاد کی انتہا دیکھیے ایک طرف ایشیائی ترقیاتی بینک اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح ساڑھے تین فیصد تک پہنچنے کی نوید سنا رہا ہے مگر دوسری طرف ملک کے اندر ساڑھے چار ہزار میگاواٹ سے زائد کی بجلی کی کمی اور تین کھرب روپے سے تجاوز کر جانے والا گردشی قرضہ عوام کا جینا دو بھر کیے ہوئے ہے تضاد یہ بھی ہے کہ ایک طرف ہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان روشن سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن کے تمغے سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دوسری طرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے باعث ہمارے اپنے عوام پر مہنگائی کا نیا بم گرنے والا ہے میرا قلم یہ پوچھنے پر مجبور ہے کہ کیا اس بار بھی ہم صرف ایک اچھے میزبان کا تصدیق نامہ لے کر ہی خوش ہو جائیں گے اس صورتحال کا اصل حل یہ ہے کہ پاکستان اب محض دوسروں کی آگ بجھانے والے کے بجائے اپنی اس سفارتی طاقت کو معاشی سودے بازی کے ہتھیار میں ڈھالے ہمیں اس میز پر بیٹھ کر صرف صلح نہیں کروانی چاہیے بلکہ اپنے معاشی مفادات کا تحفظ بھی کرنا چاہیے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ ایران کے ساتھ برسوں سے لٹکے ہوئے گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے امریکی پابندیوں سے خصوصی چھوٹ حاصل کی جائے اور اٹھارہ ارب ڈالر کے ممکنہ جرمانے سے بچ کر سستی توانائی کا مستقل بندوبست کیا جائے اگر ہم دنیا کو بڑی جنگ سے بچانے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو ہمیں اپنے عوام کو مہنگی بجلی اور ایندھن کے عذاب سے بچانے کی ہمت بھی دکھانی ہوگی جب تک سفارتی کامیابیوں کا ثمر غریب کے بجلی کے بل اور آٹے کے تھیلے میں ریلیف کی صورت میں نظر نہیں آئے گا تب تک ایسی تمام فتوحات صرف اخباری سرخیوں کی زینت ہی بنی رہیں گی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ تالیاں بجانے کے لیے ہاتھ دوسروں کے بھی مل جاتے ہیں مگر اپنا گھر روشن کرنے کے لیے چراغ خود ہی جلانا پڑتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے حکمران اس عالمی واہ واہ سے صرف دنیا کا دل جیتتے ہیں یا اس بار اپنے عوام کا مقدر بدلنے کی جرات بھی کرتے ہیں

عالمی ثالثی یا معاشی خودکشی؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us