Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنیامن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچخود ساختہ معاشی حصار اور سرحدی جمودنواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنیامن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچخود ساختہ معاشی حصار اور سرحدی جمود

9/11 کا بہانہ اور امت کی بربادی

محمدنسیم رنزوریار

9/11 کا بہانہ اور امت کی بربادی

قارئین کرام، 9/11 سے پہلے افغانستان اور خطے میں زندگی اگرچہ غربت میں تھی لیکن ایک فطری اسلامی اور قبائلی توازن موجود تھا، تعلیم کا نظام دو دھاروں پر تھا، ایک طرف سرکاری اسکول جہاں استاد اپنے شاگرد کو بیٹا سمجھ کر پڑھاتا تھا اور طالب علم استاد کی جوتیاں سیدھی کرنے کو عزت سمجھتا تھا، دوسری طرف مدرسہ جہاں ملا امام مسجد کا مرکز تھا، ہر گاؤں میں مدرسہ مسجد کے ساتھ منسلک تھا جہاں حفظ، فقہ اور عربی کے ساتھ ساتھ اخلاق و ادب سکھایا جاتا تھا، معاشرتی زندگی سادہ تھی، حجرہ سیاست کا مرکز تھا، تجارت ایران اور پاکستان کے راستے آزادانہ بارڈر ٹریڈ کے ذریعے ہوتی تھی، لوگ اپنے مال مویشی اور زمینداری پر گزارہ کرتے تھے، سیاست میں جرگہ سسٹم تھا جہاں فیصلے قرآن و جرگہ کے مطابق ہوتے تھے، ڈرون کا خوف نہیں تھا، آسمان پر صرف پرندے اڑتے تھے۔ پھر 11 ستمبر 2001 کا واقعہ ہوا اور امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کا بہانہ بنا لیا، بظاہر مقصد اسامہ بن لادن تھا لیکن اصل میں پورے خطے کا نقشہ بدل دیا گیا، امریکی آمد کے بعد پہلا وار تعلیم پر ہوا، Brown University کے Costs of War Project 2023 کے مطابق افغانستان میں 20 سال میں 400 سے زائد اسکول اور مدارس بمباری میں تباہ ہوئے، ہزاروں اساتذہ اور طلباء شہید یا بے گھر ہوئے، مدرسہ کو دہشت گردی کی فیکٹری کہا گیا اور ملا کو دہشت گرد، جس سے استاد اور شاگرد کے مقدس رشتے میں خوف پیدا ہوا، اسکولوں میں نصاب بدلا گیا، امریکی NGO’s نے ایسا نصاب متعارف کرایا جس میں جہاد اور اسلامی تاریخ کو نکال دیا گیا، دوسرا وار معاشرتی زندگی پر ہوا، حجرہ ویران ہو گیا کیونکہ رات کو ڈرون حملوں کے خوف سے لوگ جمع نہیں ہوتے تھے، Bureau of Investigative Journalism کے مطابق 2004 سے 2020 تک پاکستان اور افغانستان میں 14 ہزار سے زائد ڈرون حملوں میں 9 ہزار سے زائد عام شہری جان سے گئے ہیں۔جن میں 2200 بچے تھے، اس خوف نے پشتون ولی اور مہمان نوازی تک کو ختم کر دیا، تیسرا وار معیشت اور تجارت پر ہوا، سرحدوں پر باڑ، کابل اور کراچی تک نیٹو سپلائی نے مقامی تجارت کو تباہ کر دیا، ورلڈ بینک 2019 کے مطابق افغانستان کی 72 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی جبکہ 2001 سے پہلے یہ شرح 40 فیصد تھی، چوتھا وار سیاست پر ہوا، جرگہ سسٹم کی جگہ کرپٹ انتظامیہ اور جنگی سرداروں کو لایا گیا، جس سے عام مسلمان کو سیاست سے نفرت ہو گئی۔ سب سے بڑا اثر فکری تھا، امریکہ نے میڈیا کے ذریعے ہر داڑھی والے کو طالبان اور ہر مدرسے کو خطرہ بنا کر پیش کیا، جس سے دنیا بھر میں اسلاموفوبیا 300 فیصد بڑھا، Georgetown University کی رپورٹ کے مطابق 2001 کے بعد امریکہ میں مسلم مخالف جرائم میں 1600 فیصد اضافہ ہوا۔ لیکن تاریخ کا عجیب انتقام یہ ہے کہ اسی جارحیت نے اسلام کو مزید پھیلا دیا، امریکہ کے اپنے فوجیوں نے اسلام قبول کیا، خود امریکی دفاعی ادارے Pentagon کی رپورٹ 2021 مانتی ہے کہ 20 سال، 2.3 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں نہ امن آیا نہ دہشت گردی ختم ہوئی، بلکہ طالبان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آ گئے۔ آج امریکہ جا چکا ہے لیکن اس کے چھوڑے ہوئے زخم باقی ہیں، اسکول تباہ، مدرسہ بدنام، استاد بے توقیر، شاگرد کنفیوز، تجارت بند، حجرہ ویران، لیکن ایک سبق واضح ہے کہ بموں سے نظریہ نہیں مرتا، 20 سالہ قبضے کے بعد بھی افغانستان میں اذان اسی طرح گونجتی ہے جیسے پہلے گونجتی تھی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *