Banner
Daily Sahafat Quetta
September 18, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں اے جی آفس کے آڈٹ افسر فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروعاکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی تقریبِ پذیرائی،میر نواز سولنگی کی کوئٹہ آمد ، آغاگل کی جانب سے عشائیہکوئٹہ تا چمن پسنجر ٹرین فوری بحال کی جائے،اسلم اچکزئی14 سالہ اسد عاطف نے انڈر 14 نیشنل پیڈل چیمپئن شپ جیت لیحرمین شریفین کا تحفظ ایمان کا حصہ ہے، لاکھوں کارکن دفاع کیلئے تیار ہیں،مولانا عبدالقادرلونیبارود کے ڈھیر پر ناچتی دنیاابن خلدون کی تاریخ دانگی اور جدید افغان و عالمگیر جغرافیائی سیاستملگری استادان ضلع چمن کی رکنیت سازی مہم 20 ستمبر سے شروع ہوگیکوہاٹ پولیس لائن دھماکا، وزیراعلیٰ بلوچستان کی شدید مذمتصحافی نصیر احمد کاکڑ پر حملے کے خلاف گنداخہ میں احتجاجکوئٹہ میں اے جی آفس کے آڈٹ افسر فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروعاکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی تقریبِ پذیرائی،میر نواز سولنگی کی کوئٹہ آمد ، آغاگل کی جانب سے عشائیہکوئٹہ تا چمن پسنجر ٹرین فوری بحال کی جائے،اسلم اچکزئی14 سالہ اسد عاطف نے انڈر 14 نیشنل پیڈل چیمپئن شپ جیت لیحرمین شریفین کا تحفظ ایمان کا حصہ ہے، لاکھوں کارکن دفاع کیلئے تیار ہیں،مولانا عبدالقادرلونیبارود کے ڈھیر پر ناچتی دنیاابن خلدون کی تاریخ دانگی اور جدید افغان و عالمگیر جغرافیائی سیاستملگری استادان ضلع چمن کی رکنیت سازی مہم 20 ستمبر سے شروع ہوگیکوہاٹ پولیس لائن دھماکا، وزیراعلیٰ بلوچستان کی شدید مذمتصحافی نصیر احمد کاکڑ پر حملے کے خلاف گنداخہ میں احتجاج

ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کتنے ارب ڈالر پھونک چکا ہے؟ ٹی وی پروگرام میں انکشاف

واشنگٹن: United States اور Iran کے درمیان جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی ثابت ہونے لگی ہے اور اب تک اس پر تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر Kevin Hassett نے امریکی ٹی وی پروگرام Face the Nation میں بتایا کہ 28 فروری سے ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا بھاری مالی اخراجات برداشت کر رہا ہے۔

پروگرام کی میزبان Margaret Brennan نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہو چکے تھے، تاہم کیون ہیسیٹ اس بارے میں تفصیلی وضاحت نہیں کر سکے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد نمایاں اضافہ کیا جائے گا جس سے جنگی اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ادھر ایران کی جانب سے Strait of Hormuz بند کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم سمندری راستے سے گزرتی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اب خود بھی بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے ایران کی ممکنہ کارروائیوں سے امریکی معیشت کو ماضی کی طرح شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔

دوسری جانب جنگ کے مقاصد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ Donald Trump کی انتظامیہ ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی بات کر رہی تھی، بعد میں میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا جبکہ اب ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *