Banner
Daily Sahafat Quetta
October 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایل پی جی کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکانمظفرآباد میں مسافر جیپ گہری کھائی میں جاگری، 2 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحقذہانت اور قابلیت کو غربت یا امیری میں قید نہیں ہونا چاہیے، عظیم سفر کا آغاز کر رہے ہیں، وزیر اعظممیروانی قوم کی بیٹیاں، کامیابیوں کا روشن استعارہلاہور کا قدیمی ورثہ ہماری شناخت ہے،شہید کرنے کا ارادہ قابل مذمت ہے،پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہکھیل انتہا پسندی کی سوچ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،فیصل کریم کنڈیخضدار میں دو دوست پراسرار طور پر قتل، مختلف مقامات سے لاشیں برآمدکنڈ ملیر میں فائر بریگیڈ نہ ہونے سے حادثات کا خطرہ، مستقل اسٹیشن قائم کرنے کا مطالبہسرکاری اسپتالوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز؛ ملک میں طبی ایمرجنسی کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائیاں، فتنۃ الخوارج کا دہشتگرد کمانڈ رعادل شاہ عرف درویش ہلاکایل پی جی کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکانمظفرآباد میں مسافر جیپ گہری کھائی میں جاگری، 2 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحقذہانت اور قابلیت کو غربت یا امیری میں قید نہیں ہونا چاہیے، عظیم سفر کا آغاز کر رہے ہیں، وزیر اعظممیروانی قوم کی بیٹیاں، کامیابیوں کا روشن استعارہلاہور کا قدیمی ورثہ ہماری شناخت ہے،شہید کرنے کا ارادہ قابل مذمت ہے،پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہکھیل انتہا پسندی کی سوچ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،فیصل کریم کنڈیخضدار میں دو دوست پراسرار طور پر قتل، مختلف مقامات سے لاشیں برآمدکنڈ ملیر میں فائر بریگیڈ نہ ہونے سے حادثات کا خطرہ، مستقل اسٹیشن قائم کرنے کا مطالبہسرکاری اسپتالوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز؛ ملک میں طبی ایمرجنسی کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائیاں، فتنۃ الخوارج کا دہشتگرد کمانڈ رعادل شاہ عرف درویش ہلاک

اینکر اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

کراچی (کورٹ رپورٹر): اینکر پرسن اور عوام راج پارٹی کے سربراہ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سماعت کے دوران ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے گرفتاری کے طریقہ کار اور مقدمے کے اندراج پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ڈیجیٹل سائبر کا معاملہ ہے اور جس انداز میں کارروائی کی گئی، وہ درست نہیں۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت میں درخواست کی سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر بھی پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کی رات لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں واقع ان کے گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا۔ ان کے مطابق اقرار الحسن لاہور کے مستقل رہائشی ہیں، تاہم ایف آئی آر میں گرفتاری کا وقت درج نہیں کیا گیا۔

میاں علی اشفاق نے کہا کہ اقرار الحسن کے سوشل میڈیا پیجز پر ایک ویڈیو اپ لوڈ ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا، لیکن اس معاملے میں کوئی شکایت کنندہ یا متاثرہ شخص سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو اپ لوڈ ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد رپورٹ درج کی گئی اور مقدمے کی بنیاد ایک سورس رپورٹ کو بنایا گیا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہر شہری کو حالات کے مطابق اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق اقرار الحسن نے گورنر راج کے خلاف جو بات کی، وہ غیرقانونی نہیں تھی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار کا جائزہ لے کر اقرار الحسن کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔ سماعت کے دوران متنازع ویڈیو کا ٹرانسکرپٹ بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

گرفتاری کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات

میاں علی اشفاق نے عدالت میں سوال اٹھایا کہ کیا اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کرنے کے لیے پنجاب کے محکمہ داخلہ سے اجازت لی گئی تھی اور کیا مقامی عدالت سے راہداری ریمانڈ حاصل کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے جسمانی ریمانڈ تک کی کارروائی میں قانونی تقاضے پورے کیے جانے پر سوالات موجود ہیں۔

وکیل نے یہ بھی کہا کہ تفتیشی افسر کے لاہور جانے اور گرفتاری میں کردار سے متعلق ریکارڈ کی جانچ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اقرار الحسن کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سمیت دیگر آلات پہلے ہی این سی سی آئی اے کے پاس ہیں، اس لیے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری نہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے فرح اقرار کو بھی روسٹرم پر بلا کر ان کا مؤقف سنا۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتاری کے وقت تفتیشی افسر موقع پر موجود نہیں تھا۔

دوسری جانب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور موبائل فون سمیت دیگر ڈیجیٹل آلات کی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 10 جی بی ڈیٹا کا تجزیہ کرنا باقی ہے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ خبر کے مطابق فیصلہ آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *