Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
لورالائی: پولیس کی کارروائی، 600 کلوگرام اومان بوٹی برآمد، دو ملزمان گرفتارغلط چالان پر ٹریفک افسران کے خلاف کارروائی ہوگی، ڈی ایس پی سجاد آغاکوئٹہ: ویٹرنری ریسرچ سینٹر کی نئی عمارت مقررہ مدت میں مکمل کی جائے، میر فیصل خان جمالیگنداخہ میں پینے کے پانی، بجلی، تعلیم اور صحت کے مسائل پر کھلی کچہری، ڈپٹی کمشنر رمضان پلال کا فوری حل کا حکمزندگی کے دائرے کا سبقکوئٹہ میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا انڈس ہسپتال کا دورہ، تنخواہوں سے محروم گارڈز کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانیزرعی انکم ٹیکس اور سرکاری واجبات کی وصولی میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ڈپٹی کمشنرلورالائیروہڑی میونسپل کمیٹی میں مبینہ بدعنوانیوں کے باعث نکاسیٔ آب کا نظام متاثر، گندا پانی سڑکوں پر جمع ہونے لگاکوئٹہ: پشتون آباد میں رہائشی گھر میں آتشزدگی، کوئی نقصان نہیں ہوالورالائی: پولیس کی کارروائی، 600 کلوگرام اومان بوٹی برآمد، دو ملزمان گرفتارغلط چالان پر ٹریفک افسران کے خلاف کارروائی ہوگی، ڈی ایس پی سجاد آغاکوئٹہ: ویٹرنری ریسرچ سینٹر کی نئی عمارت مقررہ مدت میں مکمل کی جائے، میر فیصل خان جمالیگنداخہ میں پینے کے پانی، بجلی، تعلیم اور صحت کے مسائل پر کھلی کچہری، ڈپٹی کمشنر رمضان پلال کا فوری حل کا حکمزندگی کے دائرے کا سبقکوئٹہ میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا انڈس ہسپتال کا دورہ، تنخواہوں سے محروم گارڈز کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانیزرعی انکم ٹیکس اور سرکاری واجبات کی وصولی میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ڈپٹی کمشنرلورالائیروہڑی میونسپل کمیٹی میں مبینہ بدعنوانیوں کے باعث نکاسیٔ آب کا نظام متاثر، گندا پانی سڑکوں پر جمع ہونے لگاکوئٹہ: پشتون آباد میں رہائشی گھر میں آتشزدگی، کوئی نقصان نہیں ہوا

زندگی کے دائرے کا سبق

زندگی کے دائرے کا سبق
تحریر، ایس ایم مرموی

زندگی ہمیں وہیں واپس لے آتی ہے جہاں سے ہم نے سفر شروع کیا تھا مگر اس وقت تک ہم پہلے جیسے نہیں رہتے
زندگی بھی ایک دائرے کے مانند ہے ایک ایسا دائرہ جس کا آغاز بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے اور جس کا اختتام بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں سے ہماری کہانی شروع ہوئی تھی انسان پیدا ہوتا ہے انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتا ہے دوسروں کے سہارے زندگی کی پہلی سیڑھیاں چڑھتا ہے پھر وقت کے ساتھ اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا ہے اسے لگتا ہے کہ اب وہ کسی کا محتاج نہیں اب وہ اپنی منزلوں کا خود مالک ہے مگر زندگی کے سفر میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ پھر کسی سہارے کسی محبت، کسی خلوص اور کسی اپنے کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔
آج جو شخص کسی کمزور کو دیکھ کر مسکرا رہا ہے کل ممکن ہے وہ خود کسی کی مدد کا محتاج ہو آج جس کے پاس اختیار ہے کل اس کے ہاتھ خالی بھی ہو سکتے ہیں آج جسے اپنی دولت، عہدے اور تعلقات پر غرور ہے، کل وہی دولت اس کے لیے بے معنی ہو سکتی ہے اور اسے کسی ایسے شخص کے دو میٹھے بول درکار ہوں جو کبھی اس کی نظر میں معمولی حیثیت رکھتا تھا زندگی کا دائرہ ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ کسی کے ساتھ کیا گیا سلوک محض ایک لمحے کا واقعہ نہیں ہوتا وہ ہمارے کردار کا حصہ بن جاتا ہے ہم کسی کے دل میں محبت بوئیں تو ممکن ہے برسوں بعد وہ محبت کسی اور راستے سے ہماری زندگی میں واپس آ جائے ہم کسی کو دکھ دیں تو ضروری نہیں کہ وہی شخص ہمیں جواب دے مگر ہمارے رویّوں کا اثر کسی نہ کسی صورت ہماری دنیا میں ضرور ظاہر ہو سکتا ہے یہ کوئی لازمی قانون نہیں کہ ہر نیکی کا بدلہ فوراً ملے یا ہر برائی کی سزا اسی دنیا میں دکھائی دے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہمارے اعمال دوسروں کی زندگیوں اور ہمارے اپنے کردار پر نشان چھوڑ جاتے ہیں اسی لیے انسان کو اپنی زبان اپنے لہجے اور اپنے اختیار کے استعمال میں محتاط رہنا چاہیے کسی کی غربت کا مذاق نہ اڑائیں کسی کی مجبوری کو اپنی طاقت کا مظاہرہ نہ بنائیں کسی کے خلوص کو اس کی کمزوری نہ سمجھیں اور کسی کی خاموشی کو اپنی فتح قرار نہ دیں دنیا میں بہت سے لوگ اپنی تکلیف بیان نہیں کرتے مگر ان کی خاموشی اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ انہیں درد محسوس نہیں ہوتا۔
زندگی کے دائرے کا ایک اور گہرا سبق رشتوں سے متعلق ہے ہم اکثر ان لوگوں کی قدر اس وقت نہیں کرتے جو ہمارے قریب ہوتے ہیں والدین کی موجودگی کو معمول سمجھتے ہیں بہن بھائیوں کی محبت کو معمولی جانتے ہیں مخلص دوستوں کے وقت کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرتے ہیں اور اپنوں کی قربانیوں کو اپنا حق سمجھ بیٹھتے ہیں پھر وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھتا ہے کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں کچھ فاصلے اختیار کر لیتے ہیں اور کچھ ہمارے ساتھ ہوتے ہوئے بھی پہلے جیسے نہیں رہتے تب احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی دولت وہ چیزیں نہیں تھیں جنہیں ہم حاصل کرنے کے لیے بھاگتے رہے بلکہ وہ لوگ تھے جنہیں ہم اپنی مصروفیات کے درمیان وقت نہ دے سکے کاش انسان یہ حقیقت وقت پر سمجھ لے کہ ہر رشتہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ہر ملاقات آخری ملاقات بھی ہو سکتی ہے اور ہر معافی مانگنے کا موقع ہمیشہ میسر نہیں آتا اس لیے جہاں ممکن ہو دل صاف رکھیے غلطی ہو جائے تو معافی مانگ لیجیے کسی کا دل دکھایا ہو تو اس کی تلافی کیجیے اور جو لوگ آپ کے لیے اہم ہیں انہیں اپنی اہمیت کا احساس انکی موجودگی میں دلائیے ان کی جدائی کے بعد نہیں
لیکن زندگی کا دائرہ صرف واپسی محرومی اور آزمائش کا نام بھی نہیں اس میں امید کا ایک روشن پہلو بھی موجود ہے کبھی انسان اپنی منزل سے بھٹک جاتا ہے کبھی اپنی غلطیوں کے باعث ایسے راستوں پر نکل پڑتا ہے جہاں اسے صرف پچھتاوا ملتا ہے مگر جب تک سانس باقی ہے واپسی کا امکان باقی رہتا ہے انسان اپنی سوچ بدل سکتا ہے اپنے کردار کی اصلاح کر سکتا ہے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کر سکتا ہے اور اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے اصل دانش مندی یہ نہیں کہ انسان کبھی غلطی نہ کرے بلکہ یہ ہے کہ غلطی کے بعد اپنی انا کو حقیقت تسلیم کرنے کی راہ میں حائل نہ ہونے دے جو شخص اپنی غلطی ماننا سیکھ لیتا ہے وہ زندگی کے دائرے میں گھومتے ہوئے بھی آگے بڑھتا رہتا ہے اور جو اپنی ہر غلطی کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے وہ بظاہر بہت سفر کرتا ہے مگر اکثر وہیں کھڑا رہتا ہے جہاں سے اس نے آغاز کیا تھا لیکن زندگی کا دائرہ صرف واپسی محرومی اور آزمائش کا نام بھی نہیں اس میں امید کا ایک روشن پہلو بھی موجود ہے کبھی انسان اپنی منزل سے بھٹک جاتا ہے کبھی اپنی غلطیوں کے باعث ایسے راستوں پر نکل پڑتا ہے جہاں اسے صرف پچھتاوا ملتا ہے مگر جب تک سانس باقی ہے واپسی کا امکان باقی رہتا ہے انسان اپنی سوچ بدل سکتا ہے اپنے کردار کی اصلاح کر سکتا ہے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کر سکتا ہے اور اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔
