Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنیامن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچخود ساختہ معاشی حصار اور سرحدی جمودنواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنیامن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچخود ساختہ معاشی حصار اور سرحدی جمود

خود ساختہ معاشی حصار اور سرحدی جمود

احمدخان اچکزئی

خود ساختہ معاشی حصار اور سرحدی جمود

محترم قارئین، ​پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انوکھے اور پیچیدہ معاشی و جغرافیائی بحران سے گزر رہا ہے۔ ملک کی تمام زمینی سرحدوں پر چھائی غیر یقینی صورتحال نے قومی معیشت، صنعتی پہئے اور بالخصوص سرحدی علاقوں کے عوام کی زندگیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ موجودہ معاشی ناکہ بندی کسی بیرونی طاقت یا بین الاقوامی پابندیوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ پاکستان کی اپنی داخلی پالیسیوں، انتظامی سستی اور سیکیورٹی کو تجارت پر غیر متوازن ترجیح دینے کا شاخسانہ ہے۔​افغان سرحد کی صورتحال اس بگاڑ کی سب سے بڑی مثال ہے۔ تورخم، چمن، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ جیسے تمام اہم تجارتی راستے 12 اکتوبر 2025ء سے مسلسل بند ہیں۔ حکومتِ پاکستان کا موقف ہے کہ جب تک افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین سے کالعدم ٹی ٹی پی (TTP) کی طرف سے ہونے والی دہشت گردی روکنے کے لیے عمل در آمد نہیں کرتی، سرحدیں نہیں کھولی جائیں گی۔ تاہم اس فیصلے کا براہِ راست اثر تجارت پر پڑا ہے۔ اسٹیٹ بینک، ڈان اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق پاک افغان دوطرفہ تجارت 1.3 ارب ڈالر سے گر کر محض 358 ملین ڈالر رہ گئی ہے، یعنی 74 فیصد کی ریکارڈ کمی درج کی گئی ہے۔ صرف تورخم بارڈر کی بندش سے قومی خزانے اور تاجروں کو 300 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ کراچی پورٹ پر ہزاروں کنٹینرز اور ٹرک مہینوں سے پھنسے ہوئے ہیں جن کی اب نیلامی نوبت پہنچ چکی ہے، جبکہ چمن چیمبر آف کامرس کے مطابق صرف چمن کے تاجروں کو 100 دنوں میں 100 ملین ڈالر سے زائد کا چٹکا لگا ہے۔​سرحدوں کی اس بندش کے اثرات صرف خیبر پختونخوا یا بلوچستان تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کی لہریں پنجاب اور سندھ کی صنعتوں تک پہنچ چکی ہیں۔ وہ کارخانے جو افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو سیمنٹ، ادویات، کپڑا، سٹیل اور دیگر مصنوعات برآمد کرتے تھے، اب مارکیٹیں چھن جانے کے باعث ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران سے ملحقہ سرحد، تفتان اور گبد-رمدان پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلی کہ ایران نے سرحد بند کی ہے، لیکن ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے خود وضاحت کی ہے کہ ایرانی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ اصل رکاوٹ پاکستان کی طرف سے عائد کردہ نیا ای-فارم (E-Form) سسٹم اور انتظامی سستی ہے، جس کی وجہ سے ایل پی جی (LPG) اور تجارتی مال سے لدے گئے ہزاروں ٹرک ہفتوں سے سرحد پر گل سڑ رہے ہیں۔ اوپر سے بلوچستان میں سیکیورٹی کے نامساعد حالات اور تجارتی گاڑیوں پر حملوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔​اگر مشرقی سرحد کا جائزہ لیا جائے تو ہندوستان کے ساتھ واہگہ بارڈر 2019ء سے ہی عملی طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے معطل ہے۔ یوں پاکستان اپنی تمام زمینی سرحدی تجارتی راہداریوں سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ لیکن ملک کے اندر صنعتی تباہی کی ذمہ دار صرف بارڈر بندش نہیں بلکہ حکومت کی معاشی پالیسیاں بھی ہیں۔ تاجر اور صنعتکار اس وقت بجلی کے ہوش ربا نرخوں، 18 سے 22 فیصد تک سیلز ٹیکس کے بھاری بوجھ اور ایف بی آر (FBR) کے چھاپوں سے نالاں ہیں۔ حال ہی میں سانگھڑ اور ٹنڈو آدم میں ایف بی آر حکام نے بغیر کسی سابقہ نوٹس کے فیکٹریوں کے تالے توڑ کر ریکارڈ قبضے میں لیا، جس پر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (PCGA) نے شدید احتجاج کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران 100 سے زائد جننگ فیکٹریاں، 500 سے زائد دیسی جننگ یونٹس، 700 آئل ملز اور 175 ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں۔​تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے سرحدوں کی بندش کو سیکیورٹی کا مؤثر ذریعہ سمجھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس تمام تر سختی کے باوجود نہ تو دہشت گردی کے واقعات رکے اور نہ ہی سیکیورٹی کے حالات بہتر ہوئے۔ برعکس اس کے، اس کا تمام تر خمیادہ ان لاکھوں نوجوانوں، دہاڑی دار مزدوروں اور تاجروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو روزانہ چمن اور تورخم کی منڈیوں میں روزی روٹی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیکیورٹی معیشت کی قیمت پر حاصل نہیں کی جا سکتی، بلکہ معاشی استحکام ہی پائیدار سیکیورٹی کی اصل ضامن ہے۔ اگر فوری طور پر تجارتی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہ کی گئی تو یہ خود ساختہ معاشی حصار ملک کو مزید گہرے دلدل میں دھکیل دے گا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *