Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
زیارت کراس پر ٹول پلازہ قائم، ٹرانسپورٹرز سے ٹیکس وصولی شروعکوئٹہ میں بھکاریوں کی آڑ میں جرائم کی شکایات، شہریوں میں تشویشحبیب اللہ عارف کو کمشنر مردان ڈویژن چارج سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینمعروف پاکستانی کاروباری شخصیت عبد الرسول بھٹی پی ایف یو جے ملائشیا چیپٹر کے چیئرمین منتخبتربت: مرکزی انجمن تاجران کیچ رجسٹرڈ کا جنرل باڈی اجلاس، بارڈر مسائل پر تشویشسیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئےوڈھ میں مسلح افراد کا کیمپ پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحقمرکزِ اسلام کا حیران کن تاریخی سوانحادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگنئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوالزیارت کراس پر ٹول پلازہ قائم، ٹرانسپورٹرز سے ٹیکس وصولی شروعکوئٹہ میں بھکاریوں کی آڑ میں جرائم کی شکایات، شہریوں میں تشویشحبیب اللہ عارف کو کمشنر مردان ڈویژن چارج سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینمعروف پاکستانی کاروباری شخصیت عبد الرسول بھٹی پی ایف یو جے ملائشیا چیپٹر کے چیئرمین منتخبتربت: مرکزی انجمن تاجران کیچ رجسٹرڈ کا جنرل باڈی اجلاس، بارڈر مسائل پر تشویشسیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئےوڈھ میں مسلح افراد کا کیمپ پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحقمرکزِ اسلام کا حیران کن تاریخی سوانحادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگنئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوال

معیشت اور مہنگائی

معیشت اور مہنگائی
تحریر،انیسہ عامر

معیشت محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا یا منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی تہذیب کے اس مادی ڈھانچے کی عکاسی ہے جس پر ہماری بقا کا دارومدار ہے۔ آج کے دور میں جب ہم مہنگائی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، تو دراصل ہم اس نفسیاتی اور وجودی شکست و ریخت کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں جو ایک عام انسان کو روزِ اول سے درپیش ہے۔ مہنگائی صرف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہیں، بلکہ انسانی محنت کی تذلیل اور اس کے خوابوں کی ارزانی ہے۔
میرے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معیشت کی بے ہنگم لہریں انسانی انا اور اس کی بنیادی ضروریات کے درمیان ایک مستقل خلیج پیدا کر رہی ہیں۔ جب بازار کی ہوس ضرورت کے تقدس کو پامال کر دیتی ہے، تو معاشرہ صرف طبقاتی کشمکش کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کے اخلاقی ستون بھی لرزنے لگتے ہیں۔ مہنگائی کا سب سے گہرا زخم معدے پر نہیں بلکہ ضمیر اور وقار پر لگتا ہے۔ جب دسترخوان مختصر ہوتے ہیں، تو فکر کے زاویے بھی محدود ہو جاتے ہیں اور انسان محض ایک ‘معاشی حیوان’ بن کر رہ جاتا ہے جس کی تمام تر تگ و دو بقا کی پست سطح تک سمٹ آتی ہے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی کے سراب میں قیمت کو تو پہچان لیا، مگر قدر کو فراموش کر بیٹھے۔ معیشت کا جبر جب حد سے بڑھتا ہے، تو وہ معاشرے سے تخلیق، برداشت اور محبت جیسے لطیف جذبات چھین لیتا ہے۔ مہنگائی کے اس طوفان میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معیشت کو مابعد الطبیعیاتی اور انسانی تناظر میں دوبارہ ترتیب دیں۔ جب تک نظام کی بنیادیں عدل اور انسانی فلاح پر استوار نہیں ہوں گی، اعداد و شمار کی یہ جادوگری انسانیت کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکے گی۔
حقیقی معاشی استحکام وہ نہیں جو چند تجوریوں میں قید ہو، بلکہ وہ ہے جو ایک عام فرد کے ماتھے سے فکر کی لکیریں مٹا کر اسے جینے کا حوصلہ عطا کرے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *