دلوں کی دھڑکنوں کے تحفظ کا عہد
پناہ کا سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر کا باوقار انداز
منشاقاضی
حسبِ منشا
راولپنڈی کی خوشگوار شام اُس وقت ایک بامعنی مقصد کے رنگ میں ڈھل گئی جب پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) کے زیرِ اہتمام سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر کی پروقار تقریب معروف مقام Blue Lagoon میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب نہ صرف عطیات جمع کرنے کا ایک اہم موقع تھی بلکہ دل کے امراض سے بچاؤ اور صحتِ قلب کے فروغ کے عزم کی تجدید کا عملی اظہار بھی تھی۔
تقریب کی صدارت صدر پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر AFIC/NIHD، میجر جنرل ڈاکٹر مسعود الرحمٰن کیانی نے کی۔ جبکہ مہمانِ خصوصی شہزادہ عالمگیر اور مہمانِ خاص ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا تھے ۔ میجر جنرل مسعود الرحمٰن کیانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دل کے امراض پاکستان میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکے ہیں اور اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیئے اجتماعی شعور، صحت مند طرزِ زندگی اور مؤثر پالیسی سازی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پناہ گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے، پالیسی سازوں سے مکالمہ کرنے اور صحت بخش معاشرتی رویوں کو فروغ دینے کے لیئے مسلسل کوشاں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی، تمباکو نوشی اور میٹھے مشروبات کا بے دریغ استعمال دل کے امراض میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ پناہ کا مشن نہ صرف علاج بلکہ احتیاط اور آگاہی کو عام کرنا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔ میجر جنرل کیانی نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مالی و اخلاقی معاونت اس قومی مشن کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
تقریب میں ممتاز معالجین، ماہرینِ امراضِ قلب، سماجی رہنما، کاروباری شخصیات، مخیر حضرات اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پناہ کی خدمات کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صحتِ عامہ کے اس مشن میں ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور سے آئے ہوئے مہمانِ خاص ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا کی گفتگو کی جستجو میں حاضرین کی آرزو جاگ اٹھی اور انہوں نے جس انداز و اسلوب میں بیوہ عورتوں کے زیورات نہ بکنے کا عہد کیا وہ سیدھا دل میں اتر گیا کیونکہ وہ بات جو کرتے ہیں دل سے کرتے ہیں اور دل سے بات کرنے والے کی بات اثر رکھتی ہے۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا کا کمال یہ ہے کہ وہ ہزار طاقت کے باوجود اور سو دلیلوں کے باوجود اپنے لہجے میں عاجزی اور ادب کی لذت رکھتے ہیں دعا کی خوشبو بسا کر رکھنا ان کا کمال ہے ۔سیف الدین سیف نے کہا تھا ۔
سیف اندازِ بیان رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
مہمانِ خصوصی ملک کے نامور سیاسی سائنسدان شہزادہ عالمگیر نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ میں نے ہارمنی سمارٹ ہاوْسنگ سوسائٹی میں دو سو کنال پر محیط جو میڈیکل سٹی کی بنیاد رکھی ہے ۔ اس میں پناہ کی جتنی ضرورت ہو گی وہ میری طرف سے ہو گی اور پناہ کے زیر اہتمام تعمیر ہونے والے ہسپتال کی تعمیر میں بھی اپنے حصے کی شمع فروزاں کرتا رہوں گا ۔
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امراضِ قلب کی روک تھام کے لیئے تعلیمی اداروں، میڈیا اور حکومتی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پناہ کے سیکرٹری جنرل چوھدری ثنا اللہ گھمن پر اللہ کا احسان ہے کہ وہ عقل سے آگے جنون کی حد تک کام کرتے ہیں اور ان کے جنون نواز کارناموں کا اثر آج عشائیہ تقریب میں صاف نظر آ رہا تھا لوگوں نے دل کھول کر پناہ کے لیئے اپنے جیب و داماں میں پڑے ہوئے خزانے پناہ پر نچھاور کر دیئے ۔ ڈیڑھ گھنٹے کا دورانیہ اور 90 لاکھ روپیہ پناہ کے رخِ تاباں پر نچھاور ہو جانا عجوبہ نہیں تو اور کیا ہے ۔ پرشکوہ تقریب میں شخصیات ہی شخصیات نظر آہیں ۔ سابق مئر راولپنڈی جناب طارق کیانی ۔ کمانڈنٹ اور سرجن جنرل AFIC میجر جنرل فرحت عباس ۔ لیفٹینیٹ کرنل زاہد بشیر ۔ انجینئر ایم ۔ حمیر ۔ ممتاز کالم نگار پناہ پر جن کی تحریریں نور کی تنویریں ہیں اور پناہ کی پناہ میں وہ بہت کام کر رہے ہیں میری مراد جناب ارشد شاہد سماجی شخصیت سے ہے ۔ جناب ارشد شاہد کی قلمی معاونت اور پناہ کی نیک نامی کے سفیر کی حیثیت سے آپ کا کردار چراغ حق کی طرح روشن ہے۔ بنت حوا فاوْنڈیشن کی سربراہ شاھین اختر اور محترمہ افشاں تحسین دل ہی دل میں پناہ کی سریع الحرکت کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کر رہی تھیں ۔
آخر میں ڈاکٹر عبدالقیوم اعوان کا بیان اور مہمانوں کے لیئے شکریہ ادا کرنے والے سریع الاثر کلمات سیدھے دل میں اتر گئے ۔
ڈنر کے دوران پناہ کی سالانہ کارکردگی پر مشتمل ایک تفصیلی پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی جس میں تنظیم کی پالیسی کامیابیوں، آگاہی مہمات، سیمینارز، ورکشاپس اور تحقیقی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ حاضرین کو بتایا گیا کہ پناہ نے شوگر سویٹینڈ بیوریجز کے استعمال میں کمی، تمباکو کنٹرول پالیسیوں اور صحت مند خوراک کے فروغ کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس موقع پر عطیات دینے والے مخیر حضرات کو خصوصی شیلڈز اور اسناد سے بھی نوازا گیا۔
تقریب کا ماحول نہایت باوقار، منظم اور مقصدیت سے بھرپور تھا۔ شرکاء کے مابین صحتِ قلب کے موضوع پر غیر رسمی تبادلۂ خیال بھی جاری رہا جس سے اس امر کا احساس نمایاں ہوا کہ معاشرے کے مختلف طبقات اس قومی مسئلے کے حل کے لیئے سنجیدہ اور متحرک ہیں۔
اختتام پر ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا کی دعا کی تاثیر نے سامعین کو اسیر کر لیا ۔ رانجھا صاحب نے رقت انگیز لہجے میں کہا کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے اور قوم کو دل کے امراض جیسی مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھے۔ سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر محض ایک تقریب نہ تھی بلکہ یہ اس عزم کی علامت تھی کہ جب معاشرہ ایک مقصد کے تحت متحد ہو جائے تو صحت مند اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ ماہنامہ ہالی ڈے لاہور کی مینجنگ ایڈیٹر بشریٰ ارشاد کی طرف سے راقم کے کالموں کو جو پناہ کی کارکردگی پر لکھے گئے ہیں انہیں مزین فریم میں آراستہ کرنے والے مصور و خطاط ہارون الرشید کی طرف سے پناہ کے سربراہ میجر جنرل ڈاکٹر مسعود الرحمن کیانی کو مہمانِ خاص ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا اور مہمانِ خصوصی شہزادہ عالمگیر کے دستِ مبارک سے دیئے گئے ۔



