Banner

معیشت اور مہنگائی

featured
Share

Share This Post

or copy the link

معیشت اور مہنگائی
تحریر،انیسہ عامر

معیشت محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا یا منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی تہذیب کے اس مادی ڈھانچے کی عکاسی ہے جس پر ہماری بقا کا دارومدار ہے۔ آج کے دور میں جب ہم مہنگائی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، تو دراصل ہم اس نفسیاتی اور وجودی شکست و ریخت کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں جو ایک عام انسان کو روزِ اول سے درپیش ہے۔ مہنگائی صرف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہیں، بلکہ انسانی محنت کی تذلیل اور اس کے خوابوں کی ارزانی ہے۔
میرے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معیشت کی بے ہنگم لہریں انسانی انا اور اس کی بنیادی ضروریات کے درمیان ایک مستقل خلیج پیدا کر رہی ہیں۔ جب بازار کی ہوس ضرورت کے تقدس کو پامال کر دیتی ہے، تو معاشرہ صرف طبقاتی کشمکش کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کے اخلاقی ستون بھی لرزنے لگتے ہیں۔ مہنگائی کا سب سے گہرا زخم معدے پر نہیں بلکہ ضمیر اور وقار پر لگتا ہے۔ جب دسترخوان مختصر ہوتے ہیں، تو فکر کے زاویے بھی محدود ہو جاتے ہیں اور انسان محض ایک ‘معاشی حیوان’ بن کر رہ جاتا ہے جس کی تمام تر تگ و دو بقا کی پست سطح تک سمٹ آتی ہے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی کے سراب میں قیمت کو تو پہچان لیا، مگر قدر کو فراموش کر بیٹھے۔ معیشت کا جبر جب حد سے بڑھتا ہے، تو وہ معاشرے سے تخلیق، برداشت اور محبت جیسے لطیف جذبات چھین لیتا ہے۔ مہنگائی کے اس طوفان میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معیشت کو مابعد الطبیعیاتی اور انسانی تناظر میں دوبارہ ترتیب دیں۔ جب تک نظام کی بنیادیں عدل اور انسانی فلاح پر استوار نہیں ہوں گی، اعداد و شمار کی یہ جادوگری انسانیت کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکے گی۔
حقیقی معاشی استحکام وہ نہیں جو چند تجوریوں میں قید ہو، بلکہ وہ ہے جو ایک عام فرد کے ماتھے سے فکر کی لکیریں مٹا کر اسے جینے کا حوصلہ عطا کرے۔

معیشت اور مہنگائی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us