Banner

بلوچستان لینگویجز بِلّ: حقائق اور خدشات

featured
Share

Share This Post

or copy the link

بلوچستان لینگویجز بِلّ: حقائق اور خدشات
ڈاکٹر طاہر حکیم بلوچ

بلوچستان صوبائی کابینہ نے اپنے حالیہ اجلاس میں محکمہ تعلیم کی جانب سے پیش کردہ ایجنڈا آٹم نمبر آٹھ کے تحت بلوچستان ریجنل لینگویجز، اکیڈیمیز اینڈ لٹریری سوسائیٹیز بل 2025کی منظوری دے دی ہے جس کے مطابق بلوچی، براہوی، پشتو اور ہزارگی سے تعلق رکھنے والے تمام ادبی اداروں اور تحقیقی اکیڈیمیوں کی موجودہ ہئیت اور تنظیمی ڈھانچے کو ختم کر کے ان کی مالی، انتظامی اور اداراجاتی معاملات اور سرگرمیوں کو بورڈ آف گورنر کے تحت چلایا جائے گا۔ یعنی ان کی موجودہ آزادانہ حیثیت اور خود مختاری کو ختم کرکے انہیں محکمہ ثقافت کے ذیلی ادارے کی حیثیت دی جائے گی جو بطور سرکاری ادبی ادارے کے کام کرینگے اس لیے اس حکومتی بل پر متعلقہ زبانوں کے تمام ادبی اداروں اور اکیڈیمیوں جن میں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ، براہوئی اکیڈمی، پشتو اکیڈمی ، ہزارگی اکیڈمی سمیت بلوچستان اکیڈمی تربت، عزت اکیڈمی پنجگور و دیگر نے نہ صرف شدید تحفظات کا اظہار کر دیا ہے بلکہ اسے مسترد کر کے حکومت سے یہ بل واپس لینے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ فی الحال یہ حکومتی منصوبہ ایک بل کی صورت میں ہے جس کی مزید قانونی حیثیت کاتعین صوبائی اسمبلی کی منظوری سے ہو گا۔ چونکہ بلوچستان اسمبلی میں سر فراز بگٹی کی سربرائی میں قائم پیلپز پارٹی کی مخلوط حکومت کواکثریت حاصل ہے یا اسے بزور طاقت یہ اکثریت دلوائی گئی ہے لہٰذا حکومت کو وہاں اس بل کو پاس کروانے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔

چونکہ موجودہ صوبائی حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کا ہی تسلسل ہے اس لیے جب سے یہ حکومت بر سر اقتدار آئی ہے تب سے اس نے زندگی کے مختلف شعبوں سمیت زبان و ادب، کلچر، تعلیم اور خصوصا اعلیٰ تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی انتہائی آمرانہ روئیہ اور سخت گیری کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ اس سے قبل بلوچستان کے جامعیات میں ان زبانوں کے شعبہ ہائے جات کو غیر پیداواری ادارے قرار دے کر انہیں بند کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ پھر ان زبانوں کے اداروں اور اکیڈیمیوں پر ایک بھر پور معاشی حملہ کر کے ان کے سالانہ گرانٹ پر ایک بہت بڑی کٹ لگائی گئی تا کہ وہ مالی طور پر اپاہج ہوسکیں۔ اب ان کی آزادانہ حیثیت اور اداراجاتی شناخت اور خود مختاری پر شب خون مارنے کی بھر پور تیاریاں کی جارہی ہیں قبل ازیں اسی طرح کا ایک حملہ بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں پر کی گئی ہے جس کے نتیجے میں بلوچستان کے تمام پبلک سکیٹر جامعیات کی خودمختاری کو سلب کرکےتمام فیصلہ ساز اداروں میں صوبائی بیوروکریسی اور صوبائی حکومت کی مکمل برتری اور بالادستی قائم کی گئی ہے وائس چانسلر صاحبان کو سول سکریٹریٹ کے ایک سترہ گریڈ کے سرکاری بابو (سیشن آفیسر)کے ما تحت کر دیا گیا ہے جس سے جامعیات کی تحقیقی، تعلیمی اور علمی معیار روز بروز گرتا چلا جا رہا ہے ہر مہینے کی تنخواہوں کے لیے صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کی منّت سماجت کرنی پڑتی ہے دوسری طرف یونیورسٹی اساتذہ کرام کے تنخواہوں پر ایک بہت بڑی کٹوتی کردی گئی ہے تحقیق کی مد میں انہیں ملنے والی ٹیکس ریبٹ اور الاؤنسز کو ختم کردیا گیا ہے۔ اس لیے اب بلوچستان میں جامعیات کے اساتذہ کا رجحان درس و تدریس کی مقدس پیشے کی بجائے محکمہ ریونیو میں نائب تحصیلدار اور پٹواریوں کی نوکریوں کے حصول کی طرف زیادہ ہے اور وہ ان امتحانات میں کثیر تعداد میں شریک ہو رہے ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے، چونکہ حکومت علم، ادب، تنقید اور شعور سے ڈرتی ہے اس لیے وہ ہر اس آواز کو دبانا چاہتی ہے جو شعور دیتی ہے اور سوال پوچھنے کی صلاحیت پیداکرتی ہے اس لیے وہ اس طرح کے
نوآبادیاتی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔

