ریڈیو کا عالمی دن اور ریڈ زون کا مشاعرہ
۔ریڈیو پاکستان کوئٹہ کا آغاز
1956ء میں سریاب روڈ کی ایک نجی عمارت سے ہوا اور رفاءماعہ میں اطلاعاتی , معلوماتی ، تفریحی اور قومی و ملی٘ نظریاتی ابلاغ کا ایک لامحدود اور تواتر کے ساتھ شروع ہوا ۔کل 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا گیا ۔ اِس مناسبت سے کوئٹہ کی اسٹیشن ڈائریکٹر صدیقہ خان نے خصوصی نشریات کے علاؤہ کوئٹہ کے شعراء کرام کو مدعو کیا اور ایک خوبصورت مشاعرے کا اہتمام بھی کیا ۔اِسی طرح خضدار ریڈیو نے بھی علاقائی زبانوں میں پروگرام ترتیب دیئے ۔
ایک پٗر وقار مشاعرے کا انعقاد ریڈ زون نے کیا جس میں مقامی شعراء کے علاؤہ جہاں آراء تبسم نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔
بلوچستان رائٹر گلڈ(برگ) نے لاہور میں منعقدہ 50 سالہ ادبیات اطفال کے تقریبات میں بھرپور شرکت کر کے بلوچستان کے نمائندگی کی ۔
چلڈرن ایوارڈز کی تقریب میں ملک بھر سے نامور بچوں کے ادیبوں نے شرکت کی ۔ جنھیں سال 2025/26 میں بہترین کہانیاں لکھنے اور ادبِ اطفال کیلیے اعلیٰ خدمات سر انجام دینے پر ایوارڈز سے نوازا ، بہت سے اہلِ قلم کو بہترین ادیب کتب کی تخلیق پر “صاحبِ کتاب” ایوارڈز سے نوازا ۔
ادبیاتِ اطفال کی سہہ روزہ تقریبات چلڈرن لٹریری فورم ٫ کتاب گھر لاہور اور ماہنامہ جگنو ٫اور ماہنامہ بچوں کی دنیا نے کیا تھا ۔ تقریبات کی کامیابی کا سہرہ معروف ادیب , ناشر اور بچوں کے میگزین کے ایڈیٹر فہیم عالم کے سر سجتا ہے ۔جس کیلیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ تقریب میں بڑی تعداد میں معززمہمانوں کو خوش آمدید کہا گیا ۔
بچوں کے ادیبوں کے لیے سجائی گئی مذکورہ تقریب میں اعزازات , انعامات اور ایوارڈز دیئے گئے ۔
ماہ نامہ “بچوں کا باغ” کے پچاس سال مکمل ہونے پر پر وقار تقریب کا اہتمام ہوا ۔
ڈاکٹر عمران مشتاق جو بچوں کے ادب کے حوالے سے عالمی شہرت کے حامل ہیں اٗن کی پچاس سال ادبی خدمات پر ”ڈاکٹر مشتاق حسین ملک لائف اچیومنٹ ادبی ایوارڈ“ پیش کیا گیا ۔
ایوارڈز برائے ماہ نامہ “بچوں کا باغ” سال 2025ء کیلیے اہلِ قلم کو بہترین کہانیاں لکھنے پر خصوصی ایوارڈز دیئے گئے
تقریبات لاہور انٹرنیشنل بک فئیر
ایکسپو سینٹر، ہال ایمپوریم مال، جوہر ٹاؤن، لاہور میں شایانِ شان انداز میں ہوئیں جس میں کثیر تعداد میں ادب سے شغف رکھنے والوں کے علاؤہ سینکڑوں ادباء ، شعراء اور میدانِ رسائل و جرائد نے شرکت کی ۔ ماہنامہ بچوں کا باغ کے 50 سال پرعبید رضا نے بڑا سیر حاصل مضمون لکھا ہے جسے بے حد پسند کیا گیا ۔ عبید رضا نے لکھا کہ اردو میں بچوں کے رسائل کی تاریخ سوا صدی پر محیط ہے۔ اگرچہ بہت سے رسائل وقت کے ساتھ بند ہو گئے، لیکن چند ایک نے طویل سفر طے کیا۔ پاکستان میں اس وقت “تعلیم و تربیت” سب سے قدیم بچوں کا رسالہ ہے جو 1941ء سے ”مسلسل“ شائع ہو رہا ہے۔ اس کے بعد “بچوں کی دنیا” 1948ء سے، “ہمدرد نونہال” 1953ء سے اور “بقعۂ نور” جو 1962ء سے شائع ہو رہے ہیں۔ اس فہرست میں اگلا نمبر “بچوں کا باغ” اور “جگنو” کا ہے، دونوں ہی اپنی گولڈن جوبلی منا چکے ہیں۔ دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ ان پانچ قدیم رسائل میں سے تین (بچوں کی دنیا، بچوں کا باغ اور جگنو) اس وقت محمد فہیم عالم کی زیرِ سرپرستی چلڈرن لٹریری سوسائٹی کے تحت “بچوں کا کتاب گھر” لاہور سے پابندی کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں۔ (یاد رہے ہفت روزہ پھول 1909ء میں شروع ہو کر 1958ء میں بند ہوا اور پھر بتیس سال کے طویل وقفے کے بعد ادارہ نوائے وقت نے اس کے حقوق اشاعت یا ٹریڈ مارک ”پھول“ کے حقوق خرید کر اسے دوبارہ شروع کیا، جس کو اب مسلسل 35 سال لکھا اور بولا جائے گا۔)
ماہنامہ “بچوں کا باغ” کا آغاز اپریل 1975ء میں ایم یوسف نے کیا، جو اس سے قبل ”بچوں کی دنیا“ میں بطور چیف آرٹسٹ وابستہ تھے۔ ان کی وفات کے بعد رسالہ ان کے بیٹے عنایت اللّٰه نے سنبھالا اور پھر تاج انصاری و سلطان محمد تنولی کے سپرد ہوا۔ آخر کار 2018ء میں اس کے حقوق محمد فہیم عالم صاحب نے خرید لیے۔
50 سالہ دورِ ادارت میں ایم یوسف کے علاوہ عبید اللہ محمود، عنایت اللہ اور ڈاکٹر عمران مشتاق نے بطور مدیرِ اعلیٰ، ڈاکٹر سلمان غزالی نے بطور مدیر اور محمد فہیم عالم نے بطور گروپ ایڈیٹرخدمات انجام دیں۔
انتظامی ٹیم میں کلثوم بانو، غزالہ شبنم، ناصر زیدی جیسے نامور ادیب بھی شامل رہے۔
ابتدائی دور میں اس رسالے پر ”بچوں کی دنیا“ کی گہری چھاپ تھی۔ مشہورِ زمانہ سلسلے “ننھے کے کارنامے” کی طرز پر بچوں کا باغ میں “منّے کی کہانی” شروع کی گئی، جس کے مرکزی کردار کی تصویر بھی وہی رکھی گئی جو اصل ”ننھے“ کی تھی۔ ایم یوسف کا تخلیق کردہ سلسلہ ”فولادی میاں“ لگ بھگ چالیس سال تک شائع ہوتا رہا۔ سراج انور کا ناول “کالی دنیا” اور دیگر مقبول سلسلے وار کہانیوں جیسے “ٹلو میاں”، “ٹنکو منکو” اور “چھلاوا” نے رسالے کی پہچان بنائی۔ “چھلاوا” کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اسے 1993ء میں دوبارہ شائع کرنا پڑا۔
رسالے کی روایت رہی ہے کہ ہر سال اپریل (یا ابتدائی سالوں میں جنوری) میں خاص نمبر شائع کیا جاتا تھا۔ ماضی میں، قائد اعظم نمبر، خوفناک نمبر، حقوقِ اطفال نمبر اور آزادی نمبر نمایاں رہے۔ محمد فہیم عالم کی زیر اہتمام موجودہ انتظامیہ نے روایت کو جدید رنگ دیتے ہوئے بھوت نمبر، امی نمبر، خواب نمبر، الف لیلہ نمبر اور اے آئی (AI) نمبر جیسے اچھوتے موضوعات پر خاص شمارے نکالے ہیں۔ اور اسی ماہ بچوں کا باغ کا اب تک کا ضخیم ترین شمارہ ”ڈاکٹر عمران مشتاق نمبر“ شائع ہوا ہے۔
90 کی دہائی کے اواخر میں رسالے کا معیار کچھ گر گیا تھا اور یہ صرف جنوں پریوں کی کہانیوں تک محدود ہو گیا تھا، تاہم اب اس میں اسلامی و تاریخی کہانیاں، سائنس فکشن، تراجم اور معلوماتی مضامین باقاعدگی سے شامل کیے جاتے ہیں۔ اس طویل سفر میں رحمان مذنب، ظہور الدین بٹ، سراج انور، اشتیاق احمد، چاند بی بی، مجیب ظفر انوار حمدی، مقبول احمد دہلوی، اور ناصر زیدی سمیت اردو ادب کے کثیر معتبر ناموں نے قلمی تعاون کیا ہے۔
بلوچستان رائٹرز گلڈ(برگ) نے ادبِ اطفال کی تقریبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے فہیم عالم کو مبارک باد پیش کی اور اٗن صلاحیتوں کو سراہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،**۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادبیاتِ اطفال کے 50 سال , برگ کی لاہور میں تقریب



