Banner

ایران ۔ ماضی کے متنازع اتحاد اور آج ان کے نتائج

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام ۔تاریخی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور فرقہ وارانہ کشمکش کا مطالعہ کیا جائے تو ایران (صفوی عہد سے لے کر موجودہ دور تک) کی خارجہ پالیسی میں “سیاسی بقاء” اور “علاقائی اثر و رسوخ” کو ہمیشہ اخلاقیات پر ترجیح دی گئی ہے۔ خلافتِ عباسیہ کے زوال (1258ء) میں اہل تشیع، بالخصوص نصیر الدین طوسی اور وزیر ابن العلقمی کا کردار ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے۔ جب منگول ہلاکو خان نے بغداد کا رخ کیا تو ابن العلقمی نے مبینہ طور پر عباسی فوج کو کمزور کیا اور ہلاکو خان کو بغداد پر حملے کی ترغیب دی تاکہ ایک نئے سیاسی سیٹ اپ میں شیعہ اثر و رسوخ قائم ہو سکے۔ اس اتحاد کے نتیجے میں بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور لاکھوں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا، جس نے عالمِ اسلام کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔ اسی طرح سولہویں صدی میں جب سلطنتِ عثمانیہ عالمِ اسلام کی واحد بڑی طاقت کے طور پر ابھری تو ایران کے صفوی حکمرانوں نے عثمانیوں کو کمزور کرنے کے لیے یورپی طاقتوں، بالخصوص پرتگال کے بادشاہ مینوئل اول کے ساتھ خفیہ مراسلت اور اتحاد کی کوششیں کیں۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ شاہ اسماعیل صفوی نے پرتگالیوں کو بحیرہ عرب اور خلیج فارس میں اڈے فراہم کرنے کی پیشکش کی تاکہ عثمانی بحریہ کا راستہ روکا جا سکے، حالانکہ پرتگالی مینوئل کے عزائم میں مکہ اور مدینہ پر حملے اور خانہ کعبہ کی بے حرمتی کے ناپاک منصوبے شامل تھے۔ یہ اس پالیسی کا حصہ تھا جہاں “دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے” کے تحت مذہبی تقدس کو سیاسی مفاد پر قربان کیا گیا۔
جدید دور میں یہ سلسلہ صدام حسین کے دورِ اقتدار کے خاتمے کے دوران ایک بار پھر نظر آیا۔ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے وقت ایران نے “تزویراتی خاموشی” اختیار کی اور عراق کے اندر موجود اپنے ہمنوا گروہوں کے ذریعے امریکیوں کو انٹیلیجنس اور لاجسٹک مدد فراہم کی۔ عراق میں بعث پارٹی (سنی قیادت) کے خاتمے کے بعد ایران نے وہاں سیاسی خلا کو پر کیا اور امریکی سرپرستی میں بننے والی حکومتوں میں اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کیا، جس کے بعد عراق میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر سنیوں کی ٹارگٹ کلنگ اور جبری بے دخلی کے ہولناک واقعات سامنے آئے۔ شام کے بحران (2011ء) میں یہ پالیسی اپنے عروج پر پہنچی۔ جب صدر بشار الاسد کی حکومت گرنے کے قریب تھی تو ایران نے نہ صرف اپنی قدس فورس اور حزب اللہ کو وہاں جھونک دیا بلکہ روس کو شام میں مداخلت کی دعوت دی۔ روسی فضائیہ اور ایرانی زمینی دستوں کے گٹھ جوڑ نے شام کے سنی اکثریتی شہروں (حلب، ادلب، حمص) کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور کروڑوں ہجرت پر مجبور ہوئے، جسے کئی مبصرین نے “منظم نسل کشی” قرار دیا۔ایران کے ان تمام تاریخی اقدامات کے پیچھے چند مخصوص اہداف رہے ہیں: پہلا ہدف “ولایتِ فقیہ” کے نظریے کے تحت ایک “شیعہ ہلال” (Shia Crescent) کی تشکیل ہے جو تہران سے بیروت تک پھیلا ہوا ہو۔ دوسرا ہدف علاقائی سطح پر سنی طاقتوں (عثمانیہ سے لے کر موجودہ سعودی عرب تک) کے اثر کو ختم کرنا ہے۔ تیسرا ہدف اپنی بقاء کے لیے عالمی طاقتوں (منگول، پرتگالی، امریکی، روسی) کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ تاہم، تاریخ کا پہیہ اب گھوم چکا ہے اور ایران خود انہی مشکلات کا شکار ہے جو اس نے دوسروں کے لیے پیدا کیں۔ روس کے ساتھ اتحاد اب ایران کو یوکرین جنگ کی دلدل میں گھسیٹ رہا ہے، جہاں اسے مغربی پابندیوں کا شدید سامنا ہے۔ عراق اور شام میں جن گروہوں کو ایران نے مسلح کیا، وہ اب ایران کے لیے معاشی بوجھ بن چکے ہیں اور وہاں کی مقامی آبادی میں ایرانی مداخلت کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایران کی اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اور وہ عالمی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو طاقتیں غیر ملکی بیساکھیوں اور فرقہ وارانہ خونی اتحادوں پر بھروسہ کرتی ہیں، وہ آخر کار اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کاٹتی ہیں۔ ایران کا موجودہ معاشی بحران، داخلی بے چینی اور سرحدی عدم استحکام اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ ماضی کی “تاریخی غلطیاں” اب ایک بھیانک خواب بن کر اس کے سامنے کھڑی ہیں.

ایران ۔ ماضی کے متنازع اتحاد اور آج ان کے نتائج

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us