Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعالشاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعال

تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟

تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟

پاکستان بالخصوص پنجاب میں آج کل بیوروکریسی کو ایسے ایسے کاموں پر لگا دیا گیا ہے کہ خود پنجاب کے پارلیمنٹیرین بھی حیران و پریشان دکھائی دیتے ہیں آئے روز اسمبلی میں استحقاق کی تحریکیں جمع ہو رہی ہیں، ارکانِ اسمبلی اپنے ہی افسران کے رویے سے نالاں نظر آتے ہیں اور دوسری طرف بیوروکریسی اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرتی دکھائی دیتی ہے سوشل میڈیا پر اس صورت حال کا خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبے میں حکومت چلانے کے لیے بیوروکریسی کو واقعی یہی کام رہ گئے ہیں؟
ایک طرف بڑے شہروں کے سیوریج نظام کی بہترین کارکردگی کے دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف بارش کے چند قطروں کے بعد سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔ چھوٹے اضلاع میں سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے موجود ہیں، مگر انہیں واگزار کرانے والے ادارے بے بسی کی تصویر بنے دکھائی دیتے ہیں چھوٹے شہروں اور قصبوں میں تجاوزات، پرائس کنٹرول، صفائی، سرکاری اراضی اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے بجائے اکثر معاملات فوٹو سیشن تک محدود نظر آتے ہیں حکومت پنجاب کے دعوے اپنی جگہ، مگر عوام کے سامنے سوال یہ ہے کہ ان دعووں پر عمل درآمد کون کرائے گا؟ اگر انتظامیہ ہر کام کی تصویری تشہیر تو کر رہی ہے لیکن عملی نتیجہ دکھائی نہیں دیتا تو پھر ذمہ دار کون ہے؟
بیوروکریسی کو کتے مارنے والی ٹیموں کی مانیٹرنگ پر لگا دیا جائے اور دوسری طرف سرکاری زمینوں پر قبضے، ناقص سیوریج، تجاوزات، مہنگائی اور شہری مسائل اپنی جگہ موجود رہیں تو یہ صورتحال سنجیدہ سوالات ضرور پیدا کرتی ہے۔ ریاستی مشینری کی ترجیحات آخر طے کون کرتا ہے؟
تعلیم کا شعبہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک منظر پیش کر رہا ہے۔ جماعت نہم کا حالیہ رزلٹ انتہائی تشویشناک ہے۔ کئی علاقوں میں نتائج نے والدین، اساتذہ اور طلبہ سب کو پریشان کر دیا۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی۔ ان کی گفتگو سن کر محسوس ہوا کہ شاید پنجاب کے تعلیمی اداروں میں اب کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے، لیکن چند دن گزرنے کے بعد پھر وہی خاموشی، وہی نظام اور وہی پرانے سوالات
آخر ذمہ دار کون ہے؟
وزیر تعلیم؟ چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن؟ ڈی ای او؟ ڈی ڈی او؟ یا وہ پورا نظام جس میں ہر ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی روایت بن چکی ہے؟
کئی برس سے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اگر کلاس روم میں استاد ہی موجود نہ ہو تو پھر بچوں سے بہترین نتائج کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ تعلیم کسی پریس کانفرنس سے بہتر نہیں ہوتی، اس کے لیے استاد، نگرانی، میرٹ، احتساب اور مستقل پالیسی درکار ہوتی ہے مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ اگر کسی افسر کی انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہوں اور پھر بھی اسے اہم عہدہ دے دیا جائے تو اس سے میرٹ کے بارے میں عوام میں کیا تاثر پیدا ہوگا؟ اگر افسران کی تعیناتی اہلیت اور کارکردگی کے بجائے پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہونے لگے تو پھر نتائج بھی ویسے ہی نکلیں گے جیسے آج ہمارے سامنے ہیں
بقول نصیر ترابی
عجیب ہوتی ہے کارِ سخن بھی دیکھ نصیر
وہاں بھی آ گئے آخر جہاں رسائی نہ تھی
میرٹ کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے
پولیس کا محکمہ بھی اسی المیے کی ایک بڑی مثال ہے پولیس سے وہ کام بھی لیے جا رہے ہیں جو دوسرے محکموں کی ذمہ داری ہیں
مثال کے طور پر بھکاریوں کو پکڑنا یہ کام سوشل ویلفیئر کا ہے جو کئی سالوں سے غیر فعال ہے ،محکمہ سول ڈیفنس جن کا کام LPG کی غیر قانونی فروخت ہے محکمہ آب پاشی،محکمہ ماحولیات،آلودگی وغیرہ وغیرہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پولیس اپنے بنیادی فرائض پر توجہ دینے کے بجائے ہر طرف دوڑتی دکھائی دیتی ہے
خیر پولیس کے اندر رینکر اور پی ایس پی افسران کے درمیان مبینہ فاصلے اور سرد جنگ بھی کوئی نئی بات نہیں۔ ایک طبقہ خود کو انتظامی طور پر کمزور محسوس کرتا ہے اور دوسرا طاقتور۔ اگر ایک ہی ادارے میں افسران کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو تو اس کا اثر فورس کی مجموعی کارکردگی پر لازماً پڑتا ہے عام الفاظ میں لوگ ایک کو نوری دوسری کو ناری مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں ادارے افراد سے نہیں مضبوط نظام سے چلتے ہیں
جون ایلیا نے شاید ایسے ہی حالات کے لیے کہا تھا

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

اور اب ذرا عوام کی طرف آئیے۔ مہنگائی نے پہلے ہی کمر توڑ رکھی ہے، بجلی کے بل لوگوں کے لیے عذاب بن چکے ہیں، لوڈشیڈنگ الگ امتحان ہے اور پٹرول کی قیمتیں مسلسل عوام کے صبر کا امتحان لے رہی ہیں
حکومت پٹرول کی قیمتوں کو قابو کرنے کے بجائے ہر چند روز بعد عوام کو ایک نیا سرپرائز جھٹکا دیتی ہے جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اس معاملے پر احتجاج کرتے کرتے شاید اپنی آواز بھی تھکا لی ہے، مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی
ایک زمانے میں لوگ رات کو بجلی بند ہونے سے پریشان ہوتے تھے، اب پٹرول کی قیمت بڑھنے کا خدشہ بھی رات کی نیند اڑا دیتا ہے۔ رات بارہ بجے قیمتوں کے اعلان کا انتظار یوں کیا جاتا ہے جیسے کسی امتحان کا نتیجہ آنے والا ہو۔ صبح آنکھ کھلتی ہے تو کبھی پٹرول مہنگا ہوتا ہے اور کبھی بجلی اور گیس
یہ کیسا نظام ہے جس میں عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے لیکن حکمرانوں سے کوئی سوال نہیں کرتا؟
حکومتیں صرف دعووں سے نہیں چلتیں۔ بیوروکریسی صرف فائلوں اور اجلاسوں سے نہیں چلتی۔ تعلیم صرف پریس کانفرنسوں سے درست نہیں ہوتی۔ پولیس صرف طاقت کے اظہار کا نام نہیں اور عوام کو ہر مسئلے کا ذمہ دار قرار دے کر ریاست اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتی سوال بہت سادہ ہے اگر اتنے بڑے بڑے عہدے، اتنے بڑے بڑے دفاتر، اتنی بڑی بڑی میٹنگز اور اتنے بڑے بڑے دعوے موجود ہیں تو پھر عملی کام کہاں ہے؟
بقول فیصل عزیز

نوکری کر رہے ہو مدت سے
تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟

البرٹ آئن اسٹائن خوب کہا تھا(ریاست کو فرد کا خادم ہونا چاہیے، فرد کو ریاست کا غلام نہیں)

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *