Banner

امام بخاریؒ ۔ جلاوطنی کے سائے میں سفرِ آخرت

Share

Share This Post

or copy the link

قارئین کرام ۔امام بخاریؒ کی حیاتِ مبارکہ کا آخری باب علمی وقار، استقامت اور صبر و رضاء کی ایک ایسی داستان ہے جو دلوں کو تڑپا دیتی ہے۔ آپؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں مشرقی اسلامی دنیا کے بعض حکمرانوں کی طرف سے شدید آزمائشوں اور مخالفت کا سامنا کیا، خاص طور پر نیشاپور، بخارا اور سمرقند میں۔ اس کی چند اہم وجوہات یہ تھیں کہ انہوں نے حکمرانوں کے بچوں کو محلات میں جا کر تعلیم دینے سے انکار کیا تھا۔ آپؒ عزیمت کے پہاڑ تھے اور برملا فرماتے تھے کہ “علم کے پاس آیا جاتا ہے، اسے دروازوں تک نہیں لے جایا جاتا۔” اس اصول پسندی کے ساتھ ساتھ بعض حاسدین کو آپؒ کی عالمی شہرت اور علمی مقام سے شدید حسد بھی تھا، جبکہ اس مخالفت کے پیچھے اور بھی کئی اسباب کارفرما تھے۔ جب امام بخاریؒ کی عمر 62 سال کو پہنچی تو نیشاپور کے حاکم کی طرف سے حکم آیا کہ وہ شہر چھوڑ دیں کیونکہ اب وہ وہاں مطلوب نہیں رہے۔ چنانچہ آپؒ وہاں سے نکل کر اپنے آبائی شہر بخارا پہنچے، جہاں لوگوں نے آپؒ کا شاندار استقبال کیا، دروازوں پر پلکیں بچھائیں، آپؒ پر سکے اور مٹھائیاں نچھاور کیں، اور جید طلبہ و محدثین آپؒ کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہوگئے۔ اس والہانہ عقیدت کی وجہ سے دوسرے علماء کی مجالس سنسان ہونے لگیں، جس سے حاسدین کے دلوں میں بغض کی آگ مزید بھڑک اٹھی۔جلد ہی بخارا کے حاکم کو بھی آپؒ کی یہ بے پناہ مقبولیت ناگوار گزری اور نیشاپور کے حاکم کی طرف سے بھی دباؤ ڈالا گیا کہ امام کو بخارا سے بھی نکال دیا جائے۔ چنانچہ حاکم کا نمائندہ امام بخاریؒ کے گھر پہنچا اور فوراً شہر چھوڑنے کا سنگدلانہ حکم سنایا۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ آپؒ کو اپنی متاعِ جاں یعنی اپنی کتابیں جمع کرنے اور ترتیب دینے کی مہلت بھی نہ دی گئی۔ آپؒ شہر سے باہر نکل کر تین دن تک ایک خیمے میں مقیم رہے، اپنی کتابوں کو سنبھالتے رہے اور اس سوچ میں غلطاں رہے کہ اب کہاں کا رخ کیا جائے۔ پھر آپؒ سمرقند کی طرف روانہ ہوئے، مگر شہر میں داخل ہونے کے بجائے ایک قریبی گاؤں “خرتنگ” میں اپنے رشتہ داروں کے پاس قیام فرمایا، جہاں ابراہیم بن معقل بھی آپؒ کے ہمراہ تھے۔ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ سمرقند کے حاکم کے سپاہی وہاں بھی آپہنچے اور حکم دیا کہ امام فوراً اس علاقے کو بھی چھوڑ دیں؛ یہ رات عید الفطر کی تھی۔ حاکم کا حکم اتنا سخت تھا کہ آپؒ کو عید کے بعد نہیں بلکہ “ابھی” نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ امام بخاریؒ نے یہ سوچ کر کہ کہیں ان کے میزبان رشتہ داروں کو کوئی نقصان نہ پہنچے، فوراً رختِ سفر باندھنے کا فیصلہ کیا۔ابراہیم بن معقل نے ایک جانور پر آپؒ کی کتابیں لادیں اور دوسرے کو سواری کے لیے تیار کیا، پھر وہ امام بخاریؒ کو سہارا دے کر خیمے سے باہر لانے لگے۔ جب وہ بمشکل 20 قدم چلے تھے کہ امام بخاریؒ کو شدید نقاہت اور تھکن محسوس ہوئی۔ آپؒ نے نحیف آواز میں کہا کہ کچھ دیر آرام کرنا چاہتے ہیں۔ آپؒ راستے کے کنارے بیٹھ گئے، پھر تھکاوٹ کے باعث لیٹ گئے اور آنکھ لگ گئی۔ چند ہی لمحوں بعد جب ابراہیم بن معقل نے آپؒ کو جگانے کی کوشش کی تو دیکھا کہ امام بخاریؒ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر کے اپنے رب کے پاس جا چکی ہے۔ یوں امام بخاریؒ نے یکم شوال 256 ہجری، عید الفطر کی رات، 62 سال کی عمر میں اس حال میں وفات پائی کہ وہ ایک شہر سے دوسرے اور پھر تیسرے شہر سے بے دخل کیے جا چکے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج ان جابر حکمرانوں کے نام و نشان مٹ چکے ہیں، مگر امام بخاریؒ کا نام کائنات کے ذرے ذرے میں گونج رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ امام بخاریؒ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور انہیں انبیاء، شہداء اور صالحین کے ساتھ بلند درجات عطا فرمائے۔ آمین۔

امام بخاریؒ ۔ جلاوطنی کے سائے میں سفرِ آخرت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us