زبانیں صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ اور تہذیب کی علامت ہوتی ہیں یہ قوموں کی شناخت اور ثقافتی تشخص کا اظہار کرتی ہیں۔ ہر زبان کا اپنا لوک ادب اور ورلڈ ویو ہوتی ہے کسی ایک زبان کو ختم کرنے کا مطلب ایک پوری انسانی تاریخ اور تہذیب کو ختم کرنے کا مترادف ہے۔ سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ صوبائی حکومت کا روئیہ بھی قومی زبانوں بلوچی اور براہوئی کے بارے میں انتہائی مخاصمانہ ہے ان کے لیے قومی زبان کی بجائے علاقائی زبان کا گمراہ کن اور بے معنی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ اگر صوبائی حکومت کو ان زبانوں سے محبت اور ہمدردی ہوتی تو وہ سب سے پہلے ان زبانوں کی پرائمری سطح تک درس و تدریس کے عمل کو دو بارہ بحال کرواتی جو بیوروکریسی کی عدم تعاون کی وجہ سے دو ہزار پندرہ سے تعطل کا شکار ہے۔ یا ان زبانون کی ترقی و تریج کے لیے کالجوں اور اسکولوں میں نئی آسامیاں تخلیق کرتے جس سے ان زبانوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والےبے روزگار نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع مل جاتے اور ان قومی زبانوں کی ترقی ہوتی لیکن حکومت تعمیری کام کی بجائے حملہ آور ہو رہی ہے۔ دوسری طرف حکومت کی مالی معاونت اور گرانٹ کا طریقہ کار بھی انتہائی غیر منصفانہ اور غیر مساوی ہے۔ ہزارگی زبان جو بلوچستان میں ایک چھوٹی سی اقلیت کی زبان ہے جس کا حلقہ انتخاب بمشکل ایک صوبائی اسمبلی کی نشت پر مشتمل ہو۔ اس اکیڈمی کو سالانہ پانچ کروڑ روپے کی گرانٹ دی جاتی ہے جس کے پاس اپنا بنک اکاؤنٹ، آفیس اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تک موجود نہیں جبکہ دوسری طرف بلوچستان اکیڈمی تربت، عزت اکیڈمی پنجگور، سید ہاشمی اکیڈمی گوادر، اوتاک مکران، بلوچی زند اکیڈمی نوشکی، سید ریفرنس لائبریری جو بلوچی زبان و ادب کے معتبر اور مستند ادارے ہیں۔ ادب ،پبلی کیشنزاور تحقیقی سرگرمیوں کے حوالے سے ان کا ایک نمایاں کردارہے لیکن ان میں سوائے بلوچستان اکیڈمی تربت کے باقی کسی کی بھی مالی معاونت نہیں کی جاتی۔ واضح رہے اب بلوچستان اکیڈمی تربت کے بھی سالانہ گرانٹ کو ایک کروڑ سے کم کر کے دس لاکھ روپے کردی گئی ہے یہ عمل حکومتی ناانصافی اور امتیازی پالیسیوں کو بخوبی آ شکار کرتی ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ مزکورہ بالا اکیڈمیوں میں کئی ایک اندرونی پیچیدگیاں اور خامیاں موجود ہیں۔ خاص کر بلوچی اکیڈمی کوئٹہ جو خود کو ایک قومی ادارہ قرار دیتی ہے۔ لیکن وہ عملا اس کردار سے عاری ہے۔ اور ایک مخصوص حلقہ کی اکیڈمی ہے۔ جو گزشتہ تین دہائیوں سے اس پر قابض ہے اس لیے بلوچ انٹیلی جنشیا کی طرف سے اسے سخت تنقید کا سامنا ہے ویسے ہی اگر اکیڈمی کی قیادت، طرزِ عمل اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب صورت حال سامنے آتی ہے۔ بلوچی زبان کے جتنے بھی بڑے اورسینئر ادیب، شاعر، محقق یا جامعیات میں بلوچی زبان کے اساتذہ ہیں ان کے لیےاکیڈمی کے دروازے بند کر دیئے گئے جبکہ چند ایک کو انہیں بلاوجہ اور جبرا اکیڈمی سے فارغ کر دیا گیا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج اس اکیڈمی کی قیادت بلوچی زبان کے تجربہ کار اورکُہنہ مشق ادیب و دانشورجیسے منیر احمد بادینی، ڈاکٹر شاہ محمد مری، ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی، ڈاکٹر علی دوست، پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ یا ڈاکٹر اے آر داد اور ڈاکٹر رحیم مہر کے پاس ہونی چاہیے تھی لیکن اجارہ داری کی ذہنیت نے ان تجربہ کار ادیبوں اور دانشوروں کو قیادت کےمواقع دینا تو اپنی جگہ انہیں اکیڈمی کی رکنیت سے بھی فارغ کردیا گیا ہے، تا کہ اکیڈمی کو آسانی سے کنٹرول کیا جا سکے، اس لیے یہ ادارہ اس وقت شخصی اور گروئی مفادات کا منبع بنا ہوا ہے۔

بنابریں ایک بہت بڑا حلقہ ان اکیڈمیوں خاص کر بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کو سرکاری تحویل میں لینے سے خوشی کا اظہار کر رہی ہے ان کی خواہش ہے کہ یہ اکیڈمی سرکاری تحویل میں چلائے جائے کیونکہ اس کا روئیہ اور طرزِ عمل جمہوری اور علمی نہ ہے۔ لیکن ان تمام اندرونی معاملات اور خامیوں کے باوجود ان تمام ادبی اداروں اور اکیڈمیوں کی آزادانہ حیثیت کا برقرار رہنا زبان و ادب، تخلیق و تحقیق کے لیے انتہائی ضروری ہے یہ ادارے ایک آزادانہ ماحول میں اپنے علمی، ادبی اور تحقیقی امور کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکتے ہیں، سرکاری تحویل اور بیوروکریٹک کنٹرول سے ان زبانوں کی لسانی، ادبی، فکری اور تحقیقی سرگرمیوں کو ایک بہت بڑا دھچکا لگے گا۔ اور خدشہ ہے کہ حکومت ان ادبی اداروں کو اپنے سرکاری پروپیگنڈہ اور بیانیہ کے لیے استعمال نہ کرے۔ جس سے ان کی فطری افادیت اور تحقیقی جوہر ختم ہوکہ رہ جائے گی۔ ویسے ہی حکومت اپنے ہی سرکاری اداروں کو سنھبال نہیں سکتی جس کی واضح مثال تعلیم، صحت اور پبلک سروسز کے دوسرے ادارے ہیں جن کی کارکردگی سے خود حکومت خوش اور مطمئن نہیں ہے۔ اور انہیں پبلک پرایئویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور مستقل بنیادوں پر ملازمتیں دینے کی بجائے کنٹریکٹ کی بنیادوں پر تقرریاں کرا رہی ہے، تو ایسی صورتحال میں ان قومی ادبی اداروں کو سرکاری تحویل میں لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بیوروکریسی تو پہلے سے ہی ان قومی زبانوں کی شدید مخالف ہے انہیں انتہائی حقارت کی نظروں سے دیکھتی ہے لیکن ان انگریزی دان نوآبادیاتی ،سرکاری بابوؤں کو پتہ نہیں کہ زبانیں قوموں کی ریڈ لائنز ہوتی ہیں ان کی زندگی اور موت ، پہچان اور شناخت انہی سے جڑی ہوئی ہوتی ہے ان کی تہذیبی، ثقافتی اور فکری سر چشمے انہی سے ہی پھوٹتی ہیں۔ان ادبی اداروں اور اکیڈمیوں کے لیے لوگوں نے جد و جہد کی ہے، قربانیاں دی ہیں اپنی مدد آپ کے تحت انہیں اس حالت تک پہنچایا ہے ۔حاجی عبدالقیوم بلوچ جیسی نابغہ روزگار شخصیت بلوچی اکیڈمی کے لیے پابند سلاسل رہے ہیں۔ اذّیتیں کاٹی ہیں۔ لہٰذا حکومت کو یہ حق قطعا حاصل نہیں کہ وہ انفرادی کوششوں سے قائم ہونے والی ان تاریخی، ادبی اور تحقیقی اداروں کی
آزادانہ حیثیت کو بیک جنبش قلم ختم کردے اور انہیں سول بیوروکریسی کے دائرہ اختیار میں لائے۔

اگر حکومت کا من نہیں مانتی تو وہ بیشک اپنے لیے ایک الگ ادبی ادارہ تشکیل دے یا ان کے لیے کےکم ازکم پی کے ماڑل کو اپنائے جہاں پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کے زیر انتظام چلائی جا رہی ہے، اسی ماڑل کو یہاں اپناتے ہوتے ان تمام زبانوں کے اداروں کو جامعیات کے متعقلہ زبانوں کے شعبہ جات کے زیر انتظام چلایا جائے اور حکومت ان اداروں کی الگ سے یونیورسٹیوں کو مالی معاونت فراہم کرے۔ لیکن سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کی موجودہ آزادانہ حیثیت اور خود مختاری کو بر قرار رکھا جائے البتہ ان کے جتنے بھی اندرونی معاملات ہیں ان کی چیک اینڈ بیلنس کے لیے ایک مضبوط اور مربوط مکینزم بنایا

بلوچستان لینگویجز بِلّ: حقائق اور خدشات

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us