Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعالشاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعال

اخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتی

اخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتی
تحریر: یاسر دانیال صابری
آج جب میں شہر کی طرف گیا تو راستے میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے دل کو بے حد افسردہ کر دیا۔ ایک ریستوران کے باہر اخبار ٹرے کے نیچے بچھا ہوا تھا، جبکہ بعض جگہوں پر سموسے اور پکوڑے رکھنے کے لیے اخبارات کے ٹکڑے استعمال کیے جا رہے تھے۔ آگے ایک تندور کے پاس پہنچا تو وہاں بھی روٹی اور دیگر اشیا کے ساتھ اخبار استعمال ہوتے دیکھا۔ بظاہر یہ ایک معمولی منظر تھا، لیکن جب میں نے ان اخبارات کو غور سے دیکھنا شروع کیا تو میرے دل پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ انہی صفحات پر بہترین مضامین، علمی و ادبی تحریریں، کالم، قومی و معاشرتی موضوعات کے ساتھ حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت و کردار پر مضمون بھی شائع تھا، کہیں قرآنی آیات، بسم اللہ شریف، صحابہ کرامؓ اور ائمہ کرام کے نام درج تھے۔ وہی مقدس الفاظ اور وہی تحریریں جنہیں لکھنے کے لیے ایک قلم کار نے وقت، محنت اور احساس صرف کیا تھا، آج سموسوں اور پکوڑوں کے نیچے پڑی تھیں۔ اس کے بعد وہی کاغذ سڑک کے کنارے پھینک دیا جاتا ہے، پھر اس پر لوگوں کے قدم پڑتے ہیں، گرد و غبار جمتی ہے اور بالآخر وہ کچرے کا حصہ بن جاتا ہے۔یہ منظر صرف ایک اخبار کی بے قدری نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا آئینہ ہے۔ اخبار محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا۔ اس کے صفحات پر کسی صحافی کی محنت، کسی کالم نگار کے خیالات، کسی شاعر کے جذبات، کسی دانشور کی تحقیق اور کسی خبر کے پیچھے کئی لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ ایک تحریر لکھنے والا اپنے الفاظ کو بڑی ذمہ داری سے قارئین تک پہنچاتا ہے۔ لیکن جب یہی تحریر اگلے دن سموسے، پکوڑے یا دوسری اشیا لپیٹنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور پھر سڑک پر پھینک دی جاتی ہے تو نہ صرف تحریر کی قدر مجروح ہوتی ہے بلکہ اگر اس پر قرآن پاک کی آیات، بسم اللہ، اللہ تعالیٰ کا نام، رسول اکرم ﷺ، صحابہ کرامؓ یا دیگر مقدس شخصیات کے نام درج ہوں تو معاملہ مزید حساس ہو جاتا ہے۔یہاں سوال صرف دکاندار یا تندور والے سے نہیں، بلکہ پورے نظام سے ہے۔ کیا ہمارے اخبارات کی ترسیل اور تقسیم کا کوئی ایسا نظام نہیں ہونا چاہیے جس کے تحت پرانے اخبارات کو محفوظ طریقے سے جمع کیا جائے؟ کیا اخبارات کی ایجنسیاں، نیوز ڈسٹری بیوٹرز اور متعلقہ ادارے اس مسئلے پر توجہ نہیں دے سکتے؟ اگر کسی اخبار کے صفحات پر مقدس آیات یا مذہبی مواد موجود ہو تو اسے عام کاغذ کی طرح کلو کے حساب سے ہر جگہ فروخت کرنا مناسب نہیں۔ کم از کم ایسے اخبارات کو الگ کرکے احترام کے ساتھ محفوظ کرنے، ری سائیکل کرنے یا تلف کرنے کا مناسب طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔اسی طرح ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اخبارات کی ایجنسیاں اور تقسیم کار دکانداروں، تندور مالکان، سموسہ اور پکوڑا فروشوں کو واضح طور پر آگاہ کریں کہ اخبارات کو کھانے پینے کی اشیا کے نیچے رکھنے کے بجائے متبادل کاغذ یا فوڈ گریڈ پیکنگ استعمال کی جائے۔ اگر پرانے اخبارات فروخت کیے جاتے ہیں تو انہیں استعمال کرنے والوں کو بھی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے کہ اخبار کے صفحات کو سڑکوں، نالیوں اور کچرے کے ڈھیروں میں نہ پھینکا جائے۔یہ ذمہ داری صرف اخبارات کی انتظامیہ تک محدود نہیں۔ محکمہ اطلاعات، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کو بھی اس مسئلے کا نوٹس لینا چاہیے۔ اخبارات معاشرے کے آئینے ہوتے ہیں۔ اگر انہی اخبارات میں شائع ہونے والا مقدس اور علمی مواد سڑکوں پر پامال ہوتا رہے تو یہ ہمارے معاشرتی شعور کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ انتظامیہ چاہے تو شہر کے تندوروں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور فوڈ پوائنٹس کو آگاہی دے سکتی ہے کہ اخبارات کو کھانے کے براہِ راست پیکنگ میٹریل کے طور پر استعمال نہ کیا جائے اور پرانے اخبارات کو محفوظ طریقے سے تلف یا ری سائیکل کیا جائے۔آج میں نے ایک اخبار کا صفحہ اٹھایا تو اس پر ایک تحریر موجود تھی جس میں نبی کریم ﷺ کی سیرت کے بارے میں لکھا گیا تھا۔ اسی صفحے پر مقدس نام اور دینی حوالے بھی موجود تھے۔ وہ صفحہ جب کھانے کے نیچے پڑا دیکھا تو دل بھر آیا۔ ایک قلم کار جس نے شاید کئی گھنٹے بیٹھ کر وہ مضمون لکھا ہوگا، ایک صحافی جس نے خبر تیار کی ہوگی، ایک مدیر جس نے اسے ترتیب دیا ہوگا، اور ایک اخبار جس نے اسے ہزاروں لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہوگی، آخرکار وہ تحریر سڑک کے کنارے قدموں تلے روندی جا رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر انسان خود سے سوال کرتا ہے کہ ہم اپنے علم، اپنے قلم اور اپنے مقدس الفاظ کے ساتھ آخر کس قدر بے حس ہو چکے ہیں؟ہمیں اخبار پڑھنے کی عادت کے ساتھ اخبار کی حرمت اور اس میں موجود مواد کی قدر کرنا بھی سیکھنا ہوگا۔ دکانداروں کو بھی چاہیے کہ کھانے پینے کی اشیا کے لیے مناسب پیکنگ میٹریل استعمال کریں۔ اخبار فروش اور ایجنسیاں بھی بچ جانے والے اخبارات کو بے ترتیب انداز میں فروخت کرنے کے بجائے ایک ذمہ دار نظام تشکیل دیں۔ اور سب سے بڑھ کر متعلقہ سرکاری اداروں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔گلگت بلتستان کے شیروں میں خاکی لفافہوں کا استعمال ہونا چاہے گلگت بلتستان کے دینی علماء جناب قاضی نثار صاحب اور سید آغا راحت الحسینی اپنی خطاؤں میں ان چیزوں کا منع کریں ۔گلگت بلتستان کے سی ایم صاحب اس چیز کا نوٹس لے ،سیکرٹری انفارمیشن اس چیز کا نوٹس لے ۔
یہ تحریر کسی فرد یا کاروبار کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اصلاح کی دعوت ہے۔ اگر ہم آج اس معمولی دکھائی دینے والے مسئلے کو نظرانداز کرتے رہے تو کل شاید ہمارے لیے مقدس تحریروں، علم و ادب اور قلم کی حرمت بھی محض ایک معمولی بات بن جائے۔اخبار صرف کاغذ نہیں، یہ علم، فکر، خبر اور قلم کی امانت ہے۔ اور جب اس کے صفحات پر مقدس کلمات درج ہوں تو ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ آئیے، اخبارات کا احترام کریں، تحریروں کی قدر کریں اور مقدس الفاظ کی بے حرمتی روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *