Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعالشاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعال

شاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغ

شاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغ

منشاقاضی
حسبِ منشا

کچھ فن کار صرف فلموں میں کام نہیں کرتے، وہ اپنے عہد کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کے چہرے پر گزرا ہوا زمانہ ٹھہر جاتا ہے، ان کی آواز میں ایک پوری نسل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے اور ان کے کردار وقت کے پردے سے نکل کر لوگوں کی زندگیوں میں اتر جاتے ہیں۔ پاکستانی فلمی دنیا کے معروف اور لیجنڈری اداکار شاہد بھی انہی فن کاروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنے فن، شخصیت اور طویل فلمی سفر سے پاکستان کے سنہری فلمی دور کو ایک منفرد شناخت عطا کی۔
شاہد، جن کا اصل نام شاہد حمید ہے، 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں پاکستانی سینما کے ان مقبول ترین اداکاروں میں شامل رہے جن کے نام پر فلموں کی کامیابی کی امید وابستہ کی جاتی تھی۔ وہ محض ایک ہی طرز کے ہیرو نہیں تھے بلکہ مختلف النوع کرداروں میں اپنی اداکاری کی صلاحیتوں کا اظہار کرتے رہے۔ ان کا فنی سفر دراصل اس پاکستانی سینما کی داستان بھی ہے جس نے عروج دیکھا، عوامی محبت حاصل کی، لاتعداد یادگار کردار تخلیق کیے۔
شاہد نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی اور بعدازاں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اس تعلیمی پس منظر نے ان کی شخصیت میں وہ فکری وسعت پیدا کی جو بعد میں ان کے فن میں بھی دکھائی دی۔ اداکاری ان کیلئے محض شہرت کا وسیلہ نہیں تھی بلکہ ایک ایسا اظہار تھا جس کے ذریعے وہ مختلف انسانی کیفیات، جذبات اور کرداروں کو مجسم کرتے تھے۔
1970ء میں ہدایت کار عباس نوشہ نے انہیں فلم “ایک رات” میں اداکاری کا موقع دیا۔ یہ فلم اگرچہ ریلیز نہ ہوسکی، مگر
نوآموز شاہد کیلئے یہ ابتدائی تجربہ ایک ایسے سفر کا آغاز تھا جو جلد ہی انہیں پاکستانی فلمی صنعت کی صفِ اوّل تک لے جانے والا تھا۔
شاہد کا باقاعدہ فلمی ڈیبیو “آنسو” (1971ء) سے ہوا۔ ایس اے بخاری نے انہیں مرکزی کردار کی پیشکش کی، تاہم اس فلم میں انہوں نے ندیم نامی منفی کردار ادا کیا۔ یہ کردار اس لحاظ سے اہم تھا کہ شاہد نے ابتدا ہی میں یہ ثابت کر دیا کہ اداکار کی اصل طاقت صرف ہیرو بننے میں نہیں، بلکہ کردار کو اس کی داخلی نفسیات کے ساتھ زندہ کرنے میں ہوتی ہے۔
“آنسو” کو تنقیدی اور تجارتی دونوں سطحوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور اس فلم نے شاہد کے لیے پاکستانی فلمی دنیا کے دروازے کھول دیے۔
یوں ایک ایسے فن کار کا سفر شروع ہوا جس نے بعد میں بے شمار کرداروں کو اپنی اداکاری سے زندگی بخشی۔
1970ء اور 1980ء کی دہائیاں پاکستانی فلمی صنعت کے لیے ایک بھرپور اور زرخیز زمانہ تھیں۔ سینما عوامی تفریح کا اہم مرکز تھا، فلمی ستارے گھروں میں زیرِ بحث رہتے تھے اور ایک کامیاب اداکار کی مقبولیت محض پردۂ سیمیں تک محدود نہیں رہتی تھی۔
اسی دور میں شاہد نے اپنی شناخت مستحکم کی۔ انہوں نے تقریباً تین سو کے قریب فلموں میں کام کیا—یہ تعداد مختلف ذرائع اور حوالوں میں مختلف طور پر بیان ہوتی رہی ہے۔
ان کا شمار ان اداکاروں میں ہونے لگا جن کے ساتھ فلمی صنعت کی کامیابی کی امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ ان کی شخصیت میں ایک طرف روایتی فلمی ہیرو کی کشش تھی تو دوسری طرف کردار کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت بھی۔
انہوں نے اپنے عہد کی تمام ممتاز اداکاراؤں، جن میں شبنم، رانی، نشو، سنگیتا، بابرہ شریف، کویتا، آسیہ، عالیہ اور دیبا وغیرہ شامل ہیں کے ساتھ کام کیا۔ ان فلمی جوڑیوں نے پاکستانی سینما کے ایک ایسے دور کو تشکیل دیا جس کی یاد آج بھی فلمی شائقین کے ذہنوں میں زندہ ہے۔
