Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعالشاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعال

پاکستان اور خطے کے امن کیخلاف خطرناک بھارتی سازش بے نقاب

پاکستان کے خلاف ایک منظم اور اسٹریٹجک ڈس انفارمیشن مہم کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بھارت کے کردار کو نمایاں قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس میں افغانستان کے ذریعے معاونت کا بھی دعویٰ سامنے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ مہم خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے چلائی گئی، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانا اور ملک کے عالمی تشخص کو متنازع بنانا تھا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جعلی ایرانی شناختوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ گھڑا گیا۔ اس مقصد کے لیے “INN Iran News” اور “Iran TV” جیسے مبینہ گھوسٹ اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پر امریکہ کے لیے تیل ترسیل جیسے بے بنیاد الزامات عائد کر کے نفرت انگیز پروپیگنڈا پھیلایا گیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بیانیہ تیار کرنے والے اکاؤنٹس بھارت جبکہ اسے پھیلانے والے نیٹ ورکس افغانستان سے آپریٹ ہو رہے تھے۔

ماہرین کے مطابق اس مہم میں “Initiator، Proliferator اور Amplifier” ماڈل کے تحت مرحلہ وار حکمت عملی اپنائی گئی، جس کے ذریعے جھوٹی معلومات کو حقیقت کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ اس کا مقصد پاکستان کو ایران مخالف اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ظاہر کرنا تھا تاکہ مسلم دنیا میں بداعتمادی کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید یہ کہ “Times of Iran News” نامی پلیٹ فارم کو اس مہم کا مرکزی پروپیگنڈا مرکز قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے عالمی سطح پر گمراہ کن معلومات پھیلائی گئیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈس انفارمیشن مہم نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن، سفارتکاری اور استحکام کے خلاف ایک منظم کوشش ہے۔ ان کے مطابق اس سازش کو بے نقاب کرنے سے پاکستان کا عالمی کردار مزید واضح ہوا ہے۔

ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی مہمات کے حوالے سے ہوشیار رہیں اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنائیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *