کالم از ڈاکٹر علی اصغر عرفانی
آج کا نوجوان دِگرگوں، پریشان اور اکثر اپنے مستقبل سے خوفزدہ نظر آتا ہے۔ یہ پریشانی محض موڈ کا اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ ایک گہرے سماجی و نفسیاتی بحران کی علامت ہے۔ چند دہائیاں پہلے تک نوجوانوں کا ہدف زیادہ واضح اور راستے نسبتاً ہموار ہوا کرتے تھے۔ آج وہ ایک ایسے جال میں پھنسا ہے جس کے کئی تار ہیں۔
معاشی دباؤ: خوابوں کی محرومی
سب سے بڑا دباؤ معاشی ہے۔روزگار کے مواقع تعلیم کے ساتھ منصفانہ رفتار سے نہیں بڑھ رہے۔ ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی بے روزگاری یا کم تنخواہ پر نوکریاں نوجوانوں کے حوصلے پست کر دیتی ہیں۔ مہنگائی نے گھر بنانے، گاڑی خریدنے یا ایک آسان زندگی گزارنے کے خواب کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔ والدین کی توقعات اور خود اپنی خواہشات کے درمیان پِسا نوجوان ذہنی طور پر تھک جاتا ہے۔
تعلیمی نظام: رٹّوں کی بھٹی
ہمارا تعلیمی نظام تخلیقی سوچ کی بجائے رٹّہ لگوانے پر مرکوز ہے۔نوجوان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ صرف اچھے گریڈز ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔ اس دباؤ میں وہ اپنی اصل صلاحیتوں، دلچسپیوں اور خوابوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہر طرف مقابلہ بازی ہے، چاہے امتحان ہو یا نوکری کا انٹرویو۔ اس مسلسل ریس میں وہ اندر سے خالی ہوتا جاتا ہے۔
سماجی توقعات: روایتی زنجیریں
سماج کی طرف سے بھاری توقعات نوجوان کے لیے اضافی بوجھ بن جاتی ہیں۔کیریئر کے انتخاب میں خاندانی دباؤ، شادی جیسے فیصلوں میں روایتی پابندیاں، اور “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف نوجوان کی ذہنی آزادی سلب کر لیتا ہے۔ وہ اپنی مرضی کی راہ چلنا چاہتا ہے، مگر سماجی جکڑ بندھن اسے اپنے وجود کو پرکھنے نہیں دیتے۔
ٹیکنالوجی: دو دھاری تلوار
ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسانی آسان کی ہے،مگر اس کے منفی اثرات بھی گہرے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دکھاوے کی زندگی، ہر وقت موازنہ کا احساس، اور “فیل ہونے کا ڈر” نوجوانوں میں احساسِ کمتری اور تنہائی پیدا کر رہا ہے۔ ہر وقت کی منفی خبریں، عدم برداشت اور سیاسی انتشار ان کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔
خاندانی نظام کا بکھراؤ
جوڑے خاندانوں کے پھیلاؤ اور روزگار کی دوڑ نے والدین اور اولاد کے درمیان گہرے جذباتی تعلق کو کمزور کیا ہے۔بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو اپنی پریشانیاں کسی سے بانٹ نہیں پاتے۔ نتیجہ خود اعتمادی کی کمی، ڈپریشن اور بے چینی کی صورت میں نکلتا ہے۔
نوجوان صلاحیتوں کا سمندر ہیں
ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کی پریشانیوں کو سمجھا جائے۔انہیں مشورے دینے کی بجائے سنیں۔ تعلیمی نظام میں تخلیقی سوچ اور ہنر پر توجہ دی جائے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔ سماجی دباؤ کم کر کے انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی دی جائے۔ ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات ہو اور پیشہ ورانہ مدد کو معیوب نہ سمجھا جائے۔
نوجوان قوم کا سرمایہ ہیں۔ اگر ہم ان کی نفسیاتی و معاشی ضروریات کو سنجیدگی سے نہ سمجھے تو یہ سرمایہ زنگ آلود ہو کر رہ جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ نوجوانوں کی آواز کو صرف سنیں نہیں، سمجھیں بھی۔