1972ء میں شاہد نے معروف اداکارہ رانی کے ساتھ معروف فلم “امراو جان ادا” میں کام کیا۔ یہ فلم پاکستانی سینما کی اہم اور یادگار فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس فلم میں شاہد کی شرکت نے ان کے فنی مقام کو مزید مضبوط کیا۔
فلمی دنیا میں بعض کردار اداکار کو شہرت دیتے ہیں، مگر بعض فلمیں خود اداکار کی شناخت بن جاتی ہیں۔ “امراو جان ادا” بھی شاہد کے فلمی سفر میں ایک ایسا ہی حوالہ بنی جس نے انہیں سنجیدہ اور نمایاں اداکار کے طور پر مزید مستحکم کیا۔ شاہد کی فلمی زندگی کا حسن یہ تھا کہ وہ ایک ہی سانچے میں محدود نہیں ہوئے۔ انہوں نے رومان، معاشرت، جذبات، کشمکش، ایکشن اور ڈرامائی نوعیت کے مختلف کردار ادا کیے۔
ان کی قابلِ ذکر فلموں میں “شرارت”، “نہلے پہ دہلا”، “بہاروں کی منزل”، “ابھی تو میں جوان ہوں”، “میرے حضور”، “شمعٔ محبت”، “آہِ بے وفا”، “عشقاش”، “دل اور دنیا”، “دھنک”، “دیدار”، “دیکھا جائے گا”، “پیار کا گھرانہ”، “وعدہ”، “نوکریوانی دا ٹھیکہ”، “دہشت خان”، “جادو” اور “مرزا جٹ” سمیت متعدد فلمیں شامل ہیں۔
ان فلموں کی طویل فہرست دراصل صرف ایک اداکار کے کریڈٹ کی فہرست نہیں، بلکہ پاکستان کے ایک پورے فلمی عہد کی تصویری دستاویز ہے۔
فلمی دنیا میں بعض فن کار اپنے اصل نام سے زیادہ اپنے مختصر یا فلمی نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ شاہد بھی انہی فن کاروں میں سے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ “شاہد” محض ایک نام نہیں رہا بلکہ پاکستانی سینما کے ایک مخصوص دور کی علامت بن گیا۔
یہی کسی فن کار کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ اس کا نام اس کے وجود سے آگے نکل کر ایک عہد، ایک اسلوب اور ایک یاد کی نمائندگی کرنے لگے۔
شاہد کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ ان کا نام سن کر ایک ایسی فلمی دنیا کا تصور ابھرتا ہے جہاں بڑے پردے پر کہانی، موسیقی، جذبات، رومانس اور اداکاری ایک دوسرے میں گھل کر عوامی ثقافت کا حصہ بن جاتے تھے۔
شاہد کی فنی خدمات کو نگار ایوارڈز سمیت متعدد اعزازات سے تسلیم کیا گیا۔ انہیں فلم “دیدار” (1974ء) میں بہترین معاون اداکار کے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ فلم “شبانہ” (1976ء) میں بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ بھی ان کے حصے میں آیا۔
اعزاز کسی فن کار کی منزل نہیں ہوتا، لیکن وہ اس سفر کی ایک معتبر گواہی ضرور بن جاتا ہے۔ شاہد کیلئے یہ اعزاز اس بات کا اعتراف تھے کہ ان کی اداکاری نے نہ صرف شائقین کو متاثر کیا بلکہ فلمی حلقوں میں بھی اپنی جگہ بنائی۔
شاہد نے جب فلمی صنعت کے کمزور ہوتے معیار کے باعث خود کو اس میدان سے الگ کیا تو شاید وہ اس حقیقت کا اظہار کر رہے تھے کہ فن صرف روزگار نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اگر پردۂ سیمیں پر پیش کیا جانے والا مواد فن، معیار اور تخلیقی دیانت سے محروم ہوجائے تو ایک حساس فن کار کے لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض موجود رہنا کافی ہے؟
شاہد کا وقفہ اسی سوال کا ایک خاموش جواب محسوس ہوتا ہے۔
وقت گزر گیا، فلمی صنعت نے نئے مراحل دیکھے اور نئی نسل سامنے آئی۔ پھر شاہد نے “وجود” (2018ء) کے ذریعے فلمی دنیا میں واپسی کی۔
یہ واپسی محض ایک اداکار کی واپسی نہیں تھی بلکہ ماضی اور حال کے درمیان ایک پل بھی تھی۔ ایک ایسا فن کار جس نے پاکستانی سینما کے عروج کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، وہ ایک نئے دور کے پردے پر دوبارہ نمودار ہوا۔
فن کار کی عمر بڑھ سکتی ہے، مگر فن کی عمر ہمیشہ وقت کی پابند نہیں ہوتی۔ جسم وقت کے ساتھ بدلتا ہے، مگر ایک حقیقی فن کار کی تخلیقی شناخت اپنی جگہ قائم رہ سکتی ہے۔

شاہد کی فنی خدمات کو پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک بھی سراہا گیا اور انہیں کینیڈا سمیت بیرونِ ملک اعزازات سے نوازا گیا۔ یہ اعتراف اس حقیقت کی علامت ہے کہ اچھا فن جغرافیائی سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔
ایک اداکار اپنی زبان میں کردار ادا کرتا ہے، مگر جذبات کی زبان عالمی ہوتی ہے۔ آنکھ کا دکھ، محبت کی کیفیت، جدائی کی کسک، خوشی کی مسکراہٹ اور انسانی جدوجہد کی کہانی کسی ایک ملک کی میراث نہیں۔

شاہد کی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو ان کا سب سے بڑا ورثہ شاید ان کی فلموں کی تعداد نہیں بلکہ وہ فلمی عہد ہے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔
وہ ایک ایسے زمانے کے گواہ اور کردار رہے جب پاکستانی فلمی صنعت میں بڑے نام، بڑی کہانیاں اور بڑے خواب موجود تھے۔ انہوں نے اپنی نسل کے تقریباً تمام بڑے فلمی رجحانات کے ساتھ سفر کیا اور مختلف کرداروں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔
ان کی کامیابی یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ ایک فن کار کی طاقت صرف اس کے چہرے کی مقبولیت میں نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل قوت کردار کو قبول کرنے، اسے سمجھنے اور اسے شائقین کے سامنے قابلِ یقین بنانے میں ہوتی شاہد بھی ایسا ہی ایک چہرہ ہیں۔
ان کا فلمی سفر پاکستانی سینما کے ایک بھرپور عہد کی علامت ہے۔ انہوں نے تقریباً نصف صدی پر محیط اپنے فنی سفر میں مختلف کرداروں کو نبھایا، متعدد فلموں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا، نگار ایوارڈز سمیت اعزازات حاصل کیے اور پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ میں اپنا نام درج کرایا۔
ان کی کہانی صرف ایک اداکار کی کہانی نہیں؛ یہ پاکستانی سینما کے عروج، زوال اور دوبارہ جنم کی کہانی بھی ہے۔
اور شاید یہی بڑے فن کار کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کا فن خاموش نہیں ہوتا۔ وقت پردہ گرا دیتا ہے، مگر یادیں روشنی کو بجھنے نہیں دیتیں۔ شاہد اسی باقی رہ جانے والی روشنی کا نام ہیں۔ شاہد کے مداحوں کی تعداد ان گنت ہے ۔ شاہد کے ممدوح عجوبہ ء روزگار معالج ڈاکٹر وقار احمد نیاز ہیں ۔ آج ہمارے نامور خطاط و مصور ھارون الرشید اپنے دستِ ہنر سے نکلے ہوئے فن پارے جسے میں جگر پارہ کہتا ہوں شاہد کا پورٹریٹ ان کی آسائش منزل پر پیش کریں گے اور ان یاد گار لمحات کو فرحان یوسف اپنے کیمرے کی آنکھ میں قید کر لے گا جس طرح ڈاکٹر وقار احمد نیاز نے ہم سب کو اپنی شخصیت کا اسیر کر رکھا ۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *