Banner

بحرانِ پاکستان ۔ پشتون قوم اور جذباتی تصادم سے ہوش مندی کے سفر تک

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

بحرانِ پاکستان ۔ پشتون قوم اور جذباتی تصادم سے ہوش مندی کے سفر تک

محترم قارئین ۔ ہم لوگ اتنے بدنصیب ہیں کہ ہمارے انتہائی قابل احترام دوست واقرباء اور انتہائی تجربہ کار لوگ روزانہ سوشل میڈیاء پر اپنوں کے ساتھ دست و گریبان ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو بے عزت کرنے، طعنے دینے اور ناراض ہونے کی بجائے حالات کی گہرائی کو ناپنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے پیچھے اصل عوامل کیا ہیں، نہ کہ صرف سلیپر سیل جیسے انڈیاء وغیرہ پر تکیہ کیا جائے۔ میں خلوص اور ایمانداری سے یہ بات کرتا ہوں کہ پاکستان کا، اللہ نہ کرے، کچھ بھی برا ہوا تو اس میں سب سے زیادہ نقصان پشتونوں کا ہوگا۔ لیکن بہت افسوس سے مجھے کہنا پڑ رہا ہے کہ اب بھی سب سے زیادہ نقصان پشتونوں کو ہوا اور ہو رہا ہے؛ ان کو ہر روز ٹیررازم کا لیبل لگا کر مارا جا رہا ہے۔ اگر خدانخواستہ ملک کا کچھ بھی برا ہوا تو فوج سے لے کر سیاستدان، سول بیوروکریٹ اور ہر وہ پاکستانی جو اپنے ملک کو بچانے کی استطاعت رکھتا ہے، اسے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایسے ایک دوسرے کو گالی اور گولی دینے سے حالات نہ پہلے سدھرے تھے اور نہ اب سدھریں گے۔ ریاست رعایا کا محافظ ہوتی ہے نہ کہ مدمقابل، اور ریاست کو چاہیے کہ حالات جہاں سے بگڑے ہیں، وہیں سے صحیح تشخیص کے بعد علاج شروع کرے۔پشتونوں کو میری رائے ہے کہ ذرا اپنی صفوں میں غور سے دیکھیں اور جو آزمودہ کارتوس پشتونوں کو وقتاً فوقتاً دھکا دیتے رہے ہیں، قوم ان کو اپنی صفوں سے نکال باہر کرے۔ دونوں جانب جو لوگ نقصان دہ ہوئے ہیں ان کی دادرسی کی جائے، نہ کہ اور لوگوں کو یہ موقع دیا جائے کہ ریاست ظلم و زبردستی کر رہی ہے۔ تیسری بات سب غور سے سنو؛ اگر اوپر والی دونوں باتیں قابلِ عمل نہیں تو دونوں فریقین کسی تیسرے فریق کا ایجنڈا مکمل کر رہے ہیں۔ اب تک اپنے کرتوتوں سے ہم نے جو کھویا ہے اس کا ادراک کریں، ورنہ آنے والا وقت انتہائی بھیانک ہوگا، خاص کر پشتونوں کے لیے، اور پاکستان میں پشتونوں کی حالت افغانستان سے بدتر ہوگی جو ملک کے لیے بھی ازحد مہلک ہوگا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر فریق کی ہٹ دھرمی ایسی ہے کہ ان کی خواہش کے مطابق اگر آپ مشورہ نہیں دیں گے تو ان کے قانون میں آپ غدار ہیں، اس لیے ہمارے روشن فکر لوگ مشورہ نہیں دے سکتے جو کہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ اس لیے میں ہر فریق سے درخواست کرتا ہوں کہ جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لیں۔

بحرانِ پاکستان ۔ پشتون قوم اور جذباتی تصادم سے ہوش مندی کے سفر تک

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us