اصل دانش مندی یہ نہیں کہ انسان کبھی غلطی نہ کرے بلکہ یہ ہے کہ غلطی کے بعد اپنی انا کو حقیقت تسلیم کرنے کی راہ میں حائل نہ ہونے دے جو شخص اپنی غلطی ماننا سیکھ لیتا ہے، وہ زندگی کے دائرے میں گھومتے ہوئے بھی آگے بڑھتا رہتا ہے اور جو اپنی ہر غلطی کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے وہ بظاہر بہت سفر کرتا ہے مگر اکثر وہیں کھڑا رہتا ہے جہاں سے اس نے آغاز کیا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ زندگی کا دائرہ ہمیں صرف آغاز کی طرف واپس نہیں لاتا بلکہ ہر چکر کے ساتھ ایک نئی سمجھ ایک نیا تجربہ اور ایک نئی پہچان بھی عطا کر سکتا ہے بچپن میں ہم دنیا کو معصوم نگاہوں سے دیکھتے ہیں جوانی میں اسے جیتنے کی کوشش کرتے ہیں اور تجربے کے بعد سمجھتے ہیں کہ دنیا کو جیتنے سے زیادہ ضروری اپنے نفس پر قابو پانا اپنے کردار کو سنوارنا اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے ہم دوبارہ کسی موڑ پر تنہا ہو سکتے ہیں مگر پہلے والی تنہائی اور تجربے کے بعد کی تنہائی میں فرق ہوتا ہے پہلے ہم تنہائی سے گھبراتے ہیں بعد میں اسی تنہائی میں اپنے آپ سے ملاقات کرنا سیکھ لیتے ہیں پہلے ہم دوسروں کی رائے سے اپنی قدر متعین کرتے ہیں بعد میں سمجھتے ہیں کہ انسان کی اصل قیمت اس کے ضمیر کردار اور نیت میں پوشیدہ ہوتی ہے زندگی ہمیں بار بار مختلف چہروں مختلف حالات اور مختلف تجربات کے ذریعے ایک ہی حقیقت سمجھانے کی کوشش کرتی ہے تکبر انسان کو گراتا ہے عاجزی اسے بلند کرتی ہے نفرت فاصلے پیدا کرتی ہے محبت دلوں کو قریب لاتی ہے خود غرضی انسان کو تنہا کرتی ہے ایثار اسے دوسروں کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے اور پھر ایک دن انسان کو یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ جس زمین پر وہ اپنی کامیابیوں کے محل تعمیر کرتا رہا اسی زمین میں ایک دن اسے لوٹ جانا ہے وہ دولت منصب، شہرت اور اختیار جن کے حصول میں اس نے اپنی عمر گزار دی سب یہیں رہ جائیں گے اس کے ساتھ اگر کچھ جائے گا تو اس کے اعمال کا حساب ہوگا اور دنیا میں اگر کچھ باقی رہے گا تو اس کے کردار کی خوشبو اس کے خلوص کی یاد اور ان لوگوں کی دعائیں ہوں گی جن کی زندگی میں اس نے آسانیاں پیدا کیں یہی وہ مقام ہے جہاں زندگی کا دائرہ اپنی سب سے گہری معنویت آشکار کرتا ہے انسان مٹی سے اٹھتا ہے اسی مٹی پر چلتا ہے اسی مٹی میں اپنی خواہشوں کے بیج بوتا ہے اور بالآخر اسی مٹی کی آغوش میں واپس چلا جاتا ہے مگر اس مختصر سفر میں وہ اپنے کردار سے چاہے تو کسی کے لیے سایہ بن سکتا ہے کسی کے لیے روشنی کسی کے لیے امید اور کسی کے لیے زندگی بھر کی ایک خوبصورت یاد۔
زندگی کے دائرے کا اصل سبق یہی ہے کہ واپسی تو سب کی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم واپس جانے سے پہلے دنیا کو کیا دے کر جائیں گے کسی کے لیے آسانی کسی کے لیے محبت کسی کے لیے انصاف کسی کے لیے حوصلہ یا کم از کم اتنی انسانیت کہ ہمارے وجود سے کسی دوسرے انسان کی زندگی مشکل نہ ہو۔
زندگی کو صرف حاصل کرنے کا سفر نہ بنائیے اسے بانٹنے کا ہنر بھی سیکھیے وقت بدلنے سے پہلے اپنے رویّے بدل لیجیے رشتے ٹوٹنے سے پہلے انہیں سنبھال لیجیے اور موت کی حقیقت سامنے آنے سے پہلے زندگی کی قدر کرنا سیکھ لیجیے کیونکہ دائرہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ایک دن اس کا سفر مکمل ہو جاتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اپنے پیچھے صرف گزرے ہوئے وقت کی داستان چھوڑ جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنی محبت اپنے کردار اور اپنی سچائی کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہتے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *