Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایس ایچ او تھانہ مدرسہ ، شہروز اقبال فرض شناسی، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کی روشن مثالمحمد شاہد خان سنجرانی بلوچ کی پیر سید اخلاق احمد شاہ سے اہم ملاقاتمحمد یسین بھٹی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر منتخب ہوگئےصحافیوں کا تحفظ، آزادی صحافت اور اظہارِ رائے کا حق جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں، جمال شاہ کاکڑقلعہ سیف اللہ میں سیاسی و قبائلی رہنما کے فرزند پر ہینڈ گرنیڈ حملہ، 3 افراد زخمی23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ 2026 کا آغاز 3 نومبر سے مصحف اسکواش کمپلیکس اسلام آباد میں ہوگاپولیس حوالدار یاسر کی مداخلت نے میرا گھر اجاڑ دیا، سابقہ اہلیہ اور اہلکار کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، محمد آصفبابائے سیاست انور سیف اللہ خان کی ملک کیلئے خدمات قابل تعریف ہےفاٹا کو دس سال بعد بھی بندوبستی نظام نہیں مل سکا، انضمام کے نتائج پر سنجیدہ سوالات ہیں، مولانا فضل الرحمٰنسندھ حکومت کے تعاون سے ضلع میرپورخاص اور عمرکوٹ کے غیر رسمی تعلیمی مراکز کے لیے ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی تقسیمایس ایچ او تھانہ مدرسہ ، شہروز اقبال فرض شناسی، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کی روشن مثالمحمد شاہد خان سنجرانی بلوچ کی پیر سید اخلاق احمد شاہ سے اہم ملاقاتمحمد یسین بھٹی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر منتخب ہوگئےصحافیوں کا تحفظ، آزادی صحافت اور اظہارِ رائے کا حق جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں، جمال شاہ کاکڑقلعہ سیف اللہ میں سیاسی و قبائلی رہنما کے فرزند پر ہینڈ گرنیڈ حملہ، 3 افراد زخمی23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ 2026 کا آغاز 3 نومبر سے مصحف اسکواش کمپلیکس اسلام آباد میں ہوگاپولیس حوالدار یاسر کی مداخلت نے میرا گھر اجاڑ دیا، سابقہ اہلیہ اور اہلکار کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، محمد آصفبابائے سیاست انور سیف اللہ خان کی ملک کیلئے خدمات قابل تعریف ہےفاٹا کو دس سال بعد بھی بندوبستی نظام نہیں مل سکا، انضمام کے نتائج پر سنجیدہ سوالات ہیں، مولانا فضل الرحمٰنسندھ حکومت کے تعاون سے ضلع میرپورخاص اور عمرکوٹ کے غیر رسمی تعلیمی مراکز کے لیے ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی تقسیم

پشین، یارو میں تین افراد کو کیوں قتل کیا گیا؟ وجہ سامنے آگئی

​بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے یارو میں ظلم و ستم کی تمام حدیں پار کر دی گئیں۔ ایک سفاک شخص پرویز خان (ولد جلیل مجک والا) نے رشتہ نہ دینے کی بنیاد پر گھر میں گھس کر ایک نوجوان لڑکی اور دو افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا ہے۔
​لڑکی کی منگنی پہلے سے ہو چکی تھی، مگر قاتل زبردستی رشتہ مانگ رہا تھا۔ انکار پر اس ظالم نے چادر اور چار دیواری کی پامالی کرتے ہوئے تین قیمتی جانیں لے لیں۔ مقتولین کا تعلق پشاور سے تھا جو یہاں مقیم تھے، جبکہ قاتل کا تعلق کاکڑ قوم سے بتایا جا رہا ہے۔
​ہم اعلیٰ حکام، آئی جی بلوچستان اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس درندے کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور اسے ایسی سزا دی جائے جو دوسروں کے لیے نشانِ عبرت ہو۔ کیا ہمارا قانون اتنا کمزور ہے کہ کوئی بھی سرِ عام کسی کے گھر میں گھس کر قتل و غارت کر دے؟
​اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ اعلیٰ ایوانوں تک یہ آواز پہنچے اور مظلوموں کو انصاف مل سